98

لالچوک اننت ناگ میں بھاجپا سرپنچ اہلیہ سمیت ہلاک

سرینگر/جنوبی ضلع اننت ناگ کے لال چوک علاقے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب نا معلوم مسلح بندوق برداروں نے بی جے پی کسان مورچہ کے ضلع صدر کی کرایہ والی رہائشی گاہ میں داخل ہوکر بی جے پی لیڈر اور ان کی اہلیہ پر گولیاں چلاکر انہیں ابدی نیند سلا دیا ۔ آئی جی پی کشمیر نے بی جے پی لیڈر اور اس کی اہلیہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں کی ہلاکت میں لشکر طیبہ ملوث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پہلے محفوظ ہوٹل میں مقیم تھے تاہم ان کی گزارش پر ہی انہیں وہاں رہنے کی اجازت دی گئیں تھی ۔ادھر حملے کے فورا بعد بی جے پی کے ذاتی محافظ کو معطل کر دیا ۔ سی این آئی کے مطابق اننت ناگ کے مہمان محلہ نزدیک لال چوک میں سوموار کے بعد دوپہر اس وقت افر اتفری پھیل گئی جب مسلح بندوق بردار بی جے پی لیڈر کی کرایہ مکان میں داخل ہو گئے جنہوں نے دونوں بی جے پی لیڈران ( سرپنچ ) اور ان کی اہلیہ ( پنچ ) پر نزدیک سے گولیاں چلائی ۔ معلوم ہوا ہے کہ مسلح بندوق برداروں نے غلام رسول ڈار ولد مرحوم غلام حسن ڈار کے کرایہ کے گھر میں گھس کر اندھا دھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں غلام حسن ڈار اور اس کی بیوی ،جواہرہ خون میں لت پت گر پڑے۔ انہیں ضلع اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کو مردہ قرار دیا۔معلوم ہوا ہے کہ حسن ڈار اصل میں ضلع کولگام کے ریڈونی بالا کا رہنے والا تھا اور وہ اننت ناگ کے مہمان محلہ میں مقیم تھا۔غلام رسول ڈار کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ’کسان مورچہ بی جے پی‘ کا ضلع صدر برائے کولگام اور سرپنچ تھا جبکہ ان کی اہلیہ پنچ تھیں ۔ آئی جی پی کشمیر نے بی جے پی لیڈر اور اس کی اہلیہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں کی ہلاکت میں عسکری تنظیم لشکر طیبہ ہے ۔آئی جی پی کے مطاق بی جے پی سرپنچ اور ان کی اہلیہ جو کہ پنچ تھیں کچھ دنوں تک ضلع کولگام میں ایک محفوظ ہوٹل میں قیام پذیر تھے ۔ جس کے بعد ان کی گزارش پر انہیں کرایہ کے مکان میں رہنے کی اجازت دی گئی ۔ انہوںنے کہا کہ پہلے وہ کوکگام میں ایک ہوٹل میں مقیم تھے جہاں ان کیلئے تمام حفاظتی انتظامات تھے تاہم بعد میں انہوں نے گزارش کی ہے کہ ہم لالچوک اننت ناگ میں رہائشی مکان میں رہنے کے لئے جا یئے گئے جس کے بعد ہی انہیںوہاں جانے کی اجازت دی گئی ۔ آئی جی پی کشمیر نے بتایا کہ پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کر لی ہے اور حملہ آوروں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کرد ی گئی ہے جنہوں جلد ہی کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں