197

اقصیٰ کے آنسو

مفتی ابوالبابہ شاہ منصور

قسط (2)

مسجد اقصیٰ کے نام ۔۔۔! (حصہ اول)

(مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی عزت کی علامت اور فتح و سرخروئی کا نشان ہے، یہودیوں کے حالیہ سفاکانہ حملے میں یہودی فوجیوں نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف ٹینک اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہوئے مسجد اقصٰی میں خون کی ندیاں بہادیں، جس سے سارا عالم اسلام خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوگیا ہے۔ ضربِ مؤمن اس نازک تاریخی موڑ پر اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک انقلاب آفریں تاریخی، معلوماتی اور تحقیقی سلسلہ شروع کررہا ہے، جس میں ارضِ مقدس فلسطین کی فضیلت اور اہمیت سے لے کر حرمِ قُدسی کے مکمل تعارف اور تاریخ تک اور فلسطین میں یہودی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کی ناپاک منصوبے کے آغاز سے لے کر مسجد اقصٰی کو نعوذُباللہ شہید کرنے کی سازشوں تک ہر چیز کو انوکھے انداز میں بے نقاب کیا جائے گا۔

اس میں قارئین پہلی مرتبہ وہ مستند علمی تحقیقات، سنسنی خیز انکشافات اور کچھ منتخب نادر و نایاب تصویریں و نقشے ملاحظہ فرمائیں گے، جو اس سے پہلے کسی جریدے میں شائع نہیں ہوۓ، سلسلہ ایک مستند دستاویز کے طور پر ہی نہیں، بلکہ جذبہ جہاد کی روح پھونکنے اور بیداری کی لہر دوڑا دینے کے حوالے سے بھی ان شاءالله عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔)

بے وفائی :

اس میں شک نہیں کہ بےوفائی بہت بُری خصلت ہے اور اعلیٰ ظرف و جوانمرد لوگوں کی نظر میں نہایت افسوس ناک چیز ہے، لیکن جس طرح کی بے وفائی اور بے مروتی عصر حاضر کے مسلمانوں نے مسجد اقصٰی سے برتی ہے، وہ ایسی درد ناک اور الم انگیز ہے کہ تاریخ عہد وفا اور روداد جور و جفا میں اس کی نظیر نہیں ملے گی۔

مسجد اقصٰی مسلمانوں کے نزدیک تیسرا مقدس ترین مقام ہے، اس کی حفاظت وخدمت اور ناپاک صلیبیوں اور غلیظ صہیونیوں سے اس کا تحفظ ان کا اولین فرض ہے، لیکن ان کا تعلق اب اس سے اتنا رہ گیا ہے کہ سال میں ایک دفعہ واقعہ معراج کے حوالے سے وہ اس تاریخی مقام کا تذکرہ کرلیں یا اسرائیل کی طرف سے اس کی بے حرمتی کی خبر نشر ہونے پر اونگھتے ہوئے شخص کی طرح آدھے سوتے اور آدھے جاگتے سن لیں، بس اتنا کافی ہے، اس سے آگے کا نہ کبھی ان کے ذہن میں کوئی خیال آتا ہے اور نہ کبھی اس سانحے کا احساس ہوتا ہے جو ان کے جیتے جی رونما ہوچکا ہے۔

دنیا کی مردود و مبغوض ترین قوم یہود نہ صرف ارضِ فلسطین پر تسلط جما چکی ہے اور باہر کے مسلمانوں کا یہاں داخلہ ممنوع قرار دیا جاچکا ہے، بلکہ مسجداقصیٰ کے گرد ان کی کئی قسم کی سرگرمیاں اور مذہبی رسومات جاری ہوچکی ہیں، وہ تو شکر ہے کہ آج فلسطینی مسلمان کم ازکم وہاں نماز پڑھ سکتے ہیں، لیکن جس منصوبہ بندی سے یہودیوں کی پیش قدمی اور حالات پر گرفت مضبوط کرنے کا عمل جاری ہے اور جس کمال بےنیازی اور بے حسی کا مسلمان حکمران مظاہرہ کررہے ہیں، اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ خاکم بدہن کہیں وہ وقت نہ آجائے جب صہیونی ریاست کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سرگرم عمل یہودی اس اسلامی ورثے میں مسلمانوں کا داخلہ بند کرکے اسے مکمل طور پر یہودی عبادت گاہ قرار دے دیں۔

صورتحال کی سنگینی:

آج ہم واقعہ معراج کی یاد بہت گرمجوشی اور شان وشوکت سے مناتے ہیں، لیکن افسوس کہ اسراء و معراج کے سنگم ”مسجد اقصیٰ“ کے یہودیوں کے پاس چلے جانے کا غم اس دن کوئی نہیں مناتا، اس روز ہماری مساجد جگمگا رہی ہوتی ہیں، لیکن عین اس وقت مسجدِ اقصیٰ پر اندھیروں اور صہیونی تسلط کا راج ہوتا ہے، ہمارے یہاں عظیم الشان محفلیں منعقد ہورہی ہوتی ہیں، لیکن مسجدِ اقصیٰ کی سوگوار فضا میں ویرانی ڈیرہ ڈالے ہوتی ہے، شب معراج کو ہمارے مذہبی معاشرے میں مرکزی حیثیت دی جاتی ہے، لیکن مقام معراج کے تحفظ اور اس کی خاطر جہاد کرنے والوں کو ضمنی درجہ بھی نہیں دیا جاتا، ہمارے خطباء واقعہ معراج کی تفاصیل اور اس رات کی فضیلت سناتے سناتے صبح کردیتے ہیں، لیکن بیت المقدس پر جو شبِ غم چھائی ہے اس کی صبح کب اور کیسے ہوگی؟ اس کا نہ کوئی ذکر کرتا ہے، نہ اس کے اندھیرے کو کم کرنے اور صبح کی کرنوں کا راستہ بنانے کی فکر ہوتی ہے۔

یہودیوں کا اصرار ہے کہ مسلمان القدس سے دستبردار ہوکر یروشلم سے باہر ابو دیس نامی گاؤں کو مقدس مان لیں، اس کے لیے وہ فلسطینی مسلمانوں پر ہر طرح کا دباؤ ڈال رہے ہیں، ظلم و جبر کررہے ہیں، لیکن ہمارے دانشوروں اور رہنماؤں کو اس کا علم ہے نہ اس کے توڑ کے لیے کچھ کرنے کا شعور، یہودیوں نے فلسطین کی حدود کو مسلمانانِ عالم کے لیے مکمل طور سے سیل کردیا ہے، باہر کا کوئی کلمہ گو وہاں داخل نہیں ہوسکتا، اندر کے نہتے مسلمان ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، مسجد اقصٰی کی ایک دیوار کو انہوں نے اپنی عبادت کے لیے مخصوص کرلیا ہے، حرم قدسی کے مقام پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے ان کی منصوبہ بندی روز بروز آگے بڑھ رہی ہے، لیکن ہمارے یہاں صورت حال کی سنگینی کا کسی کو ادراک ہے نہ گولیوں کا مقابلہ پتھروں اور ٹینکوں کا مقابلہ غلیلوں سے کرنے والے فلسطینی مسلمانوں کی تنہائی اور بے بسی کا احساس۔ اس عالم میں مسجد اقصٰی پکارتی ہے:

اے اہل اسلام! تمہاری غیرت کو کیا ہوا؟ کیا تم صرف سجدوں پر بخش دیۓ جاؤ گے؟ کیا شعائر اسلام کے تحفظ کے بغیر تمہاری عزت باقی رہ سکتی ہے؟ کیا مسجد اقصٰی کے بعد دوسری مساجد محفوظ رہ سکتی ہیں؟ لیکن مسلمان اپنے حال میں مست ہیں، ان کے خیال میں جمعہ و عیدین میں شرکت اور شب معراج منالینا، اسلام سے مضبوط تعلق کی نشانی ہے، جس جس نے یہ سب کچھ کرلیا اس سے روز قیامت مسجد اقصٰی کے تحفظ کے لیے کوئی سوال ہوگا نہ بے دردی سے مارے جانے والے مظلوم فلسطینیوں کے انتقام کے لیے کچھ نہ کرنے پر اس سے پوچھ ہوگی، نہ یہودیوں کے ظلم کے خاتمے کے لیے کچھ سوچنا ان کے فرائض میں شامل ہے اور نہ روتی چلّاتی ماؤں بہنوں اور سسکتے کراہتے نوجوان زخمیوں​ کے لیے کچھ کرنا ان کی شرعی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

جاری…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں