305

یمن کے جزیرے پر پراسرار طریقے سے بننے والا متنازع ایئربیس

جنگ زدہ مشرق وسطیٰ کے ملک یمن کے ایک جزیرے پر گزشتہ ڈیڑھ سال سے پراسرار طریقے سے تعمیر ہونے والے ایئربیس کے مرمتی کام نے خطے میں نئی پریشانی کو جنم دیا ہے۔

یمن گزشتہ چند سال سے شورش اور جنگ سے متاثر ہے اور وہاں پر سعودی عرب کی قیادت میں متعدد اسلامی ممالک کی فوج حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ یمن میں جنگ جاری ہے، تب وہاں کے ایک آتش فشاں جزیرے پر جو اہم سمندری راستے پر موجود ہے، وہاں ایک ایئر بیس کی تعمیر جاری ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس’ (اے پی) کے مطابق یمن کے ضلع ذباب کے قریب ایشیا و افریقہ کو الگ کرنے والے سمندری راستے پر موجود جزیرے پر ایئر بیس کی تعمیر جاری ہے، یہ جزیرہ آتش فشاں پہاڑوں کے باعث معروف ہے۔

دو براعظموں کے سمندری راستے الگ کرنے والے آبنائے باب المندب کے کنارے پر بننے والی ایئربیس کو جغرافیائی حدود کی وجہ سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

مذکورہ ایئربیس پر گزشتہ ایک سال سے پراسرار طریقے سے تعمیراتی کام جاری ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی بھی حکومت یا ملک نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ اڈے کی تعمیر کر رہے ہیں۔

اے پی کے مطابق پراسرار طریقے سے تعمیر ہونے والے ایئربیس کے حوالے سے اب عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمن کے حکومتی گروپ نے کہا کہ آتش فشاں جزیرے پر تعمیر ہونے والے اڈے کے پیچھے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہے۔

تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ یو اے ای نے واضح طور پر تسلیم نہیں کیا کہ وہ مذکورہ ایئربیس کی تعمیر میں ملوث ہے اور نہ ہی اماراتی حکام نے خبر رساں ادارے کو اس ضمن میں کوئی جواب دیا۔

اس سے قبل 2019 میں یو اے ای اعلان کر چکا ہے کہ وہ خود کو سعودی عرب کی سربراہی میں یمن میں لڑنے والے فوجی اتحاد سے الگ کرے گا، جس کے بعد ہی مذکورہ ایئربیس کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔

امریکا میں موجود یو اے ای کے سفارت خانے سمیت ابوظبی میں موجود اماراتی حکومت کے وزارت خارجہ کے دفتر نے ایئربیس کی تعمیر کے حوالے سے اے پی کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔

اسی حوالے سے’ الجزیرہ’ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگرچہ تاحال ایئربیس کی تعمیر کا اعتراف کسی بھی ملک نے نہیں کیا مگر جس جگہ وہ تعمیر کیا جا رہا ہے، کئی سال پہلے اس جگہ کے انتظامی امور یو اے ای کے پاس تھے۔

یمنی حکومت کے عہدیداروں کا بھی خیال ہے کہ مذکورہ ایئربیس کی تعمیر کے پیچھے امارات کا کردار ہوگا۔

خیال رہے کہ مذکورہ ایئربیس بحیرہ احمر کے قریب آبنائے باب المندب کے کنارے آتش فشاں جزیرے پر تعمیر کیا جا رہا ہے جو اس وقت یمن کی حدود میں واقع ہے۔

مذکورہ ایئربیس کے مقام کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہاں سے پورے یمن میں فضائی آپریشن آسانی سے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ مقام کو سمندری راستے کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، یہاں سے افریقہ اور ایشیا کی جانب سے آسانی سے سمندری ٹریفک جا سکتی ہے۔

مذکورہ بحری راستے سے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک سمیت مشرقی افریقہ تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں