111

جنگ بندی کے بعد فلسطین میں عالمی امداد پہنچنے کا سلسلہ شروع

غزہ میں 11 روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی بمباری کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے بعد محاصرے میں گھرے افراد کے لیے دنیا بھر سے امداد پہنچنچا شروع ہو گئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں جس کے بعد عالمی برادری کی توجہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کی طرف مرکوز ہو گئی ہے جو اسرائیلی فضائی حملوں میں بدترین تباہی سے دوچار ہوئی ہے۔

یروشلم میں اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں مظاہرین پر دستی بم سے حملے کیے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صورتحال اب بھی کس حد تک غیر مستحکم ہے۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل اسی طرح کا تشدد غزہ پر برسوں بعد بدترین اسرائیلی حملے کا سبب بنا تھا۔

مقبوضہ بیت المقدس کے متعدد دیگر حصوں اور مغربی کنارے کے درمیان گزرگاہ پر بھی جھڑپیں ہوئیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلیوں سے کہا ہے کہ وہ یروشلم میں فرقہ وارانہ لڑائی ختم کریں اور غزہ کی تعمیر نو کے سلسلے میں منظم کوششیں کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

انہوں زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ابھی بھی دو ریاستی حل کی ضرورت ہے، یہ واحد جواب ہے۔

امدادی سامان لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے اسرائیل کی جانب سے دوبارہ کھولے جانے کے بعد کرم شالوم کراسنگ کے راستے غزہ سے گزرنا شروع ہوئے جہاں اس سامان میں ضروری ادویہ، خوراک اور ایندھن شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے سینٹرل ایمرجنسی رسپانس فنڈ نے انسانی بنیادوں پر ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالر کے فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ کے روز ہزاروں باشندے کئی دن گھروں اور پناہ گاہوں میں بند رہنے کے بعد باہر نکلے اور پڑوسیوں سے ملاقات کی، نقصان اور تباہی کا اندازہ لگایا، سمندر کا دورہ کیا اور اپنے پیاروں کی تدفین کی۔

امدادی کارکنوں نے بتایا کہ وہ معمولی وسائل کے باوجود پوری تندہی سے کام کررہے ہیں تاکہ ملبے تلے دبے ہوئے زندہ افراد تک پہنچ سکیں۔

70 سالہ ناظمی دہدو نے کہا کہ اسرائیلی حملوں نے غزہ شہر میں میرا مکان تباہ کردیا، ہمارے پاس دوسرا گھر نہیں ہے۔

پانچ بچوں کے والد ناظمی نے مزید کہا کہ جب تک یہ دوبارہ تعمیر نہیں ہوتا، تب تک میں اپنے گھر کے ملبے کے اوپر خیمے میں رہوں گا۔

وزارت صحت نے بتایا ہے کہ 10 مئی سے اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 66 بچوں سمیت 248 افراد ہلاک اور 1ہزار 948 زخمی ہو گئے۔

حماس کے مطابق بڑے پیمانے پر علاقہ مکان زمین بوس ہونے سے قبل میدان کا منظر پیش کررہا ہے اور ایک لاکھ 20ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ حماس نے اسرائیل پر 4ہزار 300 سے زائد راکٹ فائر کیے جن میں سے 90 فیصد کو ان کے فضائی دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان راکٹوں نے اسرائیل میں ایک بچے سمیت 12 افراد کی جان لی جن میں ایک ہندوستانی اور دو تھائی شہری بھی شامل ہیں، اسرائیل میں تقریبا 357 افراد زخمی بھی ہوئے۔

حماس کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا دشمن کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے، اگر آپ واپس آئیں گے تو ہم بھی واپس آجائیں گے لیکن اس کے جواب میں اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز نے خبردار کیا کہ دشمن کے پاس قوت مدافعت کی کوئی چیز نہیں ہے۔

دوسری جانب مصر کی جانب سے جنگ بندی اور صلح کرائے جانے کے بعد دونوں فریقوں نے فتح کا دعوی کیا جس میں حماس کے بعد غزہ کا دوسرا طاقتور مسلح گروہ اسلامی جہاد بھی شامل تھا۔

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو نے کہا کہ اسرائیل کی بمباری مہم نے غزہ میں 25 سینئر کمانڈر سمیت 200 سے زیادہ ’دہشتگردوں‘ کو ہلاک کیا ہے جو ایک غیرمعمولی کامیابی ہے۔

اس کی طرف سے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو ایسے ایک تکلیف دہ زخم دیے ہیں جن کے نشان ایک عرصے تک برقرار رہیں گے، انہوں نے فنڈز اور اسلحہ فراہم کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔

خود ایران نے اسے تاریخی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران مسئلہ فلسطین کی حمایت کرتا رہے گا جبکہ اردن، لیبیا اور دیگر مقامات پر بھی فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے ہوئے۔

مصر کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ مصری کے سیکیورٹی کے دو وفود دونوں فریقین کی جانب سے معاہدے کی نگرانی کے لیے پہنچے ہیں۔

عالمی رہنماؤں نے صلح کا خیرمقدم کیا اور امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ہمارے پاس ٓگے بڑھنے اور بہتری کے لیے کام کرنے کا نادر موقع ہے۔

یورپی یونین نے تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے ایک مرتبہ پھر آواز بلند کی۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سفارتکار انٹونی بلنکن آئندہ دنوں میں اسرائیلی، فلسطینی اور علاقائی ہم منصبوں سے ملاقات کر کے بحالی کی کوششوں اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

روس اور چین نے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو اب تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ بات چیت کرنی ہوگی۔

اس تشدد کا آغاز مقبوضہ بیت المقدس سے ہوا جو یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے یکساں مقدس مقام ہے۔

10 مئی کو مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں پر اسرائیلی پولیس کے حملے نے حماس کو جوابی کارروائی کے طور پر یہودی ریاست پر راکٹ حملے کرنے پر مجبور کردیا تھا۔

اسرائیل کی فوج نے ان راکٹ حملوں کا فضائی بمباری سے جواب دیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا لیکن اگرچہ فلسطینی اور بین الاقوامی اداروں نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے گنجان آباد آبادی والی پٹی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں