85

یہ بھی کیا نمرود کی خدائی ہے ؟

رشید پروینؔ سوپور

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ چنواتے ہیں معمار کو دیوار کے ساتھ

اسرائیلی حق میں جلسے جلوس اور ان کے ساتھ یکجہتی نہ تو کوئی انہونی ہے اور نہ ہی کوئی اچنبھے کی بات ہے، کیونکہ ہر حال میں ’’کند ہم جنس باہم جنس پرواز ‘‘ایک آفاقی حقیقت ہے ۔۔ یہاں ظالم اور مظلوم کی بنیادوں پر کہیں بھی اور کسی بھی جگہ ہم آہنگی نہ تو برتی جاتی ہے اور نہ ہی اب مظلوم کے ساتھ کوئی طاقت کھڑی ہوجاتی ہے بلکہ اب یہ محظ نظریات کی بات رہ گئی ہے اور اسرائیل اور آر ایس ایس کے خدو خال بلکل ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت بھی رکھتے ہیں بلکل ایک دوسرے کی ہی پرچاچھائیاں کہلائی جاسکتی ہیں۔ دونوں میں نظریات کے لحاظ سے بھی کمال کی مشابہتیں ہیں یہی وجہ ہے کہ مظلوم اور بے بس و بے کس فلسطینیوں کے حق میں بی جے پی ریلیاں شروع ہوچکی ہیں اور کیوں نہ ہوں جب کہ ہمیں معلوم ہے کشمیر میں ایک عرصے سے اسرائیلی ذہن سازی سے ہی بہت سارے منصوبے تشکیل پا کر ان پر عمل بھی ہوچکا ہے۔
میرا موضوع حماص اور اسرائیلی جنگ نہیں کیونکہ صرف کچھ دنوں میں ہی واضح ہوجائے گا کہ پتھر اورکارپیٹ بموں کے تصادم کا کیا نتیجہ سامنے آ ئیگا ؟۔۔ سنگھ پریوار جو کچھ بھی کہہ رہا ہے اور جو بھی عمل ان سے سر زد ہورہا ہے وہ ان کا نہ صرف ما فی الضمیر ہے بلکہ ان کا ایجنڈا اور پروگرام رہا ہے، بلکہ زیادہ مناسب یہ کہنا ہوگا کہ یہ فسطائی تنظیمیں انہی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی تھیں جس کا اظہار نریندر مودی کے دور میںیہاں کھل کے ہورہا ہے اور اس میں کسی قسم کی پردہ داری کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی ہے اور نہ یہ سارے مذموم اور گھناؤنے عمل پردوں میں چھپا کے کئے جارہے ہیں ۔ ۱۹۳۰ء میں ہندوتا کا فتنہ انگیز نظریہ سب سے پہلے ہندو مہا سبھائی لیڈرو نائیک دامورساورکر نے پیش کیا تھا ،اس نظریہ کی حمایت میں کئی تنظیمیں وجود میں آئیں جو مسلم کش اور اقلیتوں کو ختم کرنے کے نقطے پر متفق تھیں۔ اس دور میں چونکہ آزادی کی جنگ بھی جاری تھی اس لئے ان فرقہ پرست تنظیموں کو کوئی خاص پزیرائی نہیں ملی لیکن مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد ان تنظیموں نے کھل کر اپنے نظریات اور آئیڈیالوجی کے حق میں محاذ کھڑے کئے۔ اگرچہ ایک لمبے عرصے تک بھارت پر سیکولر اورجمہوری طرز نظام حاوی رہا اور حکومت بھی انہی قوتوں کو حاصل ہوتی رہی لیکن دھرم اور چھوت چھات کی جڑیں بھارت میں ہزاروں سال گہری اور مضبوط ہیں اس لئے اس لحاظ سے آرمی، پولیس نیم فوجی اور دوسرے تمام اہم اورلا اینڈ آرڈر مینٹین کرنے والے اداروں میں ہندوتا کے حامی بڑی تعداد میں جگہ پاتے رہے بلکہ یہی لوگ ان اداروں میں اوپر سے نیچے تک بھرتی ہوتے رہے، اقلیتیں اور مسلم ان کلیدی اداروں سے کافی دور رکھے گئے۔ دوسری اہم وجہ یہ بھی رہی کہ کانگریس بھی آہستہ آہستہ اپنی کمزوریوں اور کرپشن کے سیکنڈلوں کی وجہ سے ان طاقتوں کی یر غمال بنی۔ بابری مسجد کے ڈھائے جانے سے سنگھ پریوارایک سونامی کے روپ میں سیکولر اور جمہوری طرز نظام کو بہاکر لے گئی اور عام ، خام ہندو کے ذہن میں یہ بات نقش ہوگئی کہ شدھ دھرم یہی ہے کہ اس دیش میں صرف ہندو رہے اور ہندوتا ہی قائم رہے اور ہندوتا کے علمبردار یا ہندودھرم کے ٹھیکیدار بھی صرف یہی پریوار ہے۔
پچھلے الیکشنوں میں سنگھ پریوار نے جس طرح پر فارم کیا وہ ایک حیرت انگیز اور منصوبہ بند طریق کار تھاجس کی پشت پر تما م برہمن ، سادھو سنت ، ہندو دھرم کے ٹھیکیدار ، بھارت کے تمام سر مایہ دار اور سب سے بڑی سریع الاثر چیز الیکٹرانک میڈیا ایک وحدت بن کے کھڑی ر ہی جس کے نتیجے میں نریندر مودی جو آر آر ایس کے متحرک کارکن ہیں اور جس کی پہچان ہی گجرات میں مسلم قتل عام ہے ۔اتنے بڑے دیش کے وزیر اعظم بن گئے ۔اس سارے پس منظر میں اگر سنگھ پریوار جنون کی حد تک جا پہنچا ہے تو کوئی انہونی نہیں۔ بھارت کو اکھنڈ تا ، ہندوتا اور شدھ کرنے کا ایجنڈا ان کے لئے کوئی نیا نہیں ، بلکہ پہلے ہی سے موجود ہے۔ عدم برداشت، فرقہ پرستی ، زندہ انسانوں بچوں بوڈھوں ،عورتوں اور نحیفوںکو آگ کی نذر کردینا ان کے لئے پنیہ کا کاریہ ہے اس لئے اب یہ سارے کام کھل کے، بغیر کسی جھجک کے اور بغیر کسی تاویل کے انجام دئے جارہے ہیں اور ان شرمناک ، انسانیت سوز اور ننگ انسانیت کارناموں پر کسی قسم کی کوئی ندامت یا شرمساری محسوس نہیں کی جارہی ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ معصوم جانوں کو زندہ جلانے اور بے رحمی سے قتل کرنے پر سنگھ پریوار صاف اور واضح الفاظ میں نہ صرف خوشی کا اظہار کر رہا ہے بلکہ ان ایوانوں میں گھی کے چراغ بھی جلائے جا رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ نت نئی تاویلات اور تشریحات سے ان سیاہ اور ننگ انسانیت کارناموں کو جوازیت بخشی جارہی ہے، اس طرح سے تمام اقلیتوں کو اور خاص طور پرمسلم اقلیت کو ایک واضح پیغام دیا جارہا ہے کہ اس دیس میں اب ان کے لئے بحثیت مسلم کوئی جگہ نہیں ،یہاں تک کہ اب مسلم بچوں کو انتہا پسند ہندو ٹیچربر ملا پٹوانے میں اپنی تسکین محسوس کرنے لگے ہیں اور یہ ایک ترقی پذیر ملک اور سماج کے لئے کس قدر شرمناک اور ذلالت کی بات ہے ۔ اس پر ذلالت کے تاج میں کئی پروں کا اضافہ اس وقت ہوا، اور ہوتا ہے جب گاؤ کشی کے بہانے یہی شدت پسنداور عقل کے اندھوے مسلمانوں کا بے رحمی اور سفاکی سے سر راہ قتل کررہے ہیں۔ اس پس منظر میں بی جی پی کی پر اسرار خاموشی اور لا قانونیت سے شہہ پاکر سارا ملک ہی نمرودی دور میں داخل ہوچکا ہے۔ اس حکومت کی اگر چہ عام لوگوں کو کچھ باتیں عجیب اور ناقابل فہم لگتی ہیں لیکن ماضی پر نظر رکھنے والوں اور تاریخ کے آئینوں میں جھا نکنے والوں کے لئے اس میں کوئی نئی اور انوکھی بات نظر نہیں آتی۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ آر ایس ایس اپنے اوائل اور شروعات سے ہی دلتوں ، مسلموں اور دوسری اقلیتوں سے کھار کھائے بیٹھی ہے ۔
لوگ بدل گئے، زمانے بدل گئے، وقت نے ساری دنیا کو اکیسویں صدی کی دہلیز پر کھڑا کیا، ترقی یا فتہ ممالک چاند ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں ،اور بھارت خود چاند پر اتر چکا ہے لیکن بہت بڑا جمہوری ملک نئے سرے سے اپنے اس ماضی کی طرف لوٹ رہا ہے جس سے ترقی یافتہ اقوام اور انسان (ڈارک ایجز ) تاریک دور کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جب اونچ نیچ، چھوت چھات، غلامی اور عدم برداشت نے معاشروں اور سماجوں کو دیمک کی طرح چاٹ رکھا تھا، اس سب کے بارے میں بھارتی وزیر اعظم کا رویہ عجیب تر ہی نہیں بلکہ عجیب ترین ہے ، وہ شاید اپنے آپ کو بھارت کا وزیر اعظم سمجھنے کے بجائے آر ایس ایس کا کما نڈر تصور کرتے ہیں جن کے ہاتھ میں تمام اقلیتوں کا خون بہانے کے لئے ہاتھ میں سرکاری تلوار دی گئی ہے، یہ دور چنگیزیت اور نادر شاہی دور سے بھی بدتر حالات اور واقعات کو جنم دے رہا ہے اس دور کے خدو خال نمرودی ادوار سے سو فیصد مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ خونچکاںاور المناک واقعات روم کے اس شہنشاہ کی یاد دلاتے ہیں جو روم کی تباہی اور بربادی کے دوران چین سے اپنی مرلی بجاتا رہا، یہ تاریخ کا ایک المناک باب ہے اور دیکھا جائے تو یہاں بھی اسی طرح کی تاریخ دو ہزار برس بعد رقم کی جارہی ہے جب وزیر اعظم ہند ان سب المناک اور شرمناک واقعات کو نظر انداز کرکے چین اور آرام کے ساتھ مختلف ممالک کے دوروں پر آتے جاتے ہیں اور بڑی مشکل سے ہی اپنی زباں سے صرف اتنی سی بات کہتے ہیں کہ ان واقعات سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ پھر کس شخص کو ان خونین واقعات سے واسطہ ہے ؟ کس کی ذمہ داری ہے ؟ آخر وزیر اعظم کی ذمہ داریاں پھر کیا ہیں ؟ کیا قتل عام ہی ان کے فرائض میں شامل ہیں اور کیا ملک اور ملک کے وسیع تر مفادات پر ان کی نظر ہی نہیں جاتی ؟ایسا تو ہو نہیں سکتا لیکن یہ سوچ شاید سنگھ پریوار پر حاوی ہوچکی ہے کہ پہلی بار وہ اکثریت کے ساتھ ہندوتا کی وجہ سے تخت نشین ہوچکے ہیں اس لئے یہی راستہ درست بھی ہے اور یہی راستہ انہیں ہمیشہ تخت نشین رکھنے کے لئے کافی ہے۔ اس سوچ کے رد عمل میں بلا خوف و خطر کے نہ صرف اقلیتوں سے نمٹنے اور انہیں ملک بدر کرنے کے سخت بیانات داغے جارہے ہیں بلکہ عملی طور پر انہیں خوف و دہشت میں مبتلا رکھا جارہا ہے۔ ایک چھوٹی سی مدت کے لئے خوف و دہشت کا عالم خاموشی اختیار کرنے اور ظلم سہنے پرآمادہ ضرور کرتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہتھکنڈے دیر پا ثابت نہیں ہوتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو ، بے یارو مدد گار، ننگے بھوکے فلسطینی عوام بھی امریکہ ، یورپی یونین اور اسرائیل جیسی سپر پاور کے خلاف ، ظلم و جبر اور ستم رانیوں کے باوجود ، میزائیلوں کے پیچھے پتھر لے کر دوڈ پڑے ہیں اور ان سپر پاورس کی نیندیں حرام کرچکے ہیں ، یہ اور اس طرح کے مائنڈ سیٹ اور اپنی طاقت کے غرور اور گھمنڈ میں مغرور ہاتھی یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا مچھر بھی بہت بڑے ہاتھی کے نتھوں میں گھس کر اس سے تڑپا تڑپاکر گِدھوں کے لئے شکارمردہ بناکے ہی دم لیتا ہے۔
بھارت سرکار نریندر مودی جی کی سر براہی میں ایک بار پھر ہزاروں برس پہلے کے اندھیروں کو قریہ قریہ تلاش کرکے اپنی جھولی میں بھر کر سارے دیش میں یہی اندھیرے بانٹتے پھر رہے ہیں۔ منافرت، فرقہ پرستی، عدم برداشت، تنگ نظری مذہبی جنونیت یہ سب ظلمت اور نمرودی نشانیاں ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر نمرود کے لئے ایک موسیٰ ضرور پیدا ہوتا ہے۔۔۔جس سے نمرودوں کا مکافات عمل شروع ہوتا ہے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں