7

مولوی عمر فاروق ۔۔۔ کشمیر کے سیاسی صحراؤں میں صحرانوردیاں !

رشید پروینؔ سوپور

پچھلے ہفتے میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایکس پروفائل سے ’چیئر مین حریت کانفرنس‘کا ٹیگ ہٹالیا ہے، ظاہر ہے کہ اس عہدے سے سبکدوشی ہی حاصل کی ہے، بڑی بات تھی اور اس کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہی ہوگی لیکن کشمیری عوام نے اپنی وہی روِش جاری رکھی جو خصو صاً ۲۰۱۹ سے اس نے اپنا رکھی ہے۔ عوامی سطح پر نہ تو ہنگامے ہی نظر آئے اور نہ ہی کسی گروپ سے کوئی خاص ردِ عمل ہی ظاہر ہوا۔ ہم نے بھی بڑی دیر کے بعد اس سے موضوعِ سخن بنالیا ہے کیونکہ ہم سمجھتے تھے مولوی عمر اس کی وضاحت جلد یا بدیر تفصیل کے ساتھ دیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے جنوری کی پہلی جمعہ کو اپنا ایک ویڈیو پیغام تفصیل کے ساتھ فیس بک پر ڈالا، جس میں ان کی طرف سے اپنے اس عمل کی بھر پور طریقے سے وضاحت موجود ہے۔ اتفاق اور اختلاف ناگزیر ہوتا ہے ،لیکن انہوں نے ویڈیو بنانے کی یہ سادہ وضاحت دی ہے کہ جنوری کے پہلے ہی جمعہ کو انہیں جامع مسجد آنے سے روک دیا گیا۔ ویڈیو میں کچھ اہم نقاط ہیں جنہیں آپ سن کر اصل حقائق تک پہنچ سکتے ہیں اس چھوٹے سے مضمون میں ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’’ میرے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ‘ ہم شروع سے ہی مدلل اور مخلصانہ مذاکرات کے قائل ہیں۔ ہم نے اٹل جی اور دوسرے بھارتی لیڈراں سے بصد خلوص کئی بارمذاکرات کئے ہیں اور اب بھی ہم مذاکرات کو ہی مسئلہ کشمیر کا حل سمجھتے ہیں۔ ہم نے کہاں اپنا موقف بدل دیا؟ ہم تب بھی جموں وکشمیر پر ڈائلاگ کے قائل تھے ،آج بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات کے بغیر پائیدار امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ ۲۰۱۹ کے بعد سرکار کا موقف ہے کہ کشمیری اپنا راستہ بدل چکے ہیں اور ماضی سے پیچھا چھڑا چکے ہیں۔ ہمارے بارے میں بھی یہی سوچا جارہا کہ ہم بھی اپنے راستے سے ہٹ چکے ہیں، ایسا نہیں ہے !ہم کہتے ہیں پہلگام جیسے کئی واقعات ۲۰۱۹ کے بعد بھی رقم ہوچکے ہیں اور ابھی پچھلے مہینے ہی لال قلعہ سانحہ نے ہم سب کو ہلاکر رکھ دیا ہے اور ہم نے اس کی بھر پور مذمت بھی کی ۔ لیکن اس کا مطلب ہے کہ کہیں کچھ وجہ آج بھی ہے جو امن کی ہواؤں کو اس دھرتی پر اترنے سے روک رہی ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد پھر ایک بار دو ممالک آمنے سامنے آگئے تھے ، ایک بڑی اور تباہ کُن جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔
بہر حال اور بھی کئی نقاط اس ویڈیو میں موجود ہیں جن پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے اور مجموعی طور پر انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے کوئی مؤقف نہیں بدلا ہے ، ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیںجہاں پہلے تھے اور آج بھی مذاکرات کے قائل ہیں۔ ان کی ویڈیو کا متن یہی تھا ، جیسا کہ ہم سمجھے ہیں۔ آپ خود بھی سن کر نتائج پر پہنچ سکتے ہیں۔ عام لوگ بس یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی مجبوری تھی یا انہوں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے ؟، ایسا اگر ہو بھی توعوام اپنی امنگوں اور جستجوؤں کو نہیں بلکہ اپنے لیڈر حضرات سے اپنی راہیں الگ کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پہلے مرحوم شیخ عبداللہ نے بھی ایک بار ۱۹۷۵ کے اندرا عبداللہ ایکارڑ کے بعد اپنے بائیس سالہ سفر کو صحرانوردی ہی قرار دیا تھا اور جموں و کشمیر کے چیف منسٹر ہوئے تھے۔ کئی برس تک اقتدار پر براجمان بھی رہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ تخت ان کے لئے کانٹوں کی سیج ہی ثابت ہوا تھا۔ لگ بھگ تیس برسوں کی جدوجہد کے بعد کچھ پارٹیاں اور ان کے سر براہاں بھی یہی سمجھتے ہیں کہ میر واعظ بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ بھی صحرانوردی ہی کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کشمیری سیاسی ریگستان اتنا وسیع ، طویل و عریض ہے کہ مدتوں بعد ہر قافلہ اسی ایک نقطے پر آکر تھم جاتا ہے۔
حریت ع کو ویسے بھی گ کے مقابلے میں اعتدال پسند گروپ کے طور سے جانا جاتا تھا ، اور شاید انہوں نے یہ سچ ہی فرمایا ہے کہ کبھی ڈائیلاگ کے دروازے بند نہیں کئے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کانگریس دور میں کبھی کبھی مذاکرات کی بات ہوا کرتی تھی جو موجودہ سرکار کے دور میں اب لایعنی سی بات ہے۔ بہر حال میرے خیال میں اپنی پارٹی کے نائب صدر غلام حسن میرنے اس پر جو تبصرہ کیا ہے اس میں کچھ حقائق بھی ہیںاور شکل و صورت کے لحاظ سے تبصرے سے شاید کچھ مطابقت بھی رکھتی ہے ، لیکن بہر حال وہ پلڑا مارتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ ایک طرح سے مولوی نے بھی اپنے ماضی کو صحرانوردی ہی تسلیم کیاہے ، ان کی سوچ کے مطابق یہی ایک نقطہ حقیقت ہے اور ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عمر کا یہ فیصلہ جموں و کشمیرمیں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا عکاس ہے ، جو علیحدگی پسند بیانئے کے خاتمے اور نئی دلی کے ساتھ شمولیت پر مبنی ایک نئے باب کے آغاز کا اشارہ ہے۔ مطلب یہ کہ وہ سیاسی گروہ جو کبھی بھارت کے آ ئینی دائرہ کار سے باہر نعرے لگاتے تھے ،اب انہوں نے یہ قبول کیا ہے اور سمجھ لیا ہے کہ ان کا مستقبل بھارت کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کشمیر میں اب سیاسی گفتگومتصادم کے بجائے بقائے باہمی، وقار اور ترقی کے گرد گھوم رہی ہے ۔ الفاظ میں فرق ہوسکتا ہے لیکن متن یہی تھا ، ظاہر ہے کہ کچھ مین سٹریم پارٹیوں نے اسی طرح کا رد عمل دیا اور باقی حریت کانفرنس کے ساتھ جتنی بھی سیاسی پارٹیا ںتھیں انہوں نے خاموشی ہی کو بہتر سمجھا۔ ویسے بھی ہم سب کو معلوم ہے کہ حریت کانفرنس میں شامل تمام پارٹیاں اس وقت شجر ممنوع ہیں اور پابندی کے دورانیہ سے گذر رہی ہیں۔ ان کے سربراہاں یا تو قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں یا بالکل خاموش ہیں اور عوام بھی سیاسی لحاظ سے اپنی خاموشی ہی بہتر اور افضل جان کر سیاسی صحراؤں کی صحرانوریوں کو دیکھتے ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنے ذہن میں امڈتے نہ کسی طوفان پر تبصرہ کرنے کے موڈ میں ہیں نہ اپنی زباں بندی کو ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ بہت سارے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی کشمیری عوام نے متحدہ محاذ کے بینر تلے ہندوستانی آئین کے اور آئین کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے یہاں انتخابات میں بھر پور شرکت کی تھی لیکن مرکز نے این سی سرکار کو اقتدار میں لانے کی خاطر جو پاپڑ بیلے اور جس طرح سے جمہوری دلہن کی عصمت دری کی تھی، اس کے رد عمل میں اس سانحہ نے جنم لیا ، جس کے منفی اثرات آج بھی کشمیر کے عوام سہہ رہے ہیں۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بالکل مناسب ہے کہ ابھی حال ہی میں ’کنسرنڈسٹیزنز گروپ ‘‘ کی ایک رپورٹ شائع ہوچکی ہے اور شاید آپ کو معلوم ہو یہ گروپ ۲۰۱۶ میں تشکیل دیا گیا تھا جس میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سشو بھاردوے ، ائر وائس مارشل ریٹائرڈ کپل کاک سینئر صحافی بھارت بھوشن اور دوسری کئی معززین ہیںاور یہ گروپ کسی تنظیم کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کام کرتا ہے، انہوں نے اپنے حالیہ دورے کے تاثرات میں کہا ہے کہ کشمیر خاموش بھی ہے اور اداس بھی، خوف میں بھی مبتلا ہے اور زبانیں کھولتے ہوئے بھی ڈر محسوس کرتے ہیں ‘‘اس لئے یقینی طور پر ہر طرف شانتی ہی کی دھارائیں بہتی نظر آتی ہیں۔ لیکن کہا جاسکتا ہے کہ کچھ تو ہے جو ان سناٹوں کے نیچے سلگ رہا ہے۔ بہرحال سرکار کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں ہر طرف شانتی ، سکھ چین اور تعمیر و ترقی کادور رواں دواں ہے ، لوگ خوش ہیں، اب سونے کی چڑیاں ڈال ڈال پر بسیرا کرتی اور چہچہاتی نظر آتی ہیں۔ عوام کا رحجان بی جے پی کی پالسیوں اور تعمیر و ترقی سے متاثر ہے اور جوق در جوق اس پارٹی میں اپنی شمولیت سے اس سے مضبوط کر رہے ہیں ،بلکہ اس میں خواتین بھی بھر پور طریقے سے اپنا حصہ ڈال رہی ہیں ۔مختصر یہ کہ اب علیحدگی پسندی اور علحیدگی پسند لیڈر منظر نامے سے ہی غائب ہو چکے ہیں بلکہ پچھلے انتخابات میں کٹر پنتھیوں نے بھی الیکشن میں بڑھا چڑھا کر حصہ لیا تھا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ عمرفاروق کا خاندانی پسِ منظر نہایت ہی شاندار اور جاندار ہے ، عمر فاروق آل پارٹیز حریت کے ۱۹۹۳ سے ۹۸ تک چیئر مین تھے اور پھر اس کے دو پھاڑ ہونے کے بعد سے حریت ع کے چیرمین رہے۔ یہاں عمر سے متعلق تھوڑی سی معلومات بھی ناگزیر سمجھتا ہوں، وہ۲۳ مارچ ۱۹۷۳ کو کشمیر کے مشہور و معروف علمی ادبی اور مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے، اس خاندان کے کار ہائے نمایاں ہر لحاظ سے کشمیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے جو علمی اور دینی شمعیں یہاں روشن رکھی ہیں انکی کوئی مثال نہیں۔ شیخ عبداللہ کو اسی خاندان نے سیاسی پلیٹ فارم عطا کیا تھا۔ مولوی عمر خود بھی عالم دین ، امام و خطیب ہیں جنہیں سرینگر میں اور کشمیر کے چند اور علاقوں میں بھی عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۴ میں وہ پانچ سو سب سے زیادہ ’’متاثر کن‘ مسلم شخصیات، رائل اسلامک سٹریٹیجک اسٹڈیز سنٹرجارڈن میں جگہ پاچکے ہیں ۔ ۱۷ برس کی عمر میں اپنے والد مولوی اور میر واعظ فاروق کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے چیر مین مقرر ہوئے تھے۔ یہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ مولوی فاروق کو نامعلوم بندوق برداروں نے ۲۱ مئی ۱۹۹۰ کو شہید کیا تھا اور پھر اس کے جنازے پر اسلامیہ کالج کے بالکل سامنے بے تحاشا فائرنگ ہوئی تھی جس میں ۷۸ سے زیادہ افراد موقعے ہی دم توڑبیٹھے تھے اور اس کے علاوہ ہزاروں لوگ بھی زخمی ہوئے تھے۔
حریت کی ساری اکائیائیوں پر پابندی ہے اور ان کے سر براہاں بھی لگ بھگ سبھی پابند سلاسل ہیں۔ میر واعظ ہی اس مدت کے دوران ہاؤس ایرسٹ رہے ہیں اور ۴ اگست ۲۰۱۹ کے بعد میر واعظ پر جامع مسجد میں آنے کی پابندیاں رہی تھیں اور ٹھیک یہاں ۲۱۲ جمعہ کی نمازوں سے محروم رہے تھے۔ ۲۲ ستمبر۲۰۲۳، کو چار سال بعد ایڈمنسٹریشن نے انہیں یہاں آنے کی اجازت دی تھی۔ انہیں اب بھی وقفے وقفے سے جامع مسجد میں خطاب کرنے سے روکا جا تا ہے۔ کشمیر کے عوام اسلامیہ سکول و کالج اور دوسرے بہت سارے تعلیمی اداروں کے لئے ان کے مرہونِ منت ہیں۔
بہر حال مختصر طور پر مولوی کے ٹیگ ہٹانے سے کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ ’’وہ تمام لوگ خواہ حریت جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں کہ نہیں اب انہوں نے یہ قبول کیا ہے اور سمجھ لیا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ باوقا رطریقے سے اپنی زندگی گذار سکتے ہیں ‘‘اگر ایسا ہی ہے اور یہی سچ ہے تو پھر واقعی جموں و کشمیر میں ایک نئے سورج کا طلوع ہوچکا ہے۔۔۔
’’کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں