387

کشمیر کے پسماندہ طبقے کی عورتوں کی فلاح و بہبودی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت

ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری

Woman must not depend up on the protection of man, but must be taught to protect herself (Susan.B.Antony’s speech…July 1971)

یہ نوٹ بندی کے دنوں کا ایک واقعہ ہے کہ میں اپنے آبائی قصبے سے شہر کی جانب سومو گاڑی میں سوار ہوکے جا رہا تھا اور راستے میں ہی ڈرائیورنے کہا: ”بھائی کرایہ ادا کرلو“ میرے پاس دو ہزار روپے کا چینج نہیں تھا۔ ڈرائیور نے سر سے ہی میری طرف اشادہ کیا کہ چینج کا بندوبست خود کرلو۔میں پاس بیٹھے سبھی سواریوں سے چینج کے بارے میں پوچھنے لگا، تو انہوں نے نفی میں جواب دے دیا، کسی نے دو ہزار والے نوٹ پر سیاسی لیکچر بھی جھاڑنا شروع کیا۔ میری عدم توجہی کو دیکھ کر ایک مچھلی فروش عورت نے جواب دیا: جگر تمہیں چینج چاہئے، میں دیکھتی ہوں!
ہاں آپا ! میں آپ سے ہی مچھلی خریدتا ہوں، اس لئے آپ کو ہی تکلیف دیں گے۔
کوئی پرواہ نہیں بھائی اگر میرے پاس ہوگا تو اس میں تکلیف کی کون سی بات ہوگی۔ مچھیرن نے اپنی بنڈی کی زپ کھولی اور جیب سے روپیوں کی پوری گھٹری نکالی اور مجھے پچاس سے لے کر سو کے کئی نوٹ دے دئے۔ شکریہ آپا !
یہاں دو باتیں عرض کی جاتی ہیں۔ گاڑی میں سوار باقی تمام لوگوں نے مجھے چینج کیوں نہیں دیا، یا تو ہم میں اخلاقی اور انسانی گراوٹ اس قدر آگئی ہے کہ ہم کسی اور شخص کو خالص پانی کا ایک گلاس پلانے کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتے ہیں۔ دوسروں کے کام آنا تو دُور کی بات ہے! یا ہم لوگ اتنے کنگال ہو گئے ہیں کہ ہمارے جیبوں میں کبھی پھٹی کوڈی بھی نہیںہوتی ہے، تو ہم خالصہ ایڈ، عیدی فاو¿نڈیشن کیا چلائیں گے؟
ہم سے بہتر تو وہ ہماری مچھیرن آپا ہیں۔ اس میں انسانیت ، ہمدردی بھی ہے اور اس کی جیب بھی ہمیشہ گرم رہتی ہے۔ کیونکہ وہ محنت کش ہے، حلال رزق کمالیتی ہے۔ ہم کوئی فمنسٹ یا اندرا گاندھی کے اسپوٹر نہیں ہیں کہ یہاں آکر Women’s Day پر عورتوں کو اس بات کے لئے اُکسائیںگے تاکہ وہ سڑکوں پر نکل کر ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ لگائیں، وحشی ناچ کریں۔ اپنے احتجاج میں نکڈ کھیلیں یا پارلیمنٹ میں بل اور ہائی کورٹ میں پٹیشن درج کریں۔ بلکہ میرے سامنے اس وقت کشمیر کی وہ سادہ لوح پسماندہ عورت ہے جو بہت دنوں تک بیمار رہنے کے بعد ہمارے گاو¿ں کے حکیم کے پاس اپنا علاج کروانے کے لئے آتی تھی تو حکیم صاحب اس کی حالت دیکھ کر پہلے ہی اس کو پوچھ لیتا تھا: ”اچھا جیب میں کتنا پیسہ ہے؟“
یعنی اس حکیم کو پتہ تھا کہ اس بے چاری کو اپنے شوہر یا سسر نے تھوڑا سا پیسہ دیا ہوگا۔ خود کفیل تو یہ ہے نہیں۔ اس لئے اگر میں اس کی بیماری کے مطابق اس کود وائی دے دوں گا ، چونکہ اتنا پیسہ اس کے پاس ہوگا ہی نہیں اس لئے اس کے پاس موجود پیسوں کے مطابق ہی میں اس سے دوائی دوں گا!
حکیم صاحب اپنی جگہ پر ٹھیک کر رہے تھے ، مگر ہم جیسے لوگوں کو عورت کی اس مظلومیت اور بے چارگی پر ترس ہی نہیں رونا بھی آتا تھا۔ آج بھی ایک عورت کے پوشیدہ مرض سے پورا محلہ واقف ہو جاتا ہے کیونکہ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کے علاوہ بھی انہیں کبھی سسر، دیور یہاں تک کہ ہمسائے سے بھی پیسہ اُدھار مانگنا پڑتا ہے۔
سب سے پہلے ایک عورت کے لئے پڑھائی تو بہت ضروری ہے۔ اس کے بعد اگر اسے سرکاری نوکری ملے یا کہیں وہ پرائیویٹ جاب کرے گی یا پھر اپنا کوئی یونٹ قائم کرے گی، تو اس میں کوئی بھی حرج نہیں ہے، البتہ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ چونکہ میں نے بات شروع کی تھی اپنی مچھیرن والی آپا سے، اس لئے میں آج یہاں کشمیر کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی عورت کی فلاح و بہبودی کے بارے میں ہی سوچوں گا۔
کسی بھی فرد یا قوم کی صحیح معنوں میں ترقی بغیر تعلیم کے ممکن نہیں ہے۔ مگر آج کے دور میں یہ بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ اچھی تعلیم پڑھ کر اسی کے مطابق روزگار ڈھونڈنا بھی ہر تعلیم یافتہ مرد اور عورت کا حق بھی بنتا ہے جوکہ ملک کے حالات، نظام وغیرہ کے پیش نظر ہر کسی کے لئے حاصل کر لینا ممکن نہیں ہے، تو ایک پسماندہ گھرانے کی لڑکی جس کے والدین نے اپنے پیٹ کے ساتھ پتھر باندھ کر اس کو پڑھایا ہے، ان باتوں کو پھر کون دیکھتا ہے یا ہر کسی کے لئے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس لئے تعلیم تو ضروری ہے اور روزگار کا معاملہ الگ ہے۔ آج کل لڑکی تعلیم یافتہ ہے، مگر نہ جاب ہے نہ جہیز ہے اس لئے اس کے ساتھ شادی کرلینے کے لئے کوئی تیار ہی نہیں ہوگا!۔ عورتوں کی بہبودی کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ سماج ان کی قدر کریں۔ بلند بانگ دعوے کرنے والے بہت ہیں مگر عملی طور پر سامنے کوئی نہیں آتا ہے!۔
کشمیر اور مسلمانوں کے حوالے سے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اکثر ہم نکاح یا عقد ثانی یا پھر کثرت ازدواج کی بات کرتے ہیں، مگر اس کے لئے جو شرائط یا اصول اسلام میں بتائے گئے ہیں۔ کیا ہم ان پر کھرا اُترتے ہیں؟ نہیں! میرے نزدیک یہاں زیادہ تر ہم خود غرضی اور مطلب پرستی سے ہی کام لیتے ہیں۔ ہاں اگر یہاں خلوص اور نیک نیتی سے کام لیا جائے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ورنہ یہ طریقہ اپناکر ہم پہلے اپنے آپ سے مذاق کرتے ہیں۔ پھر دوسرے ہمارے ساتھ ساتھ ہمارے مذہب کو بھی مذاق بناتے ہیں!
ایک عورت کا خود کفیل ہونا کوئی عیب نہیں ہے۔ اب ایک سماج کو یہ دیکھنا ہے کہ اگر ایک عورت کام کرنا چاہتی ہے، یہ اس کا شوق بھی ہوسکتا ہے اور زیادہ تر مجبوری یا کہیں مستقبل کی ضمانت بھی ۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ میں ان عورتوں کی بات نہیں کر رہا ہوں کہ جو اپنی عزت و آبرو کو داو¿ پر لگا کر مرد کو بھی چالبازی سے پچھاڑدیتی ہیں اور دن دھاڑے دوسروں کے حقوق پر شب خون مار کر کوئی عہدہ لے کر دوسروں کا طرح طرح سے استحصال کرتی ہیں، یہاں تک اپنے ماتحت عورتوں کو مردوں سے زیادہ ستاتی ہیں۔ پھر اپنے آپ کو فمنسٹ، الٹراماڈرن، روشن خیال ۔۔۔ اور نہ جانے کیا کیا نام دیتی ہیں، میرے نزدیک یہاں نہ یہ عورت، عورت رہتی ہیں اور نہ کبھی مرد بن سکتی ہے۔ نہ ہم انہیں تھرڈ جینڈر کہہ سکتے ہیں، بلکہ ©©”عجیب مخلوق“©© انہیں ہم کہہ سکتے ہیں۔ تو ہم اصل بات کررہے ہیں اپنی شریف النفس معاشی طور پر پسماندہ بہو، بیٹیوں کی کہ موجودہ سماج میں ان کا جینا اس مہنگائی کے دور میں کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے سب سے پہلے مردانہ غلبہ والے سماج (Male Dominated Society) کو پہلے تھوڑا سا بدلنا ہوگا۔ یعنی عورت کو جہاں بھی کام پر لگا یا جائے، کیوں نہ اس کے لئے کوئی ایسی جگہ ڈھونڈلی جائے جہاں وہ فٹِ بیٹھے گی اور اس کو کام کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آجائے گی۔
یوں تو ہم بڑے بڑے فلاحی ادارے، مذہبی ادارے اور کارخانے وغیرہ قائم کر لیتے ہیں، کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ کوئی ایسے کارخانے یا دیگر establishments کھولیں جائیں، جہاں کا پورا نظام ہی عورتوں کے حوالے کیا جائے۔ بڑے بڑے لوگوں کی عورتیں یا پھر ایسی عورتیں جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں یا مالدار عورتیں اس ضمن میں بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ مگر ابھی تک ہم نے ایسی کوئی قابل تقلید مثال نہیں دیکھی؟
گھریلوصنعت کاری یا دیگر دست کاری کو اگر فروغ دیا جا سکے، تو عورتوں کے لئے یہ کام بہت ہی موذوں ہیں۔ شال بافی، سوزن کاری، بنیان وغیرہ بنانے کا کام وغیرہ وغیرہ چونکہ یہ پیشے اکثر ایک انسان ورثے میںسیکھتا ہے۔ اب اگر گھر میں یہ کام ہے ہی نہیں، تو اس کے لئے اگر لڑکیوں کے لئے ہماری سرکار یا فلاحی ادارے ٹریننگ سنٹرس کھولیں گے، تو اس کے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔Self Help Group سرکار کی ایک اسکیم تھی مگر اس کا بھی وہی حال ہے جو دیگر سرکاری مشینری کا ہے۔ سرکار چلائے تو ٹھیک، پرائیویٹ سطح پر بھی یہ چلایا جا سکتا ہے۔جہاں تک کہ بازار کا تعلق ہے۔ پٹرول پمپ پر لڑکی کو رکھنا یا پھر خالص کونٹر پر لڑکی کو شوپیس بناکے رکھنا اخلاقی طور پر اچھا نہیں ہے۔ البتہ کیوں نہ کمپیوٹر، کتابت، ڈاکیومنٹیشن سنٹرس وغیرہ سب کچھ ان ہی کے حوالے کیا جائے۔ اسی طرح میڈیکل اور ٹکنیکل لیباریٹریوں کے کام کے لئے بھی عورت بڑی موزوں ہے۔ بیوٹی پارلر، کاسمیٹکس یا اس قسم کے مختلف شاپیز یا عورتوں کے چائے خانے وغیرہ بھی الگ بنائے جا سکتے ہیں۔ الیکٹرانک چیزوں کی مرمت، یا ان کی بِکری کے لئے عورتوں کی جگہ موزوں ہے۔ ان چیزوں کے لئے سب سے پہلے Skill Courses کرنا یا پھر ان کا دستیاب ہونا بھی ضروری ہے۔
اسکولوں میں ٹیچر یا اسپتالوں میں کام کرنا بھی عورت کے لئے بہت اچھا رہتا ہے۔ مگر سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ عورتوں کو ان جگہوں پر کیسے جگہ مل سکتی ہے۔ کم سے کم پہلے انہیں اتنی لیاقت تو پیدا کرلینی چاہئے اور اس کے بعد یہ ہم لوگوں پر فرض بنتا ہے کہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر وہاں جگہ دے دی جائے۔
اسی طرح سلائی اور کڑھائی (اب مشینوں سے یہ سارا کام کیا جاتا ہے) کا ایک بہت بڑا شعبہ شہر اور گاو¿ں میں ہے۔ اس فیلڈ کو بھی عورتوں کو ہی زیادہ تر اپنا لینا چاہئے۔ ہمارے یہاں فارم ہاوسنگ کا تصور بھی بہت کم ہے۔ ایک عورت ترکھانی، مستری یا ڈرائیوری کا کام یا ان کے مددگار کے طور پر تو نہیں کر سکتی ہے (حالانکہ آج کل عورتوں کو ان کاموں میں بھی رکھا جاتا ہے) البتہ اگر کہیں انہیں فارم ہاوس میں کھیتی باڑی وغیرہ کا کام دے دیا جائے تو یہ کام بھی اس کے لئے مناسب ہے۔ چھوٹے پیمانے پر سبزیاں یا میوے اُگانا، پولٹری، دودھ کی ڈائری کا کام وغیرہ وغیرہ غرضیکہ ہر جگہ بہت سے ایسے کام ہیں جن کی وجہ سے ایک عورت خود کفیل بن سکتی ہے اور وہ اپنی نسوانیت بھی برقرار رکھ سکتی ہے۔
اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اس کے بعد ایک عورت کو( چاہے وہ ہماری بیوی ہے یا بہن یا بیٹی) کام کرنے کا موقع دے دینا ہوگا۔ اب اگر ہم اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے، تو اس کا حشر کیا ہوگا۔ وہی جو ہوتا ہے، ہماری بیویاں، بہو بیٹیاں ہمارے مرنے کے بعد در در کی ٹھوکریں کھاتی ہیں۔ نہ صرف اپنے پیٹ کے لئے بلکہ ہمارے بچوں کے لئے بھی۔ ہمارے بوڑھے والدین کے لئے ہماری بہن بیوہ ہوکر ہمارے پاس واپس آجاتی کیونکہ اس کا سسر مذہب کی آڑ لے کر اس کو اپنے گھر سے اس کے اپنے پوتا پوتی سمیت باہر نکال لیتا ہے اور پھر وہ ہمارے لئے بوجھ بن جاتی ہے۔ اپنے اور بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کبھی غیر مناسب کام بھی مجبوراً انہیں کرلینا پڑتا ہے۔ کیوں نہ ہم سرکار یا دوسروں پر بھروسہ کچھ زیادہ نہ کرلیں کیونکہ ان کی اسکیمیں وقتی طور پر ہوتی ہیں اور انہیں حاصل کر لینے کے لئے کیا کیا پاپڑ جھیلنے پڑتے ہیں۔ کٹھ ملاو¿ں اور سماج کے خود ساختہ ٹھیکہ داروں کی باتیں بھی کم سنیں گے، کیونکہ ان سے آج تک کچھ مثبت موادحاصل نہیں ہوا۔ اپنے سماج کو بدلیں گے اور اپنی پسماندہ عورتوں کے لئے ایک ایسی اسکیم بنائیں گے، جس سے ہم سب کا مسقتبل محفوظ اور روشن ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں