89

سوَچھتا ہی سیوا ہے۔۔!!

معراج زرگر (ترال)

راشٹر باپو یعنی موہن داس کرم چند گاندھی اس معاملے میں بڑے صاف ستھرے تھے کہ کبھی بھی من کو میلا نہ ہونے دیا۔ من کی سندرتا کے بڑے پرچارک اور خود بھی بڑے وِوَستھِتھ یا صاف ستھرے رہتے تھے۔ ایک لنگی پہنے رہتے تھے جو بڑی نرم اور اُجلی پہنتے تھے۔ اپنے چہرے پہ بھی ایک سندر اور معصوم مسکراہٹ لپیٹے رہتے تھے جو ہر کھوٹ اور دھول کچرے سے پاک اورسُوَچھ ہوتی تھی۔ ایک عینک بھی آنکھوں پر سجائے رہتے تھے، تبھی تو صاف صاف دکھائی اور سجھائی دیتا تھا۔ مگر جیسا پہلے ہی کہا کہ باپو من کے بڑے وِوَستھتھ اور صاف ستھرے تھے۔
2 اکتوبر باپو کا جنم دن ہے۔ اور جھاڑو صفائی کا کام جاری ہے۔ سُوچھتا کا ابھیان زور و شور سے ہر گلی نکڑ اور چوک بازار میں کِک اسٹارٹ ہوا ہے۔ کیا صفائی کرم چاری کیا کلکٹر صاحب، کیا مہیلا کیا پُرش، کیا شکشک کیا ادھیاپک، کیا تحصیلدار کیا چپراسی، کیا انجینئر صاحب کیا فورمین، کیا سوچالیہ کیا ماربل فلور، کیا بنک کیا اسکول، کیا کھلیان کیا بغیچہ، کیا بس اسٹاپ کیا ریلوے اسٹیشن، غرض سب جگہ جھاڑو پھرا جا رہا ہے۔
ایک ہمارے مِتر بڑے سخت جان تھے۔ کچھ دن پہلے سنا کہ وہ بھی "سویپ” کرتے ہیں۔ اور بڑھیا سویپ کرتے ہیں۔ ایسا لپیٹ کر کھیلتے ہیں کہ سوریہ کمار یادو بھی "باپو رے باپو” کی مالا جھپنے لگتے ہیں۔ ایک جگہ سنا ہے کہ بہت کچھ جمع ہو گیا تھا۔ ایسا "سُلاگ سویپ” کھیلا ہے کہ گیند ابھی واپس ہی نہیں آرہی۔
آج ہی کہیں سنا ہے کہ کئی سو جھاڑو، ڈسٹ بِن، بریانی کے ڈبے، یونیفارم، کیپس، ڈیزل، پیٹرول وغیرہ وغیرہ بہت ساری جگہوں سے "کلین سویپ” ہوئے ہیں۔ عام دنوں میں بھی جس کا جہاں بس چلتا ہے، صفائی ابھیان کرکے باپو کو شردانجلی امرپِت کرتے ہیں۔ کئی کرم چاریوں کے جھاڑو ایسے جادوئی ہیں کہ معمولی سے معمولی سراخ سے بھی جھاڑ جھنکار ایسی مہارت سے کھدیڑ دیتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔
ایک جاپانی نے لالو سے کہا تھا کہ بہار ہمیں دیدو، دو مہینے میں ٹوکیو بنا کے دیں گے۔ لالو بھی بڑا منہ پھٹ تھا۔ جھٹ سے جواب دیا کہ ٹوکیو ہمیں دیدو، فقط دو دن میں بہار بنا کے دیں گے۔ آپ نے تو سنا ہی ہوگا کہ کبھی کبھی غلاظت اور گندگی کے ڈھیروں سے ہیرے جواہرات بھی برآمد ہوتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو ہیرے جواہرات کی جگہوں کو گندگی اور غلاظت میں بدل دیتے ہیں۔ اور ہم ہی وہ ہیں جو "صفائی” اور "سوشیلتا” سے اگر ڈسٹ بِن میں بھی ہاتھ ڈالیں تو کم سے کم کوئی سوٹ، کوئی بوٹ، کوئی جیکٹ، کوئی شرٹ پینٹ، جھمکا لہنگا، چائے پیسٹری، فرائڈ رائس، بٹر چکن یا کم از کم دو انڈوں کا آملیٹ نکال ہی لیتے ہیں۔
مْلّے صاحب بھی صفائی ابھیان کے برانڈ ایمبیسیڈر ہیں۔ شیرنی فیرنی کے ساتھ ساتھ پوری کی پوری میتھی یخنی پہ ایسا ہاتھ صاف کیا کہ علمدار نامدار اب بھی واکھ کہتے تھک نہیں رہے۔
ملا ووچھْم مونشا کھیوان
ہاکس دپان یہ چھوئی کچھ
اپنے ایک پروفیسر صاحب کا بھی جواب نہیں۔ لائیبریری کے دریدہ دریچوں اور کاٹھ کباڑ سے ایک پرانی پُستک برآمد کرکے اس پہ ایسا ملہار چھڑکا کہ اگلے سال ایک من موہنیا کے نام سے ڈگری چھپی۔
کچھ ہمارے چمتکاری اور چمتکارنیاں حضرتِ انٹرنیٹ دامت برکاتہ پہ بھی ہاتھ صاف کرتے ہیں اور وہی "مواد شریف” اپنے نام سے چھاپ کر ایسا "ہالف سویپ ہالف گلانس” کرتے ہیں کہ سچن میاں شرم سے منہ چھپا لیتے ہیں۔ خود ان ڈھیٹ”سوچھ کاروں اور کاریوں” کو مگر شرم نہیں آتی۔ ان بے چاروں اور بے چاریوں کو یہ نہیں معلوم کہ سوچھتا ابھیان کا بھی کوئی "پرکرِیاتمِت سِدھانت” اور مان مریادھا ہوتی ہے۔ ایسے ہی کسی ٹرننگ وکٹ پہ سویپ کرنے لگے تو کسی دن جبڑا ہاتھ میں آئے گا۔
خیر زیادہ سمے نہیں ہے۔ اور پھر راشٹر باپو کی آتما بھی ناراض ہوگی۔ صفائی کا دور دورہ ہے۔ جدھر مرضی ہے جھاڑو پھیرو۔ جہاں مرضی ہے سوچھتا کا ابھیان چلاؤ۔ مگر ساؤدھان۔۔۔۔۔!! گھر میں جورو کے ٹیریٹوریل جیورس ڈکشن میں کوئی صفائی ابھیان نہیں چلے گا۔ وہاں جھاڈو کھانے کی چیز ہوتی ہے، چلانے کی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں