98

قومی تھیٹر فیسٹول۔ خوش آئندہ قدم۔ 

تحریر۔۔۔ شافیہ گلفام۔ 

ہارون سرینگر۔ 

اگرچہ صوبہ کشمیر ثقافتی اور تمدنی لحاظ سے امیر ترین صوبہ مانا جاتا ہے تاہم گزشتہ تقریباً تیس برسوں کے نامساعد حالات نے یہاں کے ہرایک شعبے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ جن میں یہاں کا ثقافتی اور تمدنی شعبہ بھی ان نامساعد حالات کی نظر ہوگیا۔ کشمیر کی مہمان نوازی کی مثالیں دنیا بھر میں دی جاتی ہیں اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہےکہ یہاں کی مہمان نوازی  ان نامساعد حالات کے برے اثرات سے قوسوں دور رہی۔یہاں کے فن اور فنکاروں کا جب ذکر ہوتا ہے تو ان میں کئی ایسے نام لئے جاتے ہیں جنہوں نے یہاں کے ثقافتی اور تمدنی ورثے کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب ہم یہاں کے تھیٹر کی بات کرتے ہیں تو دیکھنے میں یہ آیا ہےکہ گزشتہ کئی برسوں سے وادی کے کئی غیر سرکاری ثقافتی اور تمدنی گروپ ڈرامہ فیسٹیولوں اور ورکشاپوں کااہتمام کرتے آئے ہیں جن میں یہاں کے مقامی فنکاروں کو ڈرامہ کے شعبے سے جڑے رہنے کا موقع فراہم ہوتا ہےاور نئی نوجوان نسل کو برے کاموں سے دور رہنے اور اپنے ثقافتی ورثے کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔ وادی کشمیر کے جانے مانے ڈرامہ اداکار اور ہدایت کار منظور احمد میر جن کا تعلق پٹن قصبہ سے ہےکا نام بھی ان ناموں میں شامل ہیں جنہوں نے تقریباً گزشتہ تین دہائیوں سے بڑی لگن اور محنت کے ساتھ وادی کے ثقافتی اور تمدنی ورثے کو زندہ رکھنے میں اہم رول نبھایا ہے۔ منظور احمد میر رواں برس کی 9 اکتوبر سے 16 اکتوبر تک کشمیر پرفارمز کلیکٹیو اور منظور میر اکیڈمی آف آرٹس (MMAA)کے بینر تلے اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے اشتراک سے سرینگر کے ٹائگورہال میں7 روزہ کثیر الثانی قومی تھیٹر فیسٹول کا اہتمام کررہاہے جس میں بہترین مقامی اور غیر مقامی ڈرامے پیش کئے جائیں گے۔ کشمیر کے تھیٹر میں منظور احمد میر ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی زندگی کے 30سال کشمیر میں تھیٹر کی روایات کو زندہ رکھنے کے لئے وقف رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی کوششوں سے نہ صرف جموں کشمیر کے اندر کشمیری تھیٹر کوپہچان ملی بلکہ قومی سطح پر بھی اس کا مقام بلند ہوا۔ روائتی فوک ڈراموں میں نئی جان ڈال کر اور جدید تھیٹر پر ایک نیا تناظر پیش کرتے ہوئے منظور احمد میر نے کشمیر کے ثقافتی منظر نامے پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ 7 روزہ قومی تھیٹر فیسٹول اپنے پیارے وطن میں تھیٹر کو فروغ دینے کے لئے منظور احمد میر کے غیر متزلزل عزم کا مہنہ بولتا ثبوت ہے۔اس قومی تھیٹر فیسٹول کو کوریج دینے کے لئے مقامی اخبارات جن میں کشمیر عظمیٰ۔ روزنامہ گھڑیال۔ روزنامہ ویتھ۔ تعمیل ارشاد اور انگریزی روزنامہ کشمیر ایج نے اپنی خدمات بہم رکھنے کی پیشکش کی ہے۔معروف اداکار اور قلم کار گلفام بارجی اس فیسٹول کو کامیاب بنانے میں منظور احمد میرکے ساتھ اپنی مہارت اور اپنی فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ان کی رہنمائی میں یہ 7 روزہ قومی تھیٹر فیسٹیول ثقافتی جشن کا ایک بے مثال پلیٹ فارم بنے گا۔ اس  تھیٹر فیسٹول کی خاص بات یہ ہوگی کہ فکر انگیز ڈراموں سے لیکر دل دہلا دینے والے اور مزاحیہ ڈراموں سے ڈرامہ شائقین  دلکش اور عمیق تھیٹر کے تجربے کی توقع کرسکتے ہیں۔ اس فیسٹول کا یہ بھی مقصد ہے کہ مقامی و غیر مقامی فنکاروں کی فنکارانہ صلاحیتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا ہے اور کشمیر صوبہ کے ثقافتی اور تمدنی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرناہے۔اس طرح کا قومی تھیٹر فیسٹول کشمیر میں منعقد کرناکشمیری تھیٹر کے لئےخوش آئندہ قدم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں