110

وادی میں یوم آزادی کی تقریبات جوش و خروش سے منائی گئی

سال 2020میں کامیاب ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات نے جموں کشمیر سے ”جنگل راج” کا خاتمہ کر دیا
جموں کشمیر کی ترقی اور امن میں تشدد بڑی رکاوٹ ،کشمیر ی پنڈتوں کی با عزت واپسی کیلئے وعدہ بند / لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا


سخت ترین حفاظتی انتظامات کے بیچ سرینگر سمیت وادی کے تمام ضلع صدر مقامات پر یوم آزادی کی تقریبات انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی جس دوران جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر سمیت دیگر انتظامیہ کے افسرا ن نے ’ترنگا “لہرانے کے بعد مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔اس موقعہ پر جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سال 2020 میں اپنی نوعیت کے پہلے کامیاب ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات نے جموں کشمیر سے ”جنگل راج” کا خاتمہ کر دیا ۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جموں کشمیر کی ترقی اور امن میں تشدد بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ جو بھی نوجوانوں کو تشدد کی جانب اکسا رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارورائی ہو گی ۔ اسی دوران انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کشمیری پنڈتوں کی عزت سے واپسی کیلئے وعدہ بند ہے۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر اور وادی کے دوسرے ضلع مقامات پر 15اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات منانے کے سلسلے میں یہاں شیر کشمیر سٹیڈیم سرینگر اور دوسرے ضلع صدر مقات اور تحصیل مقامات پر خصوصی تقریبا ت کا انعقاد ہوا ۔ سرینگر کے شیر کشمیر سٹیڈم میں جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے تقریب کامعائینہ کیااور تقریب پر قومی پرچم لہرانے کی رسم انجام دی اور پریڈ پر سلامی لی۔ تقریب میں جموں وکشمیر پولیس،آئی آر پی، سی آر پی ایف ،این سی سی ،فائر اینڈ ایمر جنسی سروسز، فارسٹ پروٹکشن فورس، جے کے آکزلری پولیس نے حصہ لیا۔ تقریب میں یومِ آزادی منانے کے سلسلے میں ترتیب دئے گئے تمام پروگراموں کا بھی جائزہ لیا گیا ۔اس موقعہ پر اپنی تقریر میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ مرکز کا زیر انتظام علاقہ گذشتہ برس کی تبدیلیوں کے باعث نئی معمولات کی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جموں کشمیر میں تبدیلی لانے کیلئے امن اور ترقی کو زینہ بنائیں گے۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ سال 2020میںکامیاب ڈی ڈی سی انتخابات کے بعد جموں کشمیر میں ”جنگل راج” کا خاتمہ ہو چکا ہے جبکہ جمہوریت اور امن و امان پھل پھولنے لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی کے جمہوریت کے اصول کو کئی دہائیوں تک جموں وکشمیر میں کلکٹریٹ روایت نے پنپنے نہیں دیا۔ لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر نے میں رائے دہندگان نے ڈی ڈی سی کے منصفانہ، شفاف اور تشدد سے پاک انتخابات میں حصہ کر اپنے نمائندے منتخب کئے ہیں جو عوام کے حقیقی نمائندے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی ترقی اور امن میں تشدد بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ جو بھی نوجوانوں کو تشدد کی جانب اکسا رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارورائی ہو گی ۔ انہوں نے پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک کشمیر میں نوجوانوں کو عسکریت کی طرف بہکاتا ہے، لیکن اس کا بھر پور اور ٹھوس مقابلہ کیا جائے گا۔انہوں نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد ہونے والی ترقی اور تعمیری کاموں کی تفصیل دے کر کہا کہ جموں وکشمیر اگلے 25 سالوں میں نیا کشمیر بننے والا ہے جہاں امن و خوشحالی ہوگئی اور لوگ ترقی کے نئے ادوار دیکھیں گے۔انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں پانچ نئے میڈیکل کالجز کھولے گئے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ کووڈ 19 وبائی مرض پر قابو پانے کے حکومتی اقدامات کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کو روکنے کے لئے طبی و دیگر عملے نے جذبے سے کام کرکے اس وبا کے پھیلاو¿ کو قابو کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی دہائی میں جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریوں کے ذرایعہ پیدا کئے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ مہاجر کشمیری پنڈتوں کی ان جائیدادوں کو بحال کرے گی جن پر لوگوں نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے میں جموں کشمیر حکومت اپنے وعدوں پر کار بند ہے ۔ اسی طرح وادی کے دوسرے ضلع صدر مقامات پر بھی یومِ آزادی کے سلسلے میں تقریبات ہوئی ۔ ادھر شہر سرینگر کے علاوہ وادی کے دیگر اضلاع میں بھی یوم آزادی کی تقریبات جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی جس دوران سیول اور پولیس آفیسران نے پرچم کشائی کرکے پریڈ پر سلامی لی ۔ ادھر یوم آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کیلئے جموںکشمیر میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا تھا اور حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے ۔مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں اور شیر کشمیر اسٹیڈیم سرینگر کے علاقوں کو فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا گیا تھاجبکہ پولیس وفورسز ذرائع کے مطابق تقریبات کے دوران جنگجوﺅں کے حملوںکا خدشہ موجود ہیں جسے ٹالنے کیلئے پولیس وفورسز کو حد متارکہ کے ساتھ ساتھ پورے جموںکشمیر میں سیکورٹی کو متحرک کردیا گیا تھا ۔ اسٹیڈیم کی طرف جانے والی شاہراﺅں پر چیکنگ پوائنٹ قائم کئے گئے ہیں ،شارپ شوٹرس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہیں، سی سی ٹی وی کیمرو ںاور ڈرون کے ذریعے لوگوں کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھی جار ہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں