امریکا، وسط ایشیائی ریاستوں کا افغانستان میں قبضے کی اجازت نہ دینے کا عزم

واشنگٹن: امریکا اور وسطی ایشیا کے 5 ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ افغانستان میں طاقت سے ایک نئی حکومت مسلط کرنے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی دارالحکومت سے جاری بیان میں امریکا، کازغستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان نے کہا کہ ‘دہشت گردوں اور تیسرے فریق کو سی 5+1 ملک کو دھمکانے یا ان پر حملہ کرنے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

امریکا اور پانچ ممالک کے 5+1 نامی اس اتحاد نے افغان تنازع کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ جنگ نے وسطی اور جنوبی ایشیائی خطے میں معاشی ترقی کو روک دیا تھا۔

یہ دستاویز تاشقند میں 15 اور 16 جولائی کو منعقدہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان مواصلات بہتر بنانے سے متعلق 2 روزہ کانفرنس کے بعد سامنے آئی۔

اس اعلامیے کے دستخط کنندگان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغان عمل کے لیے مستحکم اور خوشحال صورتحال تشکیل دینا سازگار ہے، ساتھ ہی تمام فریقین کو افغانستان میں سیاسی تصفیے سے متعلق واضح مذاکرات کی فوری ضرورت کی تصدیق کی گئی۔

علاوہ ازیں جمعہ کے روز جاری ہونے والے ایک دوسرے بیان میں امریکا، افغانستان، پاکستان اور ازبکستان نے اصولی طور پر علاقائی رابطوں پر فروغ پر توجہ مرکوز کرنے والا ایک نیا چار فریقی سفارتی پلیٹ فارم قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ علاقائی روابط کے لیے افغانستان میں طویل المدتی امن اور استحکام انتہائی اہم ہے اور افغانستان میں امن اور علاقائی رابطے باہمی تقویت پذیر ہیں۔

5+1 کے ایک اعلامیے میں ایک قدم مزید بڑھ کر نشاندہی کی گئی کہ ‘فوری اور پائیدار امن کا واحد راستہ مذاکرات کے ذریعے نکلنے والے سیاسی تصفیے سے ہو کر جاتا ہے جو ایک جامع سیاسی نظام کا نتیجہ اور تمام افغانیوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرتا ہو’۔

امریکا اور اس کے 5 وسط ایشیائی اتحادیوں نے افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی، توانائی، معیشت، تجارت، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

علاوہ ازیں انہوں نے علاقائی سیکیورٹی، خوشحالی اور استحکام کو لاحق چیلنجز اور خطرات کو دور کرنے کے لیے تعاون کرنے پر بھی اتفاق کیا لیکن دستاویز میں یہ بات موجود نہیں تھی کہ یہ خطرات کس سے لاحق ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں