99

جموں وکشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کئے جانے کا طرفدارہوں/ راہل گاندھی


کل ہند کانگریس پارٹی کے سابق صدر اور رکن پارلیمان راہل گاندھی نے جموں وکشمیر کیلئے مکمل ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی جموں وکشمیر کیلئے نہ صرف مکمل ریاستی درجے کی بحالی کے طرفدار ہیں بلکہ یہاں صاف وشفاف الیکشن بھی منعقد ہونے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے سیاسی نظرئے کے خلاف ہیں جو بقول ان کے تشدد اور منافرت پر مبنی ہے۔ ایس این ایس کے مطابق کل ہند کانگریس کے سابق صدراور رکن پارلیمان راہل گاندھی جو سرینگر کے دور وزہ دورے پر آئے ہوئے تھے، نے منگل کو لالچوک سرینگر میں پارٹی دفتر ”کانگریس بھون “کا افتتاح کیا۔اس موقعہ پر ان کے ساتھ پارٹی کے جنرل سیکرٹری ونو گوپال اور سینئر لیڈر غلام نبی آزادکے علاوہ پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر اور دوسرے سینئر لیڈر بھی موجود تھے۔کانگریس بھون کا افتتاح کرنے کے بعد پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کا کشمیر کے ساتھ جذباتی تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان الٰہ آباد میں رہتا تھا لیکن اس سے پہلے وہ کشمیر میں ہی رہتے تھے۔راہل گاندھی نے کہا کہ وہ کشمیر زیادہ نہیں آرہا ہے، لیکن اس کے باوجود میرے اندر کشمیر کا شغف اور خاص محبت ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کی سب سے بڑی طاقت ان کا بھائی چارہ اور میل ملاپ سے رہنے کا مثالی رہن سہن ہے۔انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی تخریبی سیاست پھیلائے، لوگ اسے کبھی تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ غلام نبی آزاد کی جانب سے پارلیمنٹ میں جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرار داد لانے کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ آزاد صاحب نے مجھے بتایا کہ میں کشمیر کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھاﺅں، ریاستی درجے کی بحالی کا معاملہ اجاگر کروں، لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہاں ہمیں بولنے نہیں دیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ آج نہ صرف جموں وکشمیر بلکہ ملک کا ایک ایک ادارہ نشانے پر ہے، جہاں بات کی جائے تو آپ پر حملہ کردیا جاتاہے۔انہوں نے کہا کہ خواہ معاملہ عدلیہ کا ہو ،لوک سبھا کاہو یا پھر راجیہ سبھا کا، ہرجگہ زبان پر تالے لگائے گئے ہیں۔یہاں تک کہ میڈیا کو بھی دھمکی دی جاتی ہے اور وہ سچ کو سامنے لانے کیلئے ڈر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جو ترقیاتی عمل کانگریس دور میں شروع کیا گیا تھا ،وہ اب بری طرح سے متاثرہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے سیاسی نظرئے کے خلاف ہیں،جو بقول ان کے تشدد اور لوگوں کے درمیان منافرت پھیلانے پر مبنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں اس کے خلاف لڑوں گا۔راہل گاندھی اس سے قبل آج صبح تولہ مولہ گاندر بل گئے جہاں انہوں نے کھیر بھوانی کے مندر میں حاضری دی اور اپنے عقیدت کا اظہار کیا۔وہ میر حید رؒ تولہ مولہ کی زیارت پر بھی حاضر ہوئے اور وہاں گلہائے عقیدت نظر کئے۔موصوف نے آثار شریف درگاہ حضرتبل میں بھی حاضری دی۔راہل گاندھی پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر کے فرزند کی شادی کی تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام پوش ہوٹل میں کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں