ایکسپورٹ سیکٹر کو عالمی دباؤ سے نجات ملنے کی امید
جموں و کشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ نے منگل کو امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں کمی کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ان برآمد کنندگان کے لیے بڑی راحت ہے جو شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ زیادہ ٹیرف کی وجہ سے بھارتی برآمدات کی مسابقت اور مارکیٹ تک رسائی متاثر ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کمی سے ایکسپورٹ سیکٹر کو کچھ سانس لینے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ٹیرف لگانے کی وجوہات سب کو معلوم ہیں، کیونکہ امریکہ بھارت کی روس سے تیل کی خریداری پر ناخوش تھا، جس کے نتیجے میں تجارتی اقدامات سخت ہوئے۔ عمر عبداللہ نے تاہم کہا کہ حکومتِ ہند کی جانب سے ابھی تک اس کمی پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ ’’ہمیں مرکز کے باضابطہ ردعمل کا انتظار کرنا ہوگا تاکہ اس فیصلے کے مکمل اثرات کو سمجھا جا سکے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے برآمد کنندگان بڑھتی ہوئی لاگت اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث مشکلات میں تھے، اور تجارتی رکاوٹوں میں کمی ان کے آپریشنز کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ چیف منسٹر نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام بھارتی کاروباری اداروں کے لیے عملی فوائد میں تبدیل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال اس وقت مزید واضح ہوگی جب حکومتِ ہند کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ اور تجارتی تفصیلات سامنے آئیں گی۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی تجارتی پالیسی میں نرمی بھارتی برآمد کنندگان کے لیے نہ صرف وقتی سہولت ہے بلکہ مستقبل میں معاشی استحکام کی سمت ایک اہم قدم بھی ہو سکتا ہے۔









