237

دفعہ 370اور 35-A کی آئینی پوزیشن بحال ہونے تک جمہوری اور قانونی جنگ جاری رکھیں گے، محبوبہ مفتی کا کل جماعتی میٹنگ کے بعد بیان


پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے جموں وکشمیر کی دفعہ 370اور 35-Aکے تحت آئینی پوزیشن کی بحالی تک جمہوری اور قانونی طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبراً چھینا گیا حق حاصل کرنے کیلئے اگر ہمیں مہینوں بھی جدوجہد کرنی پڑے تو ضرور کریں گے۔انہوں نے مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ وہ جموں وکشمیر میں دیرپا امن قائم کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرے اوربند پڑے تاریخی راستوں کو کھول دے تاکہ عوام کو راحت پہنچ سکے۔ایس این ایس کے مطابق نئی دلی میں وزیر اعظم کی جانب سے جموں وکشمیر میں سیاسی ماحول کو پھر سے پٹری پر لانے کیلئے بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کے بعد باہر آنے پر میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ 5اگست 2019کا مرکزی سرکار کا فیصلہ غیر قانونی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی تھا ،جو جموں وکشمیر کے عوام ہرگز قبول نہیں کرسکتے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے کل جماعتی میٹنگ کے دوران مرکزی قیادت پر واضح کردیا کہ اس یک طرفہ فیصلے سے جموں وکشمیر کے عوام غصے میں ہیں اور جذباتی طور ٹوٹ گئے ہیں۔محبوبہ مفتی کے مطابق مودی سرکار کا فیصلہ جموں وکشمیر کے عوام کیلئے ایک بڑی بے عزتی سے کم نہیں تھا جس کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔سابق وزیر اعلیٰ کے مطابق انہوں نے میٹنگ کے دوران واضح کردیا کہ دفعہ 370جموں وکشمیر کے عوام کی شناخت ہے اور وہ اس شناخت کو ختم کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شناخت ہمیں پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت کے آئین نے دی ہے۔اس آئین نے دی ہے جس کا پنڈت جواہر لعل نہرو سردار پٹیل روح رواں تھے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ مرکزی سرکار نے 5اگست 2019کو جو کچھ بھی کیا ،وہ غیر آئینی ،غیر جمہوری اور غیر اخلاقی تھا جسے قبل نہیں کیا جاسکتاہے۔محبوبہ مفتی نے کہا پی ڈی پی ا س آئینی حیثیت کو بحال کرنے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی چاہے اس میں مہینے بھی لگ جائیں۔ اہوں نے کہا کہ میٹنگ کے دوران انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اگر بھارت چین کے ساتھ بات کرسکتاہے جس کے ساتھ کوئی عوامی سطح کا معاملہ درپیش نہیں ہے تو پھر پاکستان کے ساتھ بات کرنے میں کیا قباحت ہے۔محبوبہ مفتی کے مطابق نہ صرف یہ کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع ہوجانی چاہئے بلکہ جو تواریخی راستے بند پڑے ہیں یا کھول کر دوبارہ بند کردئے گئے ہیں جن میں سرینگر مظفرا ٓباد روڈ،پونچھ راﺅلاکوٹ روڈ اور کرگل اسکردو روڈ شامل ہیں ،ان کو کھولنے کی ضرورت ہے جبکہ لوگوں کی آواجاہی کیلئے بس سروس کے علاوہ ٹریڈ بھی پھر سے شروع کیا جانا چاہئے تاکہ اس سے جڑے لوگوں کے کاروبار کو جو دھچکہ پہنچا ہے اس کا سدباب ہوسکے۔انہوں نے جموں وکشمیر میں قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے پکڑ دھکڑ اور ہراسانیوں کو بند کرنے کی ضرورت پر زور دیاہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر وادی میں خاص طور سے ماحول کو انتہائی خوف زدہ کردیا گیا ہے اور صحافیوں سمیت ہر ایک کی آوازکو بند کرکے رکھ دیا گیا ہے۔UAPAکے تحت ہر اس شخص کے خلاف کیس درج کیا جاتاہے جو بشری حقوق اور دوسرے مسائل کی بات کرتاہے۔محبوبہ مفتی نے آئے روز کے قوانین جاری کرنے کی بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ جموں وکشمیرکی زمین ،روزگار اور ڈومیسائل ہر صورت میں مقامی لوگوں کیلئے مخصوص رہ جانی چاہئے اور اس پر کسی بھی ڈاکہ زنی کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ (ایس این ایس)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں