132

جموں وکشمیر کے حوالے سے پھر کسی بڑے فیصلے کی باز گشت

سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم،200سی آر پی ایف کمپنیوں کی اچانک تعیناتی سے خدشات میں اضافہ


پوری واد ی میں افواہوں کا بازار گرم ہے کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر کے حوالے سے پھر کوئی غیر معمولی قدم اٹھانے والی ہے۔ ان افواہوں سے متعلق سوشل میڈیا پر تبصروں اور تذکروں کا خاص چرچاہے اور لوگ طرح طرح کی قیاس آرائیاں کررہے ہیں۔اس بیچ سی آر پی ایف کی جموں اور شمالی کشمیر کے بعض حصوں میں پچھلے 2روز سے 200اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں جو پولیس کے مطابق جموں وکشمیر سے باہر مختلف ریاستوں میں الیکشن ڈیوٹی دینے کے بعد دوبارہ واپس لو ٹ آئیں۔ایس این ایس کو دن بھر کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے پے در پے فون آئے کہ کیا ہونے والا ہے۔بعض لوگوں کے مطابق جموں وکشمیر کو پھر سے تقسیم کیا جارہا ہے۔سوشل میڈیا پرسرگرم بعض صحافیوں اور سیاستدانوں نے بھی اس معاملے پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی۔جبکہ مین اسٹریم جماعتوں نے جموں وکشمیر سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگوں کے خدشات کو دورکرنے کیلئے بیان جاری کرے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے جو خدشات ظاہر کئے تھے وہ کچھ عجیب اور حیران کرنے والے بھی ہیں۔بعض لوگوں کے مطابق جموں کو ریاست کا درجہ دیا جارہاہے جبکہ کشمیر وادی کو بدستور یونین ٹریٹر ی ہی رکھا جائے گا۔ جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق وادی کے جنوبی حصے کو کاٹ کر صوبہ جموں کے چناب خطے سے ملایا جائے گا۔حالانکہ کچھ کے تبصرے اتنے عجیب تھے کہ وہ کشمیر کو لداخ اور جنوبی کشمیر سے لے کر پیر پنچال اور چناب خطے کو جموں کے ساتھ ملا کر ایک نئی ریاست تشکیل دینے کا تذکرہ بھی کرچکے ہیں۔جموں وکشمیر کی ریاستی وحدت کو 5اگست 2019کو ختم کی گئی اور پارلیمنٹ میں ایک فیصلہ کے تحت لداخ کو الگ کرکے یونین ٹریٹری بنا دیا گیا جبکہ جموں وکشمیر کو الگ یونین ٹریٹری بنایا گیا۔تب سے لے کر خطے میں غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔لوگ خاموش ہیں اور حکومت کی تمام کمان انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔پیر کو دن بھر سوشل میڈیا پر جاری رہنے والی افواہ بازی پر سرکار نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا سوائے جموں وکشمیر پولیس کے صوبائی چیف برائے کشمیر وجے کمار ملا نے میڈیا کو بتایا کہ یونین ٹریٹری میں سی آر پی ایف کی 200اضافی کمپنیوں کی تعیناتی ایک معمول کی کاروائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں یونین ٹریٹری میں ہی تعینات تھیں جو پچھلی مرتبہ ملک کی مختلف ریاستوں میں الیکشن کے دوران ڈیوٹی پر بھیجی گئی تھیں لیکن اب واپس لوٹ آئیں اور اپنے اپنے مقامات پر تعینات کی گئیں۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ کیا ایک اور سمسٹر شروع ہونے والا ہے ۔؟بعض سکنڈ لائن کے سیاسی ورکروں نے بھی افواہ بازی پر اپنی رائے کا اظہار کیا اور سرکار سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں