93

تقسیمی عناصر کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت

آپسی بھائی چارے ، مذہبی ہم آہنگی اور علاقائی وحدت کو بنائے رکھنے میں ہر کوئی اپنا رول نبھائے/فاروق عبداللہ
تقسیمی عناصر کے حربوں سے جموں وکشمیر کو بہت زیادہ نقصان اُٹھانا پڑا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اُن طاقتوں کے ارادوں کو ہر حال میں ناکام بنا دیں جو یہاں کے عوام کو مذہب، علاقائی اور لسانی طور پر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج جموں سے آئے ہوئے سیاسی لیڈران اور معزز شہریوں کے وفد سے تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت سابق ایم پی شیخ عبدالرحمن کررہے تھے، وفد میں آئی جی کھجوریہ بھی شامل تھے جبکہ اس موقعے پر این سی لیڈر تنویر صادق بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ تینوں خطوں کے عوام کو ایسی طاقتوں سے ہوشیار رہنا چاہئے جو یہاں کے عوام میں تفرقہ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی مذموم سازشوں سے جموں و کشمیر کو پہلے ہی بہت نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی نفرت کی دیواریں کھڑی کی جارہی ہیں،دوریاں پیدا کی جارہی ہے اوربھائی چارے کی عظیم روایات کو پار پار کیا جارہاہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مستقبل میں یہاں کے عوام کو بھانٹنے کا کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر جموں وکشمیر کے لوگ امن میں یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ آپسی بھائی چارے میں رہتے آئے ہیں۔ کشمیریوں نے نازک ادوار میں بھی بھائی چارہ اور آپسی ہم آہنگی کی مشعل کو فیروزاں رکھا ۔بھارت کے بانی رہنما آنجہانی گاندھی جی کو اُس وقت صرف کشمیر میں روشنی کی کرن نظر آئی جب پورا برصغیر آگ کی لپٹوں اور خون میں لت پت تھا۔ریاست کے سیکولر کردار ، مذہبی ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارے کو ٹھیس پہنچانے والے عناصر کے مذموم اداروں کو ناکام بنانا وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ہم سب پر یہ فرض بنتا ہے کہ ہم آپسی بھائی چارے ، مذہبی ہم آہنگی اور علاقائی وحدت کو بنائے رکھنے میں اپنا بھر پور رول نبھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے سنہری اصول ہیں، جو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ یہ شیر کشمیر ہی تھے جنہوں نے سخت اور مشکل ترین ادوار میں ریاست کی مذہبی ہم آہنگی کو بنائے رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ امن اور بھائی چارے کی اہمیت اور افادیت اُجاگر کرتے ہوتے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ایک خوشحال ملک کیلئے مذہبی آہنگی کا ہونا لازمی ہے۔ امن اور بھائی چارے میں ہی ایک ملک ترقی کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا گہوارہ رہا ہے اور ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ مختلف مذاہب اور عقائد کے باوجود ہم ہمیشہ متحد رہے اور اس وقت بھی ہم میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس واحد ایسی جماعت ہے جس کی جڑیں ریاست کے ہر خطے میں مضبوط ہے اور یہی جماعت ریاست کو درپیش چیلنجوں اور مشکلات سے نجات دلاسکتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں