193

جی 7 ممالک کا موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے پر اتفاق

عالمی معیشتوں کے اتحاد جی سیون ممالک نے غریب ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز مثلاً کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے سالانہ ایک سو ارب ڈالر کے واجب الادا اخراجات کے وعدے کو پورا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جدید ترین معیشت کے حامل ممالک ایک مرتبہ پھر اس ہدف کو پورا کرنے کا عہد کریں گے۔

جی سیون ممالک کی جانب سے ترقی پذیر ممالک میں انفرا اسٹرکچر منصوبوں کی مالی اعانت کو تیز کرنے اور قابل تجدید اور پائیدار ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کے منصوبے شامل ہیں۔

جنوب مغربی انگلینڈ میں جی سیون سربراہی اجلاس میں رہنماؤں کی جانب سے ایک واضح دباؤ تھا کہ دنیا میں بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوشش تیز کی جائیں۔

انہوں نے بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں منصوبہ شروع کرنے پر غور کیا لیکن اس ضمن میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

جی سیون ممالک کے اجلاس میں سامنے آنے والے فیصلوں پر بعض گروپس نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ کے سماجی ادارے گرین پیس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم نے جی سیون کی میزبانی کرکے ’پرانے وعدوں کو ایک مرتبہ پھر یاد‘ دلایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیں گے جب تک جی سیون ممالک رقوم کے ساتھ پیش نہیں ہوتے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے لیے زمین کی حفاظت کرنا سب سے اہم چیز ہے جو ہم بحیثیت قائدین اپنے لوگوں کے لیے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت جمہوری ممالک ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ترقی پذیر ممالک کو صاف اور شفاف نظام کے ذریعے صاف نشوونما کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے میں مدد کریں۔

بورس جانسن نے کہا کہ جی سیون ممالک کے پاس عالمی سبز صنعتی انقلاب برپا کرنے کا ایک بے مثال موقع ہے جس سے ہماری زندگی تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ جی سیون کے تمام ممالک اپنا حصہ ڈالیں گے اور کہا کہ انہیں توقع ہے کہ انفرادی ممالک ’وقفے وقفے سے‘ اس میں اضافہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں