117

عالمی ہوسٹنگ سسٹم میں خرابی سے کئی ویب سائٹس بند ہونے کے بعد بحال

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں منگل کو اچانک ویب سائٹس بند ہوگئیں، جس سے کئی لوگ اہم معلومات حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی فاسٹلے کے ہوسٹنگ سرور میں خرابی کے باعث سوشل اور نیوز ویب سائٹس سمیت ای کامرس اور حکومتی ویب سائٹس بند ہوگئی تھیں، بعد ازاں خرابی کو درست کرنے پر ویب سائٹس بحال ہونا شروع ہوگئیں۔

ابتدائی طور پر ’فاسٹلے‘ نے ویب سائٹس بند ہونے کے بعد اپنے ہاں کسی بھی خرابی سے لاتعلقی ظاہر کی تھی مگر بعد ازاں فوری طور پر خرابی کو تلاش کرکے اسے درست کردیا گیا۔

امریکی صحافی میک ٹیلر نے بھی اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ہوسٹنگ سروسز فراہم کرنے والے ادارے ’فاسٹلے‘ نے خرابی کو ٹھیک کردیا، جس کے بعد ویب سائٹس کی سروسز بحال ہوگئیں۔

ہوسٹنگ سروس میں فنی خرابی کے باعث سی این این، بی بی سی، نیویارک ٹائمز، این بی سی، دی گارجین، اسپاٹی فائے، گوگل، ٹوئٹر اور امریکا سمیت برطانوی حکومت کی ویب سائٹس بھی بند ہوگئیں تھیں۔

فنی خرابی کے باعث ایمیزون جیسی بڑی آن لائن ای کامرس ویب سائٹ بھی بند ہوگئیں جب کہ کئی ممالک میں سوشل میڈیا ویب سائٹس کی سروس بھی ڈاؤن رہی۔

برطانوی نشریاتی ادارے ‘اسکائی نیوز’ کے مطابق امریکی ادارے ’فاسٹلے‘ کے ہوسٹنگ کے سسٹم میں ممکنہ خرابی کے باعث دنیا بھر میں ویب سائٹس بند ہوئی تھیں۔

اسکائے نیوز نے بتایا کہ ’فاسٹلے‘ نے تصدیق کی کہ ان کے سسٹم میں خرابی آئی تھی اور بعد ازاں فالٹ کو تلاش کرکے اس کی بحالی پر کام شروع کردیا گیا تھا۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر خرابی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘ڈاون ڈٹیکٹر’ کے مطابق منگل کے روز ’فاسٹلے‘ کے ہوسٹنگ سرور میں خرابی کے باعث ویب سائٹس بند ہوئی تھیں۔

مذکورہ ویب سائٹ نے متعدد ویب سائٹس کے حوالے سے آن لائن سروے کیا جس میں دنیا بھر سے لوگوں نے بتایا کہ وہ کئی معروف ویب سائٹس تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

بعض ممالک میں گوگل سروس سمیت ٹوئٹر اور اسپاٹی فائے جیسی ویب سائٹس بھی معطل رہیں۔

ویب سائٹس بند ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے بھی ٹوئٹ کے ذریعے اپنی ویب سائٹس میں خرابی کی تصدیق کی اور لوگوں سے معذرت بھی کی۔

برطانوی حکومت کے ٹوئٹر ہینڈل سے کی گئی ٹوئٹ میں تصدیق کی گئی کہ متعدد سرکاری و غیر سرکاری ویب سائٹس بعض فنی خرابیوں کی وجہ سے بند ہیں اور صارفین ان تک رسائی حاصل کرنے سے محروم ہوں گے۔

ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ ویب سائٹس بند ہیں لیکن فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ویب سائٹس کیوں بند ہیں اور مذکورہ معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں