مقامی خدشات اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح، سیب کے باغات متاثر ہونے کا امکان
مرکزی حکومت نے کشمیر وادی میں ریلوے لائنوں کی توسیع کے منصوبے کو فی الحال روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بارہمولہ-سری نگر کوریڈور پر اضافی لائنوں کی تعمیر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر انتظامیہ اور مقامی عوامی نمائندوں نے منصوبے پر سخت تحفظات ظاہر کیے۔ ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ حکومت کوآپریٹو فیڈرلزم اور پائیدار ترقی کے اصولوں پر کاربند ہے۔ انہوں نے کہاکہ‘‘ریاستی حکومت اور مقامی ایم پیز نے اپنے خدشات واضح طور پر بیان کیے۔ ان کے موقف کا احترام کرتے ہوئے اور مشترکہ ترقی کے جذبے کے تحت یہ منصوبے روک دیے گئے ہیں۔’’ذرائع کے مطابق یہ معطلی کم از کم تین دیگر منصوبوں تک بھی بڑھا دی گئی ہے، جہاں ابتدائی سروے شروع ہو چکے تھے۔ وزیر نے بتایا کہ ابتدائی جائزوں میں نمایاں ماحولیاتی خطرات سامنے آئے، خاص طور پر وادی کے اہم باغبانی شعبے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’ابتدائی سروے میں سیب کے باغات کو خطرہ ظاہر کیا گیا، جو مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔‘‘ ویشنو نے تصدیق کی کہ یہ منصوبے غیر معینہ مدت تک معطل رہیں گے اور مزید جائزے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ یہ اقدام اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی عوامی خدشات اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دینا حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔









