115

چھوٹے اخبار مالکان و عملہ کی پریس کالونی میں فریاد

اخبارات کے اشتہارت کی بحالی کرکے مالکان و عملہ کو راحت دینے کا مطالبہ


سرینگر//وادی سے تعلق رکھنے والے بیسوں اخبار مالکان اور دیگر عملہ کی مالی تنگدستی کے نتیجے میں ان کے گھرﺅں کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں تاہم صحافت کا چراغ جلانے اور متواتر بنیادوں پر اپنے اخبارات کی اشاعت کو یقینی بنانے کیلئے وہ سیاہی کے برعکس اپنے جسم کا خون استعمال کر رہے ہے۔ ان جیالوں نے یہ بات ثابت کی ہے کہ وہ صحافت کی مشعل کو فروزاں رکھنے کیلئے اپنا دن رات ایک کریں گے اور اپنے اخبارات کی اشاعت کو جاری رکھے گے۔
گزشتہ برس دسمبر میں خراب چھپائی یا پرنٹ معیار کی بنیاد پر محکمہ اطلاعات و عوامی رابطہ عامہ نے بیسوں اخبارات کو اشتہار کا سلسلہ روک دیا، جس کے بعد ان مدیران نے اپنے اخبارات کا معیار بہتر بنانے کے علاوہ انکی چھپائی کو بھی زیب دیدہ اور بہتر بنا دیا۔ گزشتہ6ماہ سے وہ اسی منزل پر رواں ہے،تاہم ابھی تک ان اخبارات کو اشتہارات بحال نہیں کئے گئے۔ اشتہارات اخبارات کی شہہ رگ ہوتے ہیں اور وادی جیسی جگہ جہاں پر نجی اشتہارات نہ ہونے کے برابر ہے اخبارات کا دارمدار سرکاری اشتہارات پر ہی ہوتا ہے تاہم اشتہارات کا سلسلہ رکنے کی وجہ سے یہ اخبارات مالی تنگ دستی کا شکار ہوگئے ہے، جس کے نتیجے میں ان اخبارات کے مالکان اور عملہ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کورونا اور لاک ڈاﺅن کی اس صورتحال میں حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں اور اچھی خاصی تعداد میں وہ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں جن کا روزگار ان اخبارات پر منحصر تھا۔
سرینگر کی پریس کالونی میں اس معاملے کو لیکر چھوٹے اخبارات کے مالکان نے دھرنا دیکر سرکار سے فریاد کی کہ ان اخبارات کو اشتہارات بحال کریں۔ اس موقعہ پر مارننگ ہیڈ لائنز کی مدیر اعلیٰ آسیہ رشید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ6ماہ کے دوران اخباارات کا معیار بہتر کرنے کے علاوہ چھپائی کو بھی بہتر کیا تاہم اشتہارات کی عدم بحالی کے نتیجے میں بیسوں لوگوں کے گھروں کے چولہے جہاں ٹھنڈے ہوچکے وہی ان کے اہل و عیال کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارت کا عملہ بھی سخت دشواریوں کا شکار ہوگیا ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کی کفالت نہیں کر پار ہے ہیں۔آسیہ رشید نے سرکار،انتظامیہ اور متعلقہ بیروکریٹوں سے فریاد کی کہ فوری طور پر ان چھوٹے اخبارات کے اشتہارات کو بحال کرکے ان اخبار مالکان اور ان سے جڑے عملہ کو بے روزگار ہونے سے بچائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں