151

630اساتذہ کے حق میں 2 سال سے بند 33 کروڑ روپے کی تنخواہ واگذار

کولگام کے سرکاری ٹیچر کے جواں سال بیٹے کی باپ کی تنخواہ 2سال سے بند رہنے پر خودکشی کرنے کے 4روز بعد محکمہ ایجوکیشن نے وادی سے تعلق رکھنے والے 630اساتذہ کے حق میں 33کروڑ روپے کی تنخواہ بدھ کو واگذار کی۔اس بیچ تنخواہوں سے محروم درجنوں مستقل رہبر تعلیم اساتذ ہ نے سرینگر کی پریس کالونی میں خاموش احتجاج کرتے ہوئے یونین ٹریٹری کے ایل جی منوج سنہا اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مسئلے کو فوری طور حل کرنے کی مانگ کی۔احتجاجی مظارہے میں ٹیچرس فورم کے اراکین بھی شامل تھے۔ایس این ایس کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر صوبے کے ناظم تعلیم تصد ق حسین میر نے بدھ کو ان 630سرکاری اساتذہ کے حق میں 33کروڑ روپے کی تنخواہ واگذار کی جو پچھلے دو سالوں سے پریشان تھے اور جن کی تنخواہ ویری فکیشن کے بہانے بند رکھی گئی تھی۔محکمہ ایجوکیشن نے یہ فیصلہ کولگام میں 28مئی کو پیش آئے خودکشی کے اس سانحے کے بعد لیا جس میں ایک استاد کے جواں سال فرزند نے باپ کی تنخواہ مسلسل بند رہنے کی پاداش میں گھر میں اقتصادی مسائل ابتر ہونے پر خودکشی کی۔ان کا ویڈیو وائرل ہونے نے سرکار کے ایوانوں کو ہلا کے رکھ دیا اور شدید ترین عوامی رد عمل سامنے آیا۔اس بیچ سرینگر کی پریس کالونی میں بدھ کو ایک خاموشی احتجاجی دھرنا ،جس دوران احتجاج میں شامل اساتذہ نے سرکارسے مطالبہ کیا کہ ان رہبر تعلیم اساتذہ کی تنخواہیں فوری طور واگذارکی جائیں جو برسوں پہلے مستقل ہوئے تھے اور تنخواہیں بھی بلارکاوٹ لیتے تھے لیکن دوسال قبل سابق ناظم تعلیم کشمیر نے بلا وجہ ان کو روک دیا اور یوں درجنوں کنبوں کو پریشان کردیا جبکہ اسی پریشانی کی وجہ سے گذشتہ روز کولگام میں ایک استاد کے جواں سال بیٹے نے گھر میں مالی حالات انتہائی ابتر ہونے کی وجہ سے خودکشی کی جیسا انتہائی قدم اٹھاکر اپنا کام بھی تمام کردیا۔احتجاجی اساتذہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ سرکار سے انصاف کی مانگ کررہے تھے۔انہوں نے ایل جی ،چیف سیکرٹری اور ناظم تعلیم کشمیر سے مطالبہ کای کہ وہ ان کے مسئلے کو حل کرکے بند پڑی تنخواہیں واگذار کرنے کے احکامات صادر کریں تاکہ غریب اور مجبور اساتذہ کو مزید پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔قابل ذکر ہے کہ صوبہ کشمیر کے لگ بھگ 150اساتذہ کی تنخواہیں پچھلے دوسال سے بند ہیں اور انہیں نئے سرے سے ویر فیکیشن کا تقاضا کیا جارہاہے۔یہ اساتذہ 15برس قبل مستقل ہوئے تھے اور رہبر تعلیم اساتذہ کے طور کام کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں