170

یوم عاشورہ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

بڈگام ، گاندربل اور وادی کے دیگر اضلاع میں عزاداری اور ذوالجناح جلوس نکالے گئے


یوم آشورہ کے موقعے پر تعزیہ کے جلوس برآمد ہونے کے خدشات کے پیش نظر شہر سرینگر کے کچھ حصوں میں بندشوں کے بیچ سرےنگر اور بڈگام سمیت وادی کے کئی مقامات پر شیعہ سنی کارڈنیشن کمیٹی کے زیر اہتمام عزاداری اور ذوالجناح کے بڑے بڑے جلوس نکالے گئے ۔سی این آئی کے مطابق ہر سال کی طرح اس سال بھی یوم آشورہ کے پروگروام پر انتظامیہ نے سرینگر کے کچھ حصوں میں پابندی عائد کر دی تھیں ۔ جمعرات کو شہر کے آبی گذر علاقے میں پابندیاں نافذ کردی ہیں تاکہ شیعہ برادری کے افراد کو عاشورہ کے موقع پر جلوس نکالنے سے روکا جاسکے۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ کے تحت آنے والے آبی گذر علاقے میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر کے لاچوک اور آبی گذر علاقوں میں پولیس نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی گئیں تھی تاہم اس کے باوجود بھی شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں جلوس نکلائیں گئے ۔ جمعرات کو وادی کے کئی اضلاع میں جلوس برآمد کئے گئے کے ،سب سے بڑے جلوس امام باڑہ میر گنڈ بڈگام اور امام باڑہ بٹہ کدل سے برآمد کئے گئے جن میں ہزاروںکی تعداد میں عزاداروں نے شرکت کر کے شہدائے کربلا ؑ کے تئیں اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔ پلوامہ سے اطلاع ہے کہ ضلع کے کئی علاقوں میں بھی جلوس برآمد ہوئے جن میں گانگوہ، وکھرون، ہانجی کلو ، ہتھ کوہل اور پنر ترال بھی شامل ہیں۔اننت ناگ سے اطلاع ہے کہ صوفی پورہ ،ولرہامہ ،پہلگام، شانگس چھترگل ،شاہودیوسراور دیگر علاقوں میں بھی ماتمی جلوس نکالے گئے۔ گاندربل کے بوٹہ کولن کنگن ،ڈب گاندربل ،اندر کوٹ، سمبل،گومت پورہ، نوگام اور دیگر علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں عزا داروں نے جلوس نکالے۔ لداخ خطے کے کرگل اور لیہہ اضلاع میں یوم عاشورہ کی مناسبت سے ذوالجناح کے بڑے جلوس بر آمد ہوئے۔ادھر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی یوم عاشورا کی تقریبات عقیدت و احترام سے منائی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں