341

جو افراد الرجیٹک ہوں ان کو کووڈ ویکسین لینے سے پہلے اس کے اجزا معلوم کرنی چاہئے

ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے ایسے لوگوں کو ویکسین نہ لینے کی صلاح دی ہے جن کو ویکسین میں موجودہ ”انگریڈنٹس“اجزا سے الرجی ہوتی ہو۔ تاہم ایسے لوگ ویکسین لے سکتے ہیں جن کو کسی دوائی یا انجکشن نے الرجی ہوتی ہو کیوںکہ کووڈ ویکسین میں جو ”سالٹ “ہوتے ہیںوہ مختلف ہیں ۔ کرنٹ نیو ز آف انڈیا کے مطابق سرینگر کے ایک 29سالہ نوجوان کو کووڈ ویکسین لینے کے بعد سخت الرجی ہوئی ہے جس کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا ۔ مذکورہ نوجوان الرجیٹک ہے تاہم ہر کسی شخص کو ویکسین نے الرجی نہیںہوتی ۔ اس ضمن میں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے لوگوں سے کہا ہے کہ کووڈ یکسین میں جو ”انگریڈنٹسا“موجود ہیں اگر کسی کو ان سے الرجی ہوتی ہے تو ان کو ویکسین نہیں لینا چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ کئی لوگ الرجیٹک ہوتے ہیں جن کو کسی کھانے کی اشیاء،دوائی یا انجکشن سے الرجی ہوتی ہے ان اشخاص کو چاہئے کہ ویکسین لینے سے پہلے یہ بات معلوم کریں کہ کووڈ ویکسین میں جو ”انگریڈنٹس“اجزا موجود ہیں ان سے اسے الرجی تو نہیں ہوتی ۔ انہوںنے کہا کہ اگر آپ الرجیٹک ہو اور کووڈ ویکسین میں ایسے اجزا موجود نہیں ہے جن سے آپ کو الرجی ہوتی ہو تو ویکسین لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگریہاں پر دو ویکسین موجود ہیں Covaxinاور Covishieldجن کے دو ڈوز ہوتے ہیں جو بازو کے اوپری حصے میںدئے جاتے ہیں ۔ Covaxinمیں کوروناوائرس کو ختم کرنے کے اجزا ہیں جبکہ اس میں دیگر جو اجزا ہیں ان میں المونیم ، ہائیڈروکزائڈجل، TLR7/8۔ 2-phenoxyethanolاورفاس فوٹ، بفریڈ اور نمک شامل ہے ۔ جبکہ Covishieldمیں L-histidine,Lhistidine hydrochloride,monohydrate,کے علاوہ میگنیشم، کلورائڈ ہیزاہڈیرٹ،پولی سوربیٹ80، ethanol،سیوکروز، سوڈیم ، کلورائڈ ، ڈیسوڈیم ،ڈیہائڈریٹ اور پانی انجکشن کےلئے اور اگر کسی شخص کو مذکورہ اجزا سے الرجتی ہوتی ہے تو اس کو ویکسین نہیں لینا چاہئے ۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ اگر کسی شخص کو اس بارے میں معلوم نہیں ہوتو اس نے ویکسین کا پہلا ڈوز لیا جس کے بعد اس میں الرجی ہوئی تو اس کو دوسر ا ڈوز نہیں لینا چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ تاہم CDCنے تجویز کیا ہے کہ اگر کسی کو ویکسین کے پہلے ڈوز سے الرجی ہوئی ہو تو اس کے چاہئے کہ دوسرے ویکسن کا دوسرا ڈوز لے نہ کہ وہ جو پہلے لیا تھا۔ تاہم ایسے اشخاص کی قریب 30منٹ تک نگرانی ہونی چاہئے اور اگر کسی طرح کی ریکشن نمودار ہوتو فوری علاج شروع کرنا ہوگا۔ ڈانٹر نثارالحسن نے کہا کہ الرجی ریکشن سے ، خارش، سوجن، اور دیگر پریشانیاں رونماءہوسکتی ہے ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں