123

حقوق کی بحالی کیلئے پُرامن جمہوری اور قانونی جدوجہد میں مصروف: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

5اگست 2019کی برسی کے موقعے پرجمعرات کو نیشنل کانفرنس پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس پر ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ سرکردہ لیڈران اور عہدیداران بھی موجود تھے۔ ایس این ایس کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا کررہے ہیں اور ہم اس چیلنج میں سروخ رو ہونے کیلئے پُرامن جمہوری اور قانونی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ہم دفعہ370اور 35اے کو لیکر اپنے موقف پر قائم ودا ئم ہیں اور پُرامن طریقوں سے اپنے حقوق کی بحالی کیلئے لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنی صفوں کو مضبوط کریں اور آپسی اتحاد کو فروغ دیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا کہ 5اگست 2019کا دن تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس سے جمہوریت، قانون اور آئین کا تہہ تیغ کرکے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو جبری طور پر طاقت کے بلبوتے پر چھین لیا گیا۔ حکمران جماعت نے اکثریت کا ناجائزہ فائدہ اُٹھا کر اُن آئینی ضمانتوں کا قتل کرکے جموں وکشمیر کے جمہوری اور آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ گذشتہ2سال سے جموں وکشمیر ایک کھلے قید خانے کی مانند ہے جہاں ہر ایک سرگرمی پر غیر اعلانیہ پابندی ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی ، پریس اور صحافت کی آزادی پر بھی ایک منظم قدغن جاری ہے جبکہ باہری دنیا کو یہاں نارملسی دکھانے کیلئے منظور نظر لوگوں کو سرگرمیوں کی اجازت ہے لیکن کسی کسی طرح ملک اور دنیا کے عوام کے سامنے حقیقت آہی جاتی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے 5اگست 2019کے فیصلے مسترد کئے ہیں اور مستقبل میں بھی ان فیصلوں کو کبھی قبول نہیں کریگی۔ ہم اس دن کا یوم سیاہ مانتے ہیں اور اس بات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہ بنا مزید دیر کئے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کیا جائے۔ اجلاس میں سینئر پارٹی لیڈران مبارک گل، شمیمہ فردوس، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، پیر آفاق احمد، قیصر جمشید لون، تنویر صادق، سید توقیر احمد، صبیہ قادری، ڈاکٹر سجاد شفیع اوڑی، عمران نبی ڈار، سلمان علی ساگر، مدثر شاہ میری، عفراجان، غلام نبی وانی تیل بلی، جگدیش سنگھ آزاد، غلام نبی بٹ،یونس مبارک گل اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔ ادھر جموں ،کرگل ، خطہ چناب اور پیرپنچال کے علاوہ تینوں خطوں کے دفاتر میں 5اگست کے موقعے پر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں