ایل جی منوج سنہاکواترپردیش کی سیاست میں اہم رول دئے جانے کا امکان

یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف پارٹی اور عوامی سطح پر مخالفت میں اضافہ،

ریاستی کابینہ میں بھاری ردوبدل کے چرچے

اتر پردیش میں موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف عوامی سطح کے ساتھ ساتھ پارٹی ورکروں اور عہدیداروں کی بڑھتی مخالفت کے بیچ جموں وکشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کو مرکزی سرکار کی جانب سے واپس بلانے اور انہیں یوپی میں بی جے پی کی جانب سے ریاستی سیاست میں اہم ذمہ داری سونپنے کی خبریں زور پکڑنے لگی ہیں۔منوج سنہا کو ریاست میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کیلئے وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے بی جے پی امیدوار کے طور نامزد کرنے کے بھی چرچے ہیں۔واضح رہے کہ منوج سنہا یوپی کے غازی آباد حلقے سے تین بار لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے ہیں اور 2017 میں موصوف وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے بی جے پی کے مضبوط امیدوار مانے جاتے تھے تاہم آر ایس ایس کی مبینہ مداخلت کے بعد قرعہ فال یوگی آدتیہ ناتھ کے حق میں نکلا جو خود 2014 کے لوک سبھا الیکشن کے دوران ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یو پی میں بی جے پی کے اندر ان دنوں سخت رسہ کشی چل رہی ہے جس کا راست اثر سرکار کے کام کاج پر بھی پڑا ہواہے۔پارٹی سے وابستہ اکثر ورکر اور عہدیداراں یوگی کے طرز حکمرانی سے بد دل ہوئے ہیں اور ان کو فوری طور ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔پارٹی کے بیشتر لیڈر ریاستی کابینہ میں فوری ردوبدل کابھی مطالبہ کررہے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ یوگی نے ان کوششوں کو ابھی تک کامیاب نہیں ہونے دیا ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے علاوہ پارٹی صدر جے پی نڈا کو بھی چلینج کرنے لگے ہیں۔جبکہ ان کے ساتھ ایک لابی یوگی کو ملک کے اگلے وزیر اعظم کے طور بھی پیش کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔منوج سنہا جموں وکشمیر کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کرنے کے بعد7 اگست 2020کو جی سی مرمو کی جگہ ایل جی کے طور نامزد ہوئے تھے۔ جبکہ موصوف 2014سے 2016تک نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی سرکار میں کمیونی کیشن کے وزیر مملکت بھی رہے ہیں۔منوج سنہا کو ایک دیانتدار سیاست دان مانا جارہاہے اور ایک سروے میں ان کا نام بھارت کے 7دیانتدار سیاستدانوں میں شماردکھایاگیا۔موصوف کو گزشتہ روز مرکزی سرکار نے نئی دلی طلب کیا جہاں انہوں نے سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کے سرکردہ عہدیداروں سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران جموں وکشمیر کی مجموعی صورتحال کے ساتھ ساتھ امرناتھ یاترا کے انعقاد پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ (ایس/این/ایس)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں