64

جرائم کا بڑھتا گراف

کشمیری انتہائی سادہ زندگی بسر کرنے والے لوگوں میں شمار ہوتے تھے اور ایمانداری سے روزی روٹی کما کر خود بھی کھاتے تھے اور اپنے اہل عیال کو بھی کھلاتے تھے لیکن زمانے نے کروٹ بدلی اور لوگوں کا رہن سہن تبدیل ہونے لگا ۔ترجیحات بدلنے لگیں اور مادہ پرستی نے سیدھی سادی زندگی گذارنے والوں کے اذہان پر دستک دینی شروع کردی اور اسی کے ساتھ جرائم بھی پنپنے لگے ۔اگرچہ اب بھی کشمیری سادگی پسند ہی ہیں اور جھوٹ مکر وفریب سے دُور بھاگتے ہیں لیکن ان میں کئی عناصر ایسے بھی گھس گئے ہیں جو جرایم پیشہ بن کر لوگوں کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔کل ہی ایک فراڈ کمپنی کا انکشاف ہوا ہے اس کمپنی کے مالکان سادہ لوح کشمیریوں کے ساٹھ کروڑ ہڑپ کرکے نو دو گیارہ ہوگئے ہیں ۔کہا جارہا ہے کہ اس فراڈ میں ان کی مدد و اعانت کئی کشمیریوں نے کی ہے جن کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہئے تاکہ جرایم پیشہ افراد کو عبرت حاصل ہو سکے اور وہ آیندہ جرایم کے ارتکاب سے توبہ کرسکیں۔ اس کمپنی کے مالکان پندرہ دن میں ڈبل پیسے بنانے کا لالچ دے کر لوگوں کو لوٹتے رہے ہیں۔ کہاجارہا ہے کہ اس فراڈ کمپنی کے مالکان کا تعلق چنئی سے ہے البتہ پولیس ان کے مقامی اعانت کاروں کو پکڑ سکتی ہے اور ان سے پوچھ گچھ کے دوران بہت کچھ اگلواسکتی ہے ۔غرض اب وادی میں بھی جرایم جس رفتار سے پنپنے لگے ہیں ان پر ہر ذی حس کشمیری کو تشویش لاحق ہو رہی ہے ۔اس وقت فراڈ چیک کیسوں کے بارے میں بہت سے معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔یہ بھی ایک قسم کا جرم ہی ہے کہ کسی کو فراڈ چیک فراہم کی جائے۔لوٹ کھسوٹ اور بددیانتی کا دور دورہ ہے۔رہی سہی کسر منشیات نے پوری کردی ہے کیونکہ اب بد عناصر جو بنیادی طور پر لوگوں کے دشمن ہیں کشمیری نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ایک طرف پولیس ان کے خلاف کاروائی میں مصروف ہے۔لوگ بھی اپنی جانب سے ایسے افراد کے خلاف صف آراءہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی سرگرمیاں جاری ہیں ۔اس وقت نشہ آور اشیاءآسانی سے دستیاب ہورہے ہیں کہا جارہا ہے کہ ہر بڑے تعلیمی ادارے کے آس پاس منشیات کا دھندا کرنے والے گھومتے رہتے ہیں اسلئے کشمیر اور کشمیریوں کو بچانے کے لئے جرایم پر قابو پایا جانا چاہئے اور وادی میںجرایم پیشہ افراد کیخلاف سختی سے پیش آنا چاہئے ۔حال ہی میں ایک خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ وادی میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب لڑکیاں بھی نشہ آور اشیاءاستعمال کرنے میں پیش پیش رہنے لگی ہیں ان لڑکیوں کے والدین کو کہاں پتہ ہوگا کہ ان کی بچیاں کس طرح کے گُل کھلارہی ہیں اسلئے سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہے جن کو دیکھنا چاہئے کہ کہیں ان کے بچے زندگی کی ڈگر سے ہٹ تو نہیں رہے ہیں کہیں وہ کوئی ایسا کام تو نہیں کررہے ہیں جس سے ان کا مستقبل تباہ ہوجائے اور وہ کہیں کے نہیں رہیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں