وانی عرفات کی جانب سے افسانہ نگار سبزار احمد بٹ کو افسانوی مجموعہ ’’گھٹن‘‘ کی اشاعت پر دلی مبارکباد‎

اردو افسانے کے منظرنامے میں ایک خوش آئند اور بامعنی اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب معروف اور سنجیدہ افسانہ نگار سبزار احمد بٹ کے افسانوی مجموعے ’’گھٹن کی رسم‘‘ کی شاندار اور باوقار رسم رونمائی عمل میں آئی۔ یہ کتاب مصنف کی ادبی زندگی کی تیسری اہم تصنیف ہے جو فکری گہرائی، سماجی کرب اور عصری شعور کی توانا عکاسی کرتی ہے۔

اس اہم ادبی تقریب کا انعقاد کوہ ماراں کے مدیر اعلیٰ سہیل سالم، ندائے کشمیر اور زمیندار کے مدیر اعلیٰ جناب معراج الدین فراز اور معروف ادیب و دانشور پرویز مانوس کی مخلصانہ کاوشوں سے ممکن ہوا جن کی ادبی خدمات ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ 

تقریب میں اردو ادب کی متعدد ممتاز اور معتبر شخصیات نے شرکت کر کے محفل کو علمی وقار اور فکری توانائی بخشی جن میں جناب مشتاق حیدر، حسن انظر، پروفیسر ناصر مرزا، پرویز مانوس، ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی، بشیر اطہر، محمد یاسین گنائی، لیاقت عباس، شیخ گلزار، منظور کنٹ، طالب فیاض، محترمہ ریحانہ شجر، محمد یوسف شاہین، عبدالرشید راہ گیر لداخی، علام نبی شاہد، ملک منظور، حافظ ابرار، فیاض جمال بٹ اور مصنف کے برادر اصغر مدثر احمد بٹ کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ان تمام معزز شخصیات کی موجودگی نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔

تقریب کی نظامت کے فرائض زبیر قریشی نے نہایت خوش اسلوبی، سلیقے اور فکری ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیے جس سے پروگرام کی دلکشی میں اضافہ ہوا۔ اس موقع پر بشیر اطہر، ہمایوں جمال، معراج الدین فراز اور نعمان مدثر کی جانب سے پیش کیے گئے تحائف نے مصنف کے حوصلے اور عزم کو مزید تقویت بخشی۔

وانی عرفات نے اس موقع پر سبزار احمد بٹ کو ان کی تیسری تصنیف کی اشاعت اور کامیاب رسم رونمائی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سبزار احمد بٹ کا افسانوی اسلوب ہمارے عہد کی گھٹن، داخلی کشمکش اور سماجی ناہمواریوں کو نہایت گہرے اور سچے لہجے میں پیش کرتا ہے۔ ’گھٹن کی رسم محض افسانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ عصر حاضر کی ایک فکری دستاویز ہے جو اردو افسانے کو نئی معنوی جہت عطا کرتی ہے۔‘

وانی عرفات نے اس امید اور دعا کا اظہار کیا کہ سبزار احمد بٹ آئندہ بھی اسی تخلیقی سنجیدگی، فکری بصیرت اور سچائی کے ساتھ اردو ادب کی خدمت کرتے رہیں گے اور ان کا قلم قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں