110

8 محرم کے جلوس کے دوران صحافیوں کی مارپیٹ، پولیس سربراہ کی ہدایت پر ہوئی کارورائی

چھ پولیس آفیسران کا کیا گیا تبادلہ ،تین دیگر کو ضلع پولیس لائن سرینگر بھیج دیا گیا ، حکمنامہ جاری


8محرم الحرام کو تعزیہ جلوس کے دوران صحافیوں کی مارپیٹ کے بعد جموںکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کی جانب سے ملوثین کے خلاف کارورائی کے اعلان کے بعد چھ پولیس آفیسران کا تبادلہ کیا گیا جبکہ تین دیگر کو ضلع پولیس لائن سرینگر بھیج دیا گیا ۔ سی این آئی کے مطابق 8محرم کو جہانگیر چوک سرینگر میں محرم جلوس کی عکاس بندی کے دوران پولیس کے ہاتھوںصحافیوں کی مار پیٹ کے ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے کے بعد جموںکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے بدھ کی صبح یقین دہانی کرائی کہ مارپیٹ میں ملوث پولیس افیسران و اہلکاروں کے خلاف کارورائی کی جائے گی جبکہ انہوں نے ایس ایس پی سرینگر کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے کارورائی کریں ۔ پولیس سربراہ کی جانب سے ہدایت ملنے کے کچھ دیر بعد ہی سنیئر سپر انٹنڈنٹ آف پولیس سرینگر نے کارورائی کرتے ہوئے چھ پولیس آفیسران کا تبادلہ کیا گیا جبکہ تین دیگر کو ضلع پولیس لائن سرینگر بھیج دیا۔ اس ضمن میں ایس ایس پی سرینگر کی جانب سے با ضابطہ طور پر ایک حکمنامہ جاری کیا گیا جس کے مطابق انسپکٹر مشتاق احمد، آفتاب احمد بٹ اور غلام مصفطیٰ کو پولیس تھانہ شیر گڑھی، ماسئمہ اور پولیس پوسٹ نہرو پارک سے اٹھا کر انہیں ضلع پولیس لائنز سرینگر بھیجا دیا گیا جبکہ ساتھ ہی کئی پولیس آفیسران کا بھی تبادلہ کیا گیا جن میں محمد اسحاق کو کوٹھے باغ پولیس اسٹیشن سے راج باغ،مدثر نظر کو راج باغ سے کوٹھی باغ لایا گیا ہے،وہیں منظور احمد کو بغیاس پولیس اسٹیشن سے نہرو پارک بھیجا گیا ہے اور شیخ عادل کو بغیاس بھیجا گیا ہے۔ شوکت علی درزی کو اردو بازار سے مائسمہ بھیجا گیا ہے وہیں ظاہر نثار کو نشاط پولیس اسٹیشن بھیجا گیا ہے۔ خیال رہے کہ منگل کو سرینگر کے جہانگیر چوک میں 8محرم کے جلوس کی عکاس بندی کرنے کے دوران پولیس نے مختلف ایجنسیوں اور خبارات سے وابستہ فوٹو جرنلسٹوں کی مار پیٹ کی اور ان پر لاٹھی چارج کیا جس دوران کئی ایک کے کمرے ٹوٹ گئے ۔ جلوس کے دوران صحافیوں کی مارپیٹ کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں