75

کرسمَس ڈے کی اسلام میں کیا حقیقت ہے؟

خالد فردوسی، پیلی بھیت

کرسمس ڈے سے مراد حضرت عیسٰی علیہ السلام کا یوم ولادت منانا ہے، عیسائیوں کا اپنا یہ عقیدہ ہے کہ کرسمس ڈے 25  دسمبر کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی اسی خوشی کو لیکر وہ اس کو خوشی کا دن مناتے ہیں اور بہت ساری خوشیاں مناتے ہیں. کرسمس ڈے کو مختلف نام سے یاد کیا جاتا ہے، عیسائی اس دن کو ایک عظیم تہوار کے طور پر مناتے ہیں، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کے نام پر بے جا خرافات مناتے ہیں، جو سراسر غلط ہے اگر آپ اس کی حقیقت میں جائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا 25 دسمبر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کا دن نہیں ہے بلکہ یہ دیگر بت پرست اقوام سے لی گئی ہے. کیونکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے یوم پیدائش کسی بھی قطعیت سے معلوم نہیں ہے

قرآن مجید اور دیگر کتب سماوی سے یہی معلوم ہوتا ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش موسم گرما میں ہوئی ہے موسم سرما میں نہیں کیوں دسمبر موسم سرما کا مہینہ ہے

کرسمَس ڈے پہ بہت ساری خرافات ہوا کرتی ہیں جس سے ہمیں آگاہی حاصل کرنا بے حد ضروری ہے

25 دسمبر عیسائیوں کے لیے عید کا دن ہوتا ہے جس کو عیسائی کرسمس ڈے کے نام سے جانتے ہیں عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تبارک و تعالی کے بیٹے ہیں اللہ کی پناہ اسلام کے مطابق غلط عقیدہ ہے. کسی کو اللہ کا بیٹا کہنے سے کفر لازم آتا ہے، کیونکہ اللہ وہ ہے جس کو نہ کسی نے جنا اور نہ وہ کسی کو جنتا ہے، سورہ اخلاص میں بہت سارے مذاہب کا رد کیا گیا ہے، کسی کو اللہ تبارک و تعالی کا بیٹا ماننا اس قدر خطرناک و خوفناک معاملہ ہے کیونکہ  اس کی وجہ سے کائنات کا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے، ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم کرسمس ڈے میں ان کو مبارکباد دے کر ان کے باطل عقائد کا اقرار و اعتراف کا عظیم جرم نہیں کر رہے ہیں؟ 

حدیث میں آیا ہے کہ ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی سے زیادہ کوئی صبر کرنے والا نہیں اس تکلیف دہ بات پر جسے وہ سنتا ہے لوگ اللہ کے لیے اولاد بناتے ہیں، جبکہ اللہ تعالی اس کو معاف کر دیتا ہے اور ان کو رزق عطا فرماتا ہے، کرسمس ڈے منانا کفر کے مشابہت ہے ۔معلم انسانیت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر قوم کی رسم و  رواج جاننے کو، اپنانے والے کو، انہیں کے مذہب میں داخل ہونے کے مترادف قرار دیا ہے۔ حضور علیہ وسلم کا ارشاد ہے، کہ جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہو جاتا ہے، اب اگر کوئی عیسائی مذہب یا جو دیگر مذاہب ہیں ان کی اتباع و پیروی بھی کرے گا تو وہ انہی میں سے ہو جائے گا۔ کرسمس ڈے دین اسلام میں ایک بدعت ہے. 

اسلام میں مسلمانوں کے لیے دوعید ہیں تیسری عید کا وجود کہیں نہیں۔ کرسمس ڈے میں شرکت دراصل شریعت کے حرام کاموں میں شریک ہونا ہے کیونکہ وہ  اس رات میں شراب نوشی ناچ گانے وغیرہ بہت سی بے حیائی باتوں کو انجام دیتے ہیں ساتھ ہی ساتھ آتش بازی بھی زوروں  پر ہوتی ہے،  اسلام میں ناچ گانا شراب نوشی اور مرد و زن کا اتصال بہت سختی سے منع کیا گیا ہے. 

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اللہ کے دشمنوں سے ان کے تہوار میں جانے سے اجتناب کرو۔ غیر مسلموں کے تہوار کے دن ان کی عبادت گاہوں میں داخل نہ ہو کیونکہ ان پر اللہ کی ناراضگی ہوتی ہے

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی شخصیت نہایت ہی قابل احترام ہے، اور ان کی سیرت و زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیا، ان کی پاک و صاف زندگی اور ان کی ماں حضرت مریم علیہا السّلام کے پاکیزہ کردار کی شہادت قرآن کریم نے دی ہے، جتنی سچائیوں کو قرآن نے بیان کیا ان کی تحریف کردہ کتابوں میں بھی وہ نہیں ہیں۔لیکن ان لوگوں نے خود ان مبارک ناموں پر اپنی عیش و مستیوں کو پورا کیا اور اس بے حیا ئی کے طوفان میں پوری دنیا کو لے جا نا چاہتے ہیں۔ دیہات، قریوں کے مسلمانوں پر ان کے ایمان لیوا حملے، دین سے دور مسلمانوں کو عیسائیت کے جال میں پھانسنے کی تدبیریں دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ حقائق کو بھلاکر کفر وشرک کے دلدل میں انسانوں کو پھنسانے کی کوشش میں مال و دولت کے انبار لٹارہے ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کو ان حقائق سے باخبر رہنا ضروری ہے، ان تمام رسموں اور رواجوں اور غیر وں کے تہواروں سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ کرسمس کا تہوار منانے میں مشرکوں اور کفار کی مشابہت ہے جو ان تقریبات کو اپنے شرکیہ اور کفریہ نظریات کی بنا پر مناتے ہیں، بلکہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی رو سے بھی جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس بات کو سب تسلیم کرتے ہیں کہ اس قسم کی تقریبات ان کے دین میں بھی جائز نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ تقریبات اور تہوار شرک و بدعت کا ملا جلا شاخسانہ ہے۔ مزید برآں یہ کہ اس کے ساتھ ساتھ ان محفلوں میں منعقد کیے جانے والے فسق و فجور کے کام بھی ان کی برائی میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں، تو ان سب امور میں ہم کفار کی مشابہت کیسے کر سکتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو رضائے الٰہی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں