98

بچوں کے حقوق

"نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائیلڈ رائیٹس” بچوں کے حقوق کی عالمگیریت اور خلاف ورزی سے متعلق ہے۔ اٹھارہ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے تحفظ پر یہ کیمشن زور دے رہا ہے۔یہ صرف سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ ان بچوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتاہے جوبچے کسی وجہ سے سکولوں سے باہر رہتے ہیں یعنی سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرتے ہیں۔کمشن ایسے بچوں کے لئے ہی بنا ہے کیونکہ سکول جانے والے بچے کسی نظام کے تحت ہوتے ہیں ان کو ڈسپلن سکھایا جاتا ہے۔ان کو تعلیم کے علاوہ دوسری عادتیں بھی سکھائی جاتی ہیں کہ انہیں کس طرح زندگی گذارنی ہے لیکن جو بچے سکولوں کا رُخ نہیں کرتے ہیں اور جن کو کوئی سکھانے ،پڑھانے اور ان کو تہذیب و تمیز سکھانے والا جب کوئی نہیں ہوتا ہے تو ان کے حقوق بھی پاؤں تلے روندے جاتے ہیں۔ ان کے حقوق کی کسی کو فکر نہیں ہوتی ہے اور وہ بے لگام گھوڑے کی طرح ہوتے ہیں جنہیں کسی بھی طرف ہانکا جاسکتاہے۔ ان کے والدین کو صرف ان کی کمائی کی فکر رہتی ہے۔ایسے بچوں کو ان کے حقوق دلوانے اور انہیں بچہ مزدوری سے نجات دلانے کے لئے ہی اس طرح کے حقوق بنائے گئے ہیں جس سے ان کی زندگی سنور سکتی ہے۔جموں کشمیر کے تمام سکولوں میں بچوں کی حفاظت کے لئے سخت اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ بچے ایک محفوظ ترین ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کو جو آئین نے حقوق دئے ہیں انہیں وہ برابر مل سکیں۔محکمہ سکولی ایجوکیشن نے تمام افسروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام سکولوں میں نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائیلڈ رائیٹس این سی پی سی آر کے رہنما خطوط پر عمل درآمد کروائیں۔تازہ ہدایات میں محکمے کے افسروں کو کہا گیا ہے کہ تمام سکولوں میں این سی پی سی آر گائیڈ لائین مینویل کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ان حقوق کے بارے میں جہاں سرکاری اہلکاروں اور افسروں کو معلومات ہوتی ہیں وہیں دوسری طرف عام لوگ ان سے ناآشنا ہوتے ہیں اسلئے این جی اوز اور دوسرے سماجی کارکنوں کو ان حقوق سے لازمی طور پر واقفیت حاصل کرنی چاہئے تاکہ بچوں کو ان کے حقوق دلوائے جاسکیں اور بچہ مزدوری جو سب سے بڑا جرم ہے سے بچوں کو نجات دلوائی جاسکے۔سرکار کی طرف سے بچہ مزدوری کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے باوجود اس بات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ بچے باضابطہ کارخانوں میں کام کرتے ہیں اور فٹ پاتھوں پر چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچ کر روزی روٹی کمانے میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں لیکن یہ صریحاًجرم ہے اور ایسے بچوں کے والدین کے خلاف نہ صرف قانونی کاروائی لازمی ہے بلکہ ان کارخانہ داروں وغیرہ کے خلاف بھی کاروائی کی جانی چاہئے جو چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں سے کام کرواتے ہیں۔اس معاملے میں ٹرانسپورٹر وں کا طرز عمل قابل سراہنا ہے جنہوں نے بچوں سے کام لینا بند کردیا ہے۔کل تک بسوں میں معصوم بچے کنڈکٹر ی کرتے تھے لیکن آج ایسی صورتحال نہیں پائی جاتی ہے۔ٹرانسپورٹروں نے از خود بچوں کو ایسے کاموں سے روکا اور اس طرح آج کل کوئی بھی بچہ بسوں میں نظر نہیں آتاہے۔البتہ کئی سرمایہ داروں کے ہاں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے نوکر بن کر کام کرتے ہیں ایسے سرمایہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہئے۔اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اینٹ بٹھوں پر بھی چھوٹے چھوٹے معصوم بچے کام کرتے ہیں ان کے والدین اور بٹھ مالکان کے خلاف بھی کاروائی کی جانی چاہئے تاکہ اس رحجان کا قلع قمع کیا جاسکے۔تاکہ بچوں کو تحفظ حاصل ہوسکے کیونکہ یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں