379

گورنمنٹ ڈگری کالج برائے طالبات نواکدل سرینگر کو NAAC کی طرف سے جموں وکشمیر کا پہلا A+ گریڈ کالج قرار دے دیا گیا!

ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری


یونیورسٹی گرانٹس کمشن نئی دہلی کا ایک خود مختار ادارہ National Assessment and Acredation Council بنگلور میں قائم ہے، جس کا کام پورے ملک کے تمام کالجوں، یونیورسٹیوں اور اعلا تعلیم سے متعلق بڑے بڑے تعلیمی تدریسی اور تحقیقی اداروں کا معیار دیکھنا اور ان کی جانچ کر نا ہے۔ اس سلسلے میں وہ ہر ادارے کی کارکردگی کا جائزہ پانچ سال کی مدت کے بعد لے لیتے ہیں۔ اور اپنی طرف سے کم از کم D گریڈ اور زیادہ سے زیادہ A++ گریڈعطا کرتے ہیں۔ اور یہی گریڈ اس ادارے کا معیار بھی کہلاتا ہے۔


پائین شہرسرینگر میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج برائے طالبات نو اکول سرینگر 1960 ءمیں قائم کیا گیا اور تب سے لیکر آج تک اس کالج نے تعلیم کے معاملے میں نئے جوت جگائے۔ 2015 میں NAAC کی طرف سے اسے A گریڈ قرار دے دیا گیا اور 2016 سے لیکر2021 تک کی Assessment کی تاریخ 2022 ءکو ہونی تھی، لیکن کچھ سابق پرنسپل کی سبکدوش اور تبدیلی کی وجہ سے وہ Assessment اپنے مقرر وقت پر نہیں ہو پائی۔


22 ڈسمبر 2022 ءمیں پروفیسر ڈاکٹر نیلوفر بھٹ صاحبہ نے کالج کے پر نسپل کا چارج سنبھالتے ہی کالج کے جسم میں نئی روح پھونک ڈالی۔ اسطرح کالج کا چپہ چپہ حر کت میں آگیا اور ہر فرد بڑے جوش خروش کے ساتھ کام کرنے لگا۔2023 کا اکیڈمک سال شروع ہوتے ہی یہاں کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں برق رفتاری سے چلنے لگی۔ خاصکر NAAC کیلئے ڈاکٹر زہیب بزاز کوکواڑ نیٹرمقرر کیا گیا اور انکے ساتھ پروفیسرشیخ حفیظ اللہ، پرفیسر عادل حسین، پروفیسر مدثر، پروفیسر شبیر احمد نجار، پروفیسر منشا رشید، پروفیسر رومیسااور مسرت قادری جیسے لوگوں نے جی توڑ محنت کر ڈالی اورNAAC سے متعلق ہر کام کو تکنیکی سطح پر تیار رکھا۔ تو اسطرح 13-14مئی 2023ء کو NAAC ٹیم پروفیسر راکیش چندر کٹیار (سابق وائس چانسلر چھتر پتی سا ہوجی مہاراج یونیورسٹی کانپور اتر پردیش) کی سربراہی (بحیثیت چیرپرسن) میں کالج کے دورے پر آگئی اور انکے ساتھ ممبر کواڑ نیئر کے طور پر ڈاکٹر لکشمی نمبکت (پروفیسر شعبئہ فزیکس مو ہن لال سکھدے یونیورسٹی اُدھے پور راجستھان) اور ڈاکٹر سنجیو نی ملے ( پر نسپل گورنمنٹ کالج آف ایجو کیشن اورنگ آباد مہاراشٹر) بھی تھے۔ جبکہ کشمیر انتظامیہ کی طرف سے مہمان خصوصی جنیدا عظم متو (میئر سرینگر میونسپلٹی) پرفیسر یاسمین عشائی (ناظمہ اعلا تعلیم جموں و کشمیر) اور پروفیسر خورشیداحمدبٹ(ڈین کالجز کشمیر یونیورسٹی ) بھی کالج کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے تشریف لے آئے۔


NAAC ٹیم نے کالج کے زرے زرے کا جائز ہ بڑی انہما کی سے لے لیا۔ وہ کئی عوامی وفود سے ملے اور کالج المو نی سے بھی انہوں نے ملاقات کی۔ کالج کے کام کاج اور اسکے سیٹ سے متاثر ہوکر NAAC ٹیم نے بے حد خوشی اور تعریفی کلمات کا اظہار کیا۔ اپنی رپورٹ میں جن خاص باتوں کا انہوں نے ذکر کیا ہے، اُن میں چند با توں کا ذکر یہاں کیا جائے گا:۔
۱۔ کالج میں بہت کم جگہ ہے ،پھر بھی جس انداز سے یہاں سہولیات میسر رکھی گئی ہیں اور جگہ کا استعمال کیا گیا یہ سارا کالج انتظامیہ کا ہی کمال ہے۔
۲۔ یہاں کی فیکلٹی میں ربط و ضبط ہے اور آپسی ہم آہنگی ہے، جسکی وجہ سے مل جُل کے کام ہو رہا ہے اور فیکلٹی کاتدریسی اور تحقیقی معیار قابل تعریف ہے۔
۳۔ کالج میں نصابی اور غیر نصابی سر گر میاں صحیح ڈھنگ سے ہو رہی ہیں۔
۴۔ کالج کمیونٹی بنیادوں پر بھی کام کر رہا ہے۔
۵۔ کالج آئین ہند کا تحفظ اور قومی یکجہتی کو بڑھاوا دینے کیلئے قابل داد کام کر رہا ہے۔
۶۔ یہاں کے طلبہ نے کھیل کود اور غیرنصابی پروگراموں میں کالج سے باہر بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے لیا۔
۷۔ اکیڈ مک معاملات میں رزلٹس بھی اچھے ہیں۔
۸۔ ےہاں مختلف Skills کاری گری وغیرہ کو زندہ رکھا جاتا ہے۔
۹۔ ICT اورلائبرےری بھی وقت کی ضرورت کے مطابق ہے۔
۰۱۔ ہر چیز یہاں بڑے ڈھنگ اور سلیقے سے رکھا گیا ہے۔


مستقبل کے امکانات:
۱۔ کالج میں ہوسٹل اور کھیل کے میدان کی ضرورت ہے
۲۔ کئی اور مضامین میں بھی یہاں PG ہونا چاہئے اور یہاں کے طلبہ اور فیکلٹی کو ریسرچ کرنے اور کروانے کے مواقعے فراہم ہونے چاہیے۔
تو اسطرح کا لج کا مجموعی طور پر جانچ کر لینے کے بعد NAACنے اسے AISHE-ID: C-21408, TRACK ID- JKCOGN 12458 اند راج کے تحت A+ گریڈ عطا کر کے جموں و کشمیر کا پہلا درجہ اول کالج ہونے کا شرف بخشا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں