124

کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال ہونے تک بھارت سے بات چیت نہیں ہوگی

پاکستان کا تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے پر زور

پاکستان نے جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن بحال کئے جانے تک بھارت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال ہونے تک بھارت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے جبکہ وزیر عمران خان اور پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جواد باجوہ نے بھی 5اگست 2019کو بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے لئے گئے فیصلے کو جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ جموں وکشمیر کے تنازعہ کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ایس این ایس کے مطابق پاکستا ن کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 5اگست کے موقعہ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسلام آباد کشمیریوں کے حقوق کی بازیابی تک سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گا۔”یوم استحصال “ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ 5اگست 2019کو بھارت نے دفعہ 370اور 35-Aمیں تبدیلی کی اور یوں ڈوگرا راج کی زیادتی کو جاری رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کے جسم کا حصہ ہے اور جب تک اس کی خصوصی پوزیشن بحال نہیں ہوگی ،بھارت کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی۔وزیر اعظم عمران خان نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے یکطرفہ اور غیر قانونی فیصلے کے دوسال کے دوران عالمی برادری نے دیکھ لیا کہ کس طرح بھارت جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب ختم کرنے کا درپے ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ہر فورم اور ایوان میں کشمیر کا مسئلہ اٹھا تا رہے گا اور یہاں کے عوام کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے کا حق حاصل کرنے تک ان کی مدد جاری رکھے گا۔پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جواد باجوہ کے مطابق کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت سرکار نہ صرف جموںوکشمیر کا جغرافیائی اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے ،بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی عروج پر ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت نکالا جانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں