208

پیپلز کانفرنس کا 24 جون کو طلب کی گئی کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کرنے کا فیصلہ


پیوپلز کانفرنس نے جموں وکشمیر پرمرکزی سرکا ر کی جانب سے بات چیت شروع کئے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس میں شرکت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پارٹی نے اپنے چیرمین سجاد غنی لون کو اختیار دیاہے کہ وہ 24 جون کو وزیر اعظم کی جانب سے طلب کی گئی کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کرکے جموں وکشمیر کے عوام کے دردو کرب کا اظہار کرکے اس کے مداوے کا مطالبہ کریں۔ پیوپلز کانفرنس کی جانب سے ایس این ایس کو بھیجے گئے ایک پریس بیان میں پارٹی ترجمان نے کہا کہ پیوپلز کانفرنس کا ایک اجلاس پیر کو پارٹی چیرمین سجادغنی لون کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم کی جانب سے 24 جون کو طلب کی گئی کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کے بارے میں سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ کے دوران جموں وکشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال اور زمینی سطح کے مسائل کو زیر بحث لاتے ہوئے اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ سیاسی جماعتیں ایک تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے آگے آکر موجودہ جمود کو ختم کرنے میں اپنا رول ادا کریں اور ساتھ ہی جمہوری طرز حکمرانی میں حائل تمام چیلنجوں کے حل کیلئے کوششیں کریں۔میٹنگ میں شامل پارٹی سے وابستہ تمام عہدیداروں نے وزیر اعظم کی جانب سے طلب کی گئی کل جماعتی میٹنگ کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذکورہ میٹنگ جموں وکشمیر میں جمہوری نظام کو دوبارہ پٹری پر لانے اور لوگوں کو بااختیار بنانے کا ایک بڑا وسیلہ ثابت ہوگی۔پارٹی ورکروں نے اس بات پر زور دیا کہ سجاد غنی لون اس میٹنگ میں جاکر شرکت کریں اور جموں وکشمیر کے عوام کو درپیش دردو کرب کی صورتحال کیلئے درکار مداوے کو بڑھ چڑھ کر اجاگر کریں۔پارٹی ترجمان کے مطابق میٹنگ میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ 24جون کو طلب کی گئی میٹنگ جموں وکشمیر اور نئی دلی کے درمیان تاریخ کا ایک نیا باب درج کرے گی اور اس میں جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات کو پیش نظر رکھ کر تبادلہ خیال ہوگا۔میٹنگ کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ بات چیت کے ادارے سے متعلق اعتما داور تقدس کو بحال کیا جائے۔اس بات کا کھل کر اظہار کیاگیا کہ جموں وکشمیر کے عوام کو کافی درد پہنچا ہے اور مسائل بھی درپیش ہیں جبکہ زمینی سطح پر بھی عوام کو عیاں صورت میں مشکلات کا سامناہے جن سے وزیر اعظم نریندر مودی بخوبی واقف ہیں۔اس لئے پیوپلز کانفرنس ضروری سمجھتی ہے کہ اس مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم کی نوٹس میں لایا جائے۔بیان کے مطابق میٹنگ کے دوران اس بات کی ضرورت اجاگر کی گئی کہ 5اگست 2019کے بعد جموں وکشمیر میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے ازالے کیلئے نئی دلی اور جموں وکشمیر کے درمیان ایک نئے رابطے کا باب رقم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جموں وکشمیر کے عوام کے خواہشات کو ایڈرس کیا جاسکے۔میٹنگ میں اور لوگوں کے علاوہ سینئر لیڈربشارت بخاری،منصور حسین،ایڈوکیٹ بشیر احمد ڈار ،محمد خورشید عالم ،راجا اعجاز علی،محمد عباس وانی،محمد اشرف میر،عرفان پنڈت پوری اور رشید محمود بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں