264

فلسطینیوں کا قتل عام! دنیائے انسانیت خاموش تماشائی

جہاں اسلامی دنیا عید کی خوشیوں میں مگن تھی وہیں دوسری جانب دنیا کا ایک مظلوم ترین خطہ فلسطین میں لوگ اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے بچوں، بزر گوں اور خواتیں کے کفن اور دفن کے انتظام میں مصروف تھے ۔ہم آج اپنے گھروں میں اس وبائی بیماری کے باوجود اپنے بچوں اور والدین کے ساتھ عید منا رہے ہیں اور فلسطینی اپنے بچوں کی جدائی کے غم میں ماتم کناں ہیں اس ماہ رمضان اور عید کے ان متبرک ایام میں بھی اس صہونی ریاست کی قابض فوج نے فلسطینیوں کو نہیں بخشا بلکہ ظلم و بربریت کے عالمی ریکارڈ اپنے کھاتے میں درج کر دیے ہیں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ ہفتے یعنی 10 مئی جمعتہ الوداع کے دن مغرب کی ناجائز ریاست اسرائیل نے قبلہ اول مسجد اقصیٰ پر وحشیانہ طریقے سے حملہ کر دیا۔سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ اسرائیلی فوجوں کی مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کو راست نشانہ بنانے کے مناظر سے دل دہل جا تا ہے اور آنکھوں سے آنسوں رواں ہو جاتے ہیں۔ در جنوں مظاہرین کو زخمی کرنے کے بعد اسرائیلی فوجی ملت کے سرفروشوں کو مسجد سے نکالنے میں نامراد ہو کر واپس لوٹ گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ قابض فوجیوں اور فلسطینیوںکے درمیان ہونے والی جھڑپیں اس تشدد کا تسلسل ہےں جو مشرقی بیت المقدس کے علاقے” شیخ جراح“ میں کئی دن سے جاری ہے ۔”شیخ جراح“ میں آباد فلسطینی خاندانوں کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے جبری بے دخلی کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں ۔اسرائیل کی عدالت عظمی شیخ جراح میں ایک یہودی آباد کار تنظیم کے حق میں اب مسلمانوں کی بے دخلی کے حکم کے خلاف 70سے زیادہ افراد کی اپیل پر پیر کے روز سماعت کرنے والی تھی۔لیکن اس تازہ جھڑپ کی وجہ سے یہ سماعت ملتوی کر دی گئی ۔اخباری خبروں کے مطابق اس سماعت کے ایک دن پہلے ہی فلسطینی نوجوان پاس میں ہی ایک عمارت میں اینٹوں اور پتھروں سے اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کے لئے پناہ لئے ہوئے تھے ۔جس کے بعد یہ سماعت بھی اسرائیلی عدالت کو ملتوی کرنی پڑی۔ اسی کو بنیاد بنا کر اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے اندر گُھس کے اسٹین گرنیڈ اور آنسو گیس کے گولے داغ کر درجنوں فلسطینیوں کو بُری طرح سے زخمی کر دیا،بلکہ مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی ،نماز پڑھ رہے مسلمانوں کو قابض فوجیوں نے حصار میں لے کر فائرنگ شروع کر دی اور ہزاروں کو زخمی کر دیا۔لیکن اس بربریت کے باوجود بھی اسرائیلی فوج مسجد اقصیٰ کو احتجاجی نمازیوں سے خالی کرانے میں ناکام ہو گئی اس ناکامی کے بعد اسرائیلی فوج نے صرف ایک دن میں 50سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن کی تعداد اب ہزاروں تک پہنچ گئی ہے ۔اس وحشت ناک حملے کے بعد جب حماس نے قابض فوجیوں پر راکٹ سے حملے کر کے اُن کو ظلم سے روکنے کی کوشش کی اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ میںایک اجلا س چل رہا تھا تو وہ بھاگے بھاگے زیر زمین کمپاونڈ میں چھپ گئے ، حماس کے مطابق اس میں کوئی نقصان اسرائیل کا نہیں ہوا اس حملہ کا مقصد صرف اسرائیلی فوج کو مسجد اقصیٰ پر بربریت سے روکنا تھا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں پر راست بمباری شروع کردی جس کے سبب ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 200کے قریب افراد شہید ہو گئے ان شہدا میں بچوں کے ساتھ ساتھ القاسم کمانڈر بھی شامل ہیں ۔اس وحشتناک اور بربریت سے بھر پور حملے کے دوران مسجد اقصی کے اسپیکر سے ایک نوجوان نے روتے ہوئے پکارا کہ ”ہماری مساجد کو مسمار کیا جا رہا ہے، ہماری عزتوں کو داغدار کیا جارہا ہے ،صلاح الدین کہاں ہے ؟ صلاح الدین کہاں ہے ؟یا اللہ گواہ رہناان قابضین کو ہماری لاشوں کے اوپر سے گُزر کر مسجد میں جانا ہوگا۔یا اللہ یہ اُن کی ہے یا ہماری ؟اقصی ٰ ہماری ہے یہ اُن کی نہیں ہو سکتی ۔“یعنی اُس دن سے لیکر تادم تحریر اسرائیل نے فلسطینوں پر بم اور بارود کی جیسے برسات کر دی ہو جس کے سبب وہاں کی مساجد اور فلک بوس عمارتیں زمین بوس ہو رہی ہیں وہیں ہر دن ہزاروں زحمی اور درجنوں فلسطینی شہادت کا جام پی رہے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ یہ حملہ ٹھیک 1969ءکے طرز پر ہوا ہے ۔یہ وہ وقت تھا جس وقت مسجد اقصی کے اندرآگ لگائی گئی تھی ۔لیکن اس حملے کے بعد تمام مسلم ممالک اکھٹے ہو گئے تھے ۔اُس وقت ایک یہودی جس کا تعلق آسٹریلیا سے تھا نے مسجد کے اندر آگ لگا دی تھی وہ آگ تین گھنٹے تک لگی رہی جس کے سبب قبلے کی طرف کا حصہ خاکستر ہو گیا تھا اور سلطان صلاح الدین ایوبی کا جو منبر تھا جو بیت المقدس فتح کرنے کے بعد یہاں رکھا تھاوہ بھی اس کے اندر جل گیا تھا۔اس منبر کی حیثیت اس لئے اہم تھی کہ صلاح الدین نے بیت المقدس کی فتح کے لیے 16 جنگیں لڑیں تھیں ۔آج بھی اُسی طرح کی خبریں مسجد اقصیٰ سے آ رہی ہیں۔
یہ ساری صورتحال جو آج امت مسلمہ کے ساتھ پیش آ رہی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ازل سے ہی یہود و ہنود کا مقصد ہی یہ رہا ہے کہ ملت اسلامہ کو تہہ تیغ کیا جائے ان کے مقدس مقامات کی بے حُرمتی کی جائے ،انکی بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کو تار تار کیا جائے ،انکے بُزرگوں اور جوانوں کو موت کے گھاٹ اُتار کر دنیا میں جشن منایا جائے ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا کے 57اسلامی ممالک اس سارے ظلم و جبر کے خلاف عملی اقدام کرنے میں بے بس و لاچار نظر آ رہے ہیں ۔ مسلمانوں کی پونے دو ارب کی آبادی اس سرزمین پہ مغرب کی ناجائز اولاد کے خلاف محض بیانات کے علاوہ کوئی عملی قدم اُٹھانے سے قاصرہے ۔ایک ارب اسی کروڑ مسلمانوں کی آبادی کے ممالک اس وقت محض 90لاکھ بزدل قاتلوں کے جبڑوں میں پھنس چُکی ہے لیکن داد دینی چاہے فلسطینی عوام کی جو ان ظالموں کے خلاف جذبہ جہاد سے سر شار مزاحمت کر رہی ہے ایک خاتوں نے الجزیریا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے گھر کے دو افراد شہید ہو گیے ہیں لیکن مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لئے ہم اس قربانی کو معمولی مانتے ہیں ۔
لیکن دنیا کے عظیم ترین وسائل وذرائع سے لیس ،دنیا کو سب سے زیادہ تیل فراہم کرنے والے اسلامی ممالک، دنیا کی بہترین فوج رکھنے والے اسلامی ممالک اس وقت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کا نظارہ کر رہے ہیں ۔فلسطینی بچے اور بیٹیاں کٹ مر رہی رہی ہیں اور ملت اسلامیہ کے حکمران رقص و سرور کی محفلوں میں مست و مگن ہیں ۔ان کی غیرت ہی مرگئی ہے آج سارے مسلم رہنماﺅں کو اپنے ذاتی اختلافات کو بھلا کے ایک پلیٹ فارم پہ سارے اس درندہ صفت قاتل اسرائیل کے خلاف صف آرا ہونا چاہیے ۔اس قابض پر ایسی کارروائی ہونی چاہیے تھی کہ دوبارہ وہ اس طرح کے بزدلانہ اور کائرانہ حرکت کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے ۔لیکن افسوس سب اپنی اپنی عیش پرستی کی زندگی میں گُم ہو گئے ہیں اور دنیا میں ملت اسلامیہ کے مظلوم تہیہ تیغ کئے جا رہے ہیں ۔دنیائے مسلم کے ان ہی مفاد پرست حکمرانوں کی خاموشی مسلمانوں کے قتل عام اور ہمارے مقدس مقامات کی بے حُرمتی کی وجہ بنتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ساری ملت اسلامیہ اس کی سزا بھگت رہی ہے ۔ ایک حدیث کے مطابق ”جو بھی مسلمان آدمی کسی مسلمان آدمی کو ایسے مقام پر بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے جہاں اُس کی حرمت پامال اور اُس کی آبرو کو نقصان کیا جاتا ہو اللہ اسے اس مقام پر بے یار و مدد گار چھوڑے گا جہاں وہ چاہ رہا ہو کہ اس کی نصرت ہو اور جو بھی مسلمان آدمی کسی مسلمان کی اس مقام پر نصرت کرتا ہے جہاں اس کی آبرو کا نقصان کیا جاتا ہو اور اُس کی حُرمت پامال کی جاتی ہو ،اللہ ضرور اس کی نصرت اس مقام فرمائے گا جہاں وہ چاہ رہا ہو کہ اس کی نصرت ہو ۔“(سنن ابی داوﺅد،عن جابر)
اسرائیل کے اس بزدلانہ حملے کے بعد ساری دنیا کے مسلم حکمران محض ایک ٹویٹ اور مذمتی بیان کے علاوہ کوئی لائحہ عمل دینے میں ناکام رہے ہیں سوائے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان ۔اپنے ایک بیان میں ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ ”رمضان المبارک کے آخر پر فلسطین سے غم زدہ کرنے والی خبریں موصول ہو رہی ہیں ظالم اسرائیل ،دہشت گرد اسرائیل اپنی مقدسات کا تحفظ کرنے والے ہزار ہا سال سے اپنے گھروں ،اپنے وطن کی ملکیت کا تحفظ کرنے والے القدس کے مسلمانوں پر ،جن کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں ہے ان پر وحشیانہ اور بدترین حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔،مقدس شہر القدس کی آبرو و وقار،عزت اور حیثیت کا تحفظ کرنا ہر مسلمان کی گردن پر فرض ہے ،القدس کی عبادت گاہوں خصوصاً اقصیٰ اور مسلمانوں پر ہونے والے حملے بیک وقت ہم سب پر حملے ہیں ۔اپنے بیان میں اسلامی ممالک کو اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں سے تمام دنیا خصوصاً اسلامی ممالک کو اسرائیل کے مسجد اقصیٰ،القدس اور فلسطینیوں کے گھروں پر ہونے والے حملوں کے مقابل موثر عملی اقدام اُٹھانے کی دعوت دیتا ہوں ،مسلم ممالک کے حکمرانوں کو آواز دے رہا ہوں یک جا اور یک جہت انسانیت کے مشترکہ اداروںکی قراردادیں، بنیادی انسانی حقوق، عالمی حقوق اور تمام انسانی اقدار کی بنیاد پراسرائیل کے اقدامات کو فل الفور روکنے کی کوشش کریں۔اقوام متحدہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم اس ظلم کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے توجانتے ہیں کہ دنیا 5 ممالک سے بڑی ہے۔ اللہ مظلوموں اور ستم رسیدوں کا سب سے بڑا ساتھی ہے ۔“
مسلمانوں کو ایک اللہ کے بھروسے ان ظالموں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو جانا چاہئے ۔ جس طرح سے عرب ممالک نے 1969ءمیں اسرائیل کا مسجد اقصیٰ پر حملے کے بعد تیل بند کر دیا تھا بالکل اُسی طرح سے آج بھی عربوں کو انکا تیل بن کر دینا چاہیے تب جا کے ان ظالموں کے ہوش ٹھکانے آسکتے ہیں ۔ یہ جو دنیا ئے عالمی ادارے بنے ہوئے ہیں یہ اصل میں کفن چوروں کے گروہ ہیں ۔OICنے بھی انتہائی مایوس کر دیا ہے ۔مسلمانوں کی یہ تنظیم ایسا لگ رہا ہے جیسے UNO اورامریکہ کی کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے اسی طرح سے OICعربوں کی غلامی میں ہی رہنا چاہتی ہے ۔عربوں کے مفاد سے باہر یہ تنظیم کچھ سوچنا بھی نہیں چاہتی ۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر آج 57 اسلامی ممالک اسرائیل کو یک جُٹ ہوکر ناجائز ریاست تسلیم کر کے ان کے ساتھ سارے روابطہ منقطع کر کے اسکے خلاف ایک آخری کارروائی کرکے ملت کے اس مظلوم ترین خطہ کو پنجہ یہود سے آزاد کروا دیتی ۔لیکن ابھی تک ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے بلکہ ایسا لگ رہا ہے یہ سارے ان دردانگیز حالات کا نظارہ کر کے راحت محسوس کر رہے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جلد سے جلد OICکو ایک اجلاس طلب کر کے ان کے خلاف عملی طور میدان میں آ جانا چاہیے اس وقت دنیائے مسلم کے چار ممالک ہیں جو اس میں پہل لے کے اس دہشت گرد ریاست کو دہشت گردی اور ظلم سے باز رکھنے میں کامیاب ہو سکتی ہے وہ ممالک،ایران، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان ہیں۔ اگر یہ ممالک اپنے سارے اختلاف بھلا کے مخلصانہ طریقے سے اس اہم وقت پر سامنے آتے ہیں تو میں یہ بات وثوق سے کہتا ہوں اسرائیل اپنی ان دہشت گردانہ کارروائیوں سے باز آ سکتا ہے نہیں تو وہ وقت دور نہیں جب ہمیں فلسطین کی عوام کو برما کے مہاجرین کی طرح دنیا میں در در کی ٹھوکریں کھاتے دیکھنا ہوگا۔ اللہ تعالی فلسطین کے مظلوموں کی مدد فرمائے آمیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں