141

’’ ستیزہ کار ہے چراغِ مصطفویٰ سے شرارِ بو لہبی ‘‘

رشید پروینؔ سوپور

پچھلے کئی مہینوں سے ایک گھناؤنے منصوبے کے تحت شان اقدسﷺ میں گستاخیاں اور قرآن پاک کی بے حرمتیاںکچھ مغربی ممالک میں مسلسل جاری ہیں اور ایک اخباری اطلاع کے مطابق اس طرح کا ایک واقع گوا میں حالیہ دنوں پیش آچکا ہے۔ مغربی دنیا میں جن میں ڈنمارک اور سویڈن آگے آگے ہے اس طرح کی مذموم حرکتیں ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی منظم ایجنسی یا تنظیم ہے جو اپنے مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے منظم طور کام کر رہی ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ ہی عرصہ پہلے سویڈش سرکار کے تعاون سے قرآن حکیم کے نسخے جلاکر اور پھر اس کی بے حرمتی کر کے دو ارب مسلمانوں کا جگر چیر کر رکھ دیا گیاتھا اور یہ واقع سویڈش دارالحکومت "اسٹاک ہوم” میں پیش آیا تھا۔ اس کے لئے اس شخص (جوکہ بظاہر عراقی نژاد اور جس کا نام "سلوان مومیکا” بتایا گیاتھا ) نے خاص طور پر عید ا لضحیٰ کا دن اور جائے مقام بھی ایک بڑی مسجد کے سامنے چن کر سرکاری تعاون اور حمایت سے یہ گھناؤنی اور مذموم حرکت کر ڈالی ۔ ظاہر ہے کہ ایسی مذموم حرکات کا منشا ہی یہ ہوتا ہے کہ عالم اسلام کے دل مجروع ہوں اور جب اس کا ردِ عمل سامنے آئے تو یہ ڈھنڈورا پیٹا جائے کہ مسلم لوگ اور عوام دہشت گرد ہیں۔ پچھلی دہائی کے اندر اس طرح کی بے شمار گستاخانہ حرکتیں ہوئی ہیںجن کی وجہ سے یاتوقرآن پاک کی بے حرمتی ہوئی ہے یا صاحب قرآن ﷺکی شان اقدس میں گستاخیاں ہوئی ہیںجو کہ ان مغربی ممالک کے اپنے قوانین کی رو سے بھی ایک ناقابل معافی جرم کا ارتکاب ہے ، لیکن افسوس کہ یہ ممالک ان قوانیں اور ساری دنیا میں تسلیم شدہ بہتر اقدار اور معیارات کی خلاف ورز یوںکے مواقع پر اپنی آنکھیں موند لیتے ہیں اور ان تمام نازیبا اور دل آزار مکروہ منصوبہ بند سازشوں کو آزادی رائے سے تشبیہ دے کر مسلم دنیا کے خلاف میڈیا کی جنگ چھیڑ دیتے ہیں بلکہ مسلسل ایک کے بعد ایک نیامحاظ کھولتے رہتے ہیں ۔
در اصل نائن الیون کے بعد امریکی سر پرستی میں ایسے واقعات میں سبک رفتاری پیدا ہوچکی ہے ۔ امریکی چینل فاکس نیوز پر ۱۸ ستمبر ۲۰۰۲ کو ایک جنونی مذہبی رہنما جیری فال فوئل نے انتہائی گستاخانہ الفاظ دہرائے تھے ، اس کے بعد امریکی ریاست ہوسٹن میں ایک خصوصی فلم سینما گھروں میں دکھائی گئی تھی جو حضور دو عالم ﷺ کی ازدواجی زندگی پر مبنی ، توہین آمیز تھی ۔ ۲۰۰۴ میں ہالینڈ کے ایک اور فلمساز تھیون واں گو نے دس منٹ کی ایک ڈاکیو منٹری فلم کی نمائش کی جو شان رسول ﷺ میں گستاخی تھی اور اس فلمساز کو محمد بیوری ایک نوجوان نے ایمسٹرڈم میں کیفر کردار تک پہنچایا تھا۔ نائن الیون کے بعد سے اگر ان سارے واقعات کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی ضخیم کتاب بن جائے گی ۔اور ان ملعونوں میں پچھلی دو دہائیوں میں نام نہاد مسلم نژاد کچھ نام بھی شامل ہوئے جن میں سلمان رشدی ، تسنیمہ نسرین اور کئی نام ہیں جنہیں مغرب نے سونے میں تولا ہے۔ فرانس کے سموئل پیٹی ایک استاد نے شان رسولﷺ میں گستاخی کا ارتکاب کیا اوران گستاخانہ کارٹونوں کی نمائش کی جن پر ڈنمارک اور یورپی حواریوں کے خلاف مسلم دنیا نے احتجاج کیا تھا۔ اس بار اس واقعے کی نوعیت اس بات نے بدل دی کہ اس گستاخِ رسولﷺ کا سر ایک مسلم لڑکے نے فی الفور قلم کیا اور اس طرح اس گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔
بہر حال ہمیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سب کیوں اور کس لئے ہو رہا ہے ؟۔ در اصل یہ طرز عمل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اہل یہود یہ جانتے اور سمجھتے تھے کہ نبی’’ برحق‘‘ ہیں اور یہی وہ آخری نبی ہیں جن کی بشارت تورات ، انجیل اور بائبل میں واضح دی گئی ہے لیکن ، حضرت اسحاق ؑ کی نسل سے ہی سارے نبی اور رسول آتے چلے گئے تھے ، اس لئے یہ بات ان کے لئے ناقابل قبول تھی اور ہے کہ اتنی بڑی شان والا ، آخری اور تمام نبیوں کا سردار اسماعیلی نسب سے پیدا ہوا ۔ دوسری بات یہ کہ اہل یہود شروع سے ہی نسلی امتیاز میں مبتلا ہیں اور اپنے آپ کو ایک بر گزیدہ اور اللہ کی چہیتی اور پسندیدہ قوم کے طور تسلیم کرتے اور مانتے ہیں۔ یہ دوباتیں آج بھی انہیں حق سمجھنے سے محروم کئے ہوئے ہیں ۔ آج بھی اہل یہود کے لئے یہی بات ناقابل قبول ہے جو چودہ سو برس پہلے تھی۔ یہ جو آج گستاخیاں ایک منصوبے ا ور مکمل منظم طور پر اہل یورپ آزمارہے ہیں وہی صدیوں پہلے کی سوچ و اپروچ ہے جو رسالت مآب ﷺ کی اصل سیرت کو چھپاکر نت نئی من گھڑت ا صطلاحیں جیسے جادو گر ، مجنون ، اور اس جیسے دوسرے الفاظ کا استعمال کرکے نبی ﷺ کی شبیہہ بگاڑنے کی کوششیں دن رات کیا کرتے تھے اور آج اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہلانے والے یہ ممالک بلکل اسی سوچ و فکر اور وہی عزائم اور اہداف رکھتے ہوئے ان نئے طور و طریقوں سے وہی کارنامہ انجام دینے کی کوشش میں اللہ کی سزا کے مستحق ہورہے ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں پہلے ہی اللہ نے واضح کر دیا تھا ( پس، آپ ﷺ اس سے’’ قرآن‘‘ کو کھول کر بیان کیجئے اور ان مشرکین کی پروا نہ کیجئے ، ہم مذاق اڑانے والوں سے نمٹنے کے لئے کافی ہیں ،،( الحجر ۹۴، ۹۵) )۔اہل یورپ صدیوں سے اس ایک ہدف کو پانے کے لئے مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکا رہیں ، اس کے لئے یورپ اور ان کے ساتھ اہل مشرک و یورپ بہت بڑے محاظ کھولے ہوئے اہل ایمان کی استقامت اور صبر کو آزمارہے ہیں۔ یہ لوگ اب تک اس منزل کو پانے کے لئے لاکھوں اور کروڈوں بے گناہوں کا لہو بہا چکے ہیں ، اور اپنے میڈیا، ٹیکنالوجی ، عسکری قوت اور سرمایہ کی بنیادوں پر انہیں لگتا ہے کہ وہ اس سازش اور ناپاک منصوبے میں کامیاب ہوں گے۔
ان منصوبوں کے پیچھے جو عزائم ہیں انہیں اس دور کے مسلم نوجواں کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ۔ان مقاصد میں اولین یہ ہے کہ تعلیم کے لبادے میں مسلم دنیا کو قرآن حکیم کی تعلیمات سے دور رکھا جائے، اور دوئم یہ کہ صاحب قرآن کی محبت اور ان کے ذات اقدس سے والہانہ عشق کو ختم کیا جائے، سوئم یہ کہ ’پروپگنڈا اور میڈیا کی قوت کا استعمال کرکے اہل ایمان کے دل و دماغ کو برین واش کرکے ذات اقدس ﷺ کے قدو قامت کو گٹھایا جائے اور اس میں آخری یہ کہ اہل اسلام پر دہشت گردی کی لیبل لگا کر انہیں پشت بہ دیوار کیا جائے۔ بظاہر اس دور کے حالات کا جائزہ لینے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یورپی اقوام، اہل یہود و اہل ہنود بڑی حد تک ان اہداف کو پانے میں کامیاب نظر آتے ہیں،کیونکہ وہ اس نقطے پر متحد ہیں ۔ اور مسلم دنیا میں کوئی ایسی مؤثر آواز اور ایسا فورم یا ملک نہیں جو کفر کی ان اشتعال انگیزیوں کا مقابلہ کرنے کا اہل ہو ، لیکن اس کے باوجود اب بھی مسلم دنیا نہ صرف سراپا احتجاج بن جاتی ہے بلکہ اہل ایمان اور جن کے دلوں میں عشق رسول ﷺ مؤجزن ہے اپنی جانوں کا نذرانہ شمع رسالت پر پروانہ وار نثار کرنے میں کسی ہچکچاہت اورکسی تذبذب کا شکار نہیں ، مسلم عوام کے سینوں میں اب بھی عشق رسول ﷺ کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر موجود ہیں لیکن مسلم دنیا کے سربراہان اور وقت کے حکمران اپنی مصلحت کوشی اپنے اقتدار اور اپنی بادشاہتوں کو بر قرار رکھنے کی تگ و دو میں ان بڑی طاقتوں کے سامنے غلامانہ طرز عمل کے لئے مجبور ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ ممالک وقفے وقفے سے منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے شان اقدس ﷺ میں گستاخیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام مراد یہ سارے نام نہاد اسلامی ممالک جن میں باطل اور کفری نظام رائج ہیں ، اشک شوئی اور مسلم عوام کے خوف سے چند مذمتی بیانات دے کرسمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے فرئض انجام دئے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ یہ سارے لوگ اور سر براہان مغربی اور اسرائیلی قوت کے سامنے سر بسجود ہیں ، یہ اس بات کی غماز ہے کہ مسلم دنیا جو دنیا کی دوسری بڑی آبادی اور جس میں لگ بھگ ۵۷ ممالک شامل ہیں اور حد یہ ہے کہ اس میں ایک ایٹمی پاور بھی ہے بہت سار ے قوانین اور آئین سازی صریحاً اسلامی تعلیمات اور نظام کے خلاف کر چکے ہیں۔ جس کے بدلے میں اللہ اپنی سنت کے عین مطابق انہیں ذلت و رسوائی مقدر کر رہا ہے اور اس آخری دور کے اختتام پر اس حدیث مبارکہ کی عملی تفسیر سامنے آئے گی جس میں فرمایاہے گیا ہے کہ’’ یروشلم کے میدان کار زار میں سو میں سے نناوے قتل ہوں گے ‘‘ ، ’’ وہ منصوبے بناتے ہیں اور اللہ بھی اپنے منصوبے رکھتا ہے اور اللہ ہی کے منصوبے ہر حال میں کامیاب ہوتے ہیں‘‘ (القرآن) ),لیکن ہم بحثیت مسلم اپنی آزمائش اور متحان میں ناکا م ہیں اور ایسے مسلموںکے لئے یہ حدیث مبارک چشم کشا ہونی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں