200

افسانہ ۔۔۔جنگل راج

ڈار طارق حکیمؔ ۔کرناہی
7889966362

جنگل میں بھیڑیوں کا جھنڈ جو کافی عرصے سے جنگل میں تباہی برپا کرنے کی تاک میں تھا جنگل میں شیروں کی حکومت کافی طاقتور تھی جو کسی کو فسادات پھیلانے کا موقع نہیں دیتی تھی۔ شیروں کا راجہ جو سارے جنگل کا بادشاہ تھا بادشاہ دھیرے دھیرے کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ نئی نسل میں بہت سارے نوجوان شیر تھے جو صرف اس تاک میں تھے کہ بادشاہ کب مرے گا ہمیں اس کی بادشاہت مل جائے گی لیکن بادشاہ سے بغاوت کی کسی کو بھی ہمیت نہ تھی۔ بادشاہ پر درند،چرند و پرند سبھی کو اعتبار تھا۔ راجہ انصاف پسند بادشاہ تھا یہ ہر ایک کے ساتھ انصاف کرتا تھا۔ جنگل میں کوئی بھی نواں قانون رائج کرنے ہوتے تو بادشاہ سب جانوروں سے مشورہ لیتا جو سب کے حق میں ہوتا وہ قانون ہی منظر عام پر آتا۔ بادشاہ کمزورں اور بے سہاروں کا خوب تحفظ کرتا یہ دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتا، ہر کوئی بادشاہ سے خوش تھا۔ بھیڑیوں کا کئی دوسری جگہوں سے بھاگ کر یہاں آنا شروع ہو گیا۔ یہاں سال گزرتے گئے، بھیڑیوں کی تعداد میں بھی بڑھوتری ہوتی گئی۔ یہاں کے اصول بڑے سخت تھے شکار منع تھا بھیڑیوں کا اہل وعیال بھوک سے مرنے لگا ۔۔ بھیڑیوں نے آپس میں اصلاح کی ہم یہاں کے بادشاہ کے پاس جاتے ہیں، بھیڑیوں کے سردار بادشاہ کے پاس پہنچے ۔۔ بادشاہ سے کہا۔۔ بادشاہ سلامت ہم بھوک سے مر رہے ہیں ہم پر کوئی رحم کریں۔ بادشاہ نے کہا۔۔ یہاں پر کوئی بھوکا نہیں رہتا آپ کو بھی کھانے کو ملے گا۔ بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا۔۔۔بھیڑیوں کو کھانے کا سامان دیا جائے۔۔۔ چند ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا ۔۔بھیڑیوں کا پیٹ کوے کی مثال ہے۔ بھیڑیوں کی آبادی بڑھتی گئی۔ یہ بادشاہ کے پاس آکے کہا۔۔ بادشاہ سلامت ہمیں ایک علاقہ عنایت کر دو بادشاہ نے کہا۔۔ یہاں رہنا ہے تو اس جگہ کے اصولوں کی قدر کرنی ہو گی،یہاں پر کسی کو ناحق مارنا منع ہے فسادات پھیلانا منع ہے دوسرے مذہب کی عزت و احترام کرنا ہے۔ بھیڑیوں کے سردار نے کہا۔۔۔ بادشاہ سلامت ہمیں آپ کا حکم اور قانون سر آنکھوں پر ۔ بھیڑیوں کے سردار نے تمام بھیڑیوں کو سخت ہدایات دی کہ یہاں پر کسی بھی قسم کا خون خرابہ نہیں کرنا،آپ سب مل جل کر ایک کام کروں جہاں کہی بھی جنگل میں منافق، باغی اور لالچی لوگ ملیں انہیں دوست بنا لو ۔۔۔چند برس یہ سلسلہ چلتا رہا ۔۔۔جنگل کے بادشاہ بیماری کی وجہ سے کافی کمزور ہو گیا تھا، شیروں کی طبقاتی جنگ میںبادشاہ کی موت واقع ہوگئی۔۔۔ بادشاہ کو اپنا کوئی سُپتر نہیں تھا۔۔اس نے بھتیجے کو اپنے ساتھ رکھا تھا، مرنے سے پہلے بادشاہ نے مہا رانی کو اپنے بھتیجے بلوان۔۔۔ کے متعلق آگاہ کیا تھا کہ میرے مرنے کے بعد بلوان ۔۔۔کو بادشاہ بنایا جائے۔ بادشاہ کی موت کے بعد بھیڑیوں کو اچھا خاصا موقع مل گیا۔ سبھی جانوروں میں بے چینی کا عالم تھا ہر کہیں چیخ و پکار ہر کوئی خوف میں تھا اب ہمارا کیا ہوگا۔ بھیڑیوں کے سردار کو بھی موت کی خبر پہنچ گی شیروں کے خاندان سے ہی باغی شیر ظالم جو بادشاہ بننے کی جستجو میں تھا۔۔۔۔ یہ بادشاہ کے فیصلہ سے پہلے ہی ناراض تھا اسی بات کا فائدہ بھیڑیوں کے سردار نے اٹھاکر لالچی شیر سے ملاقات کی، اس کے ذہن میں ایسی زہر گھول دی یہ عہدہ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔۔۔ بھیڑیوں کے سردار نے ظالم سے محاطب ہو کر کہا ۔۔۔ خونہار شیر ہم آپ کو جنگل کا بادشاہ بنا سکتے ہیں ۔۔۔۔ظالم نے کہا یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔سردار۔۔۔۔آپ مہا رانی سے کہوں کہ بادشاہ کے لیے الیکشن ہونے چاہے ۔۔۔۔باقی سب ہم پر چھوڑ دو ۔۔۔بھیڑیوں کے سردار نے کہا۔۔الیکشن میں ہم آپ کی بھر پور مدد کریں گے۔۔۔ ہم منافق،چاپلوس اور لالچیوں سے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔۔ ظالم ہمیت کر کے مہا رانی کے پاس پہنچ گیا، دعا سلام ہو۔۔۔ مہا رانی نے کہا ۔۔ظالم کیسے آنا ہوا ۔۔۔۔مہا رانی جنگل میں سب آپ کے فیصلہ سے ناحوش ہیں وہ کہتے کہ بادشاہ کے لیے الیکشن ہونے چاہے ۔۔۔مہا رانی نے کہا۔ بلوان تو بہت ہی بہادر اور انصاف پسند ہے، بادشاہ نے اس کو منتخب کرنے کو کہاتھا ۔۔۔ ظالم۔۔۔ ایک بار سبھی جانوروں سے پوچھ لو ۔۔۔مہا رانی نے کہا ٹھیک ہے ظالم ڈر کی وجہ سے بھیڑیوں کے سردار سے ملنے پہنچا۔۔۔ سردار اب کیا ہو گا میں نے تو مہا رانی کو کہہ دیا۔۔ بھیڑیوں کے سردار نے کہا یہ ہم پر چھوڑ دو آخر پاپی پیٹ کا سوال ہے۔۔۔ بھیڑیوں کے سردار نے اپنے خیر خواہوں کو کہا کہ ہمارے ساتھ مہا رانی کے پاس چلو وہاں آپ سب کو صرف ایک بات کہنی ہے کہ ہمارا بادشاہ ظالم۔۔۔۔ ہونا چاہیے۔ جب مہا رانی کے پاس پہنچے تو انہوں نے زور زور سے ظالم کے حق میں نعرے شروع کر دئے۔ ان میں تمام باغی، چاپلوس، لالچی اور منافق تھے ۔۔مہا رانی نے جب یہ منظر دیکھا وہ تعجب ہو گئی اس نے کہا ۔۔میں مشورہ کروں گی۔ طے یہ ہوا کہ ظالم کو بادشاہ بنا دیا جائے اپنا ہی خون ہے۔۔۔چند ایماندار اور سچے فیصلہ کے خلاف تھے لیکن مہا رانی کے حکم سے سرشکی نہیں کر پائے ۔
ظالم کو بادشاہ کا عہدہ ملتے ہی بھیڑئے ظالم سے ملنے آن پہنچے ۔۔۔ وقت کا استعمال ان کو خوب آتا تھا۔۔ بھیڑیوں کے سردار نے ظالم کو یاد دلایا بادشاہ سلامت ہماری کچھ شرتیں تھیں۔۔۔ ظالم نے کہا مجھے یاد ہیں تھوڑے مہینے صبر کرو ۔۔۔ظالم نے جنگل کے پہلے قانون رد کر دئے۔ یہ خبر جب جنگل میں جانوروں کو پتہ چلی تو وہ مہا رانی کے پاس پہنچے ۔ مہا رانی نے کہا ہم اس کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ بلوان کسی کام سے جنگل میں موجود نہیں تھا اس کو بھی خبر دی گئی۔ قانون کے خلاف سڑکوں پر آگئے ۔ظالم نے فوراً حکم دیا کہ انہیں قید کر لیا جائے۔ چال باز بھیڑیوں نے حکومت میں بھی شموليت اختیار کر لی۔ بھیڑیوں پر جو پابندیاں تھی وہ ختم ہوگئی۔ اب کھلے عام ظلم و استبداد شروع ہو گیا۔ انہوں نے چھوٹے، بڑے امیر، غریب کسی کو نہیں بخشا۔۔۔ جنگل کے حالات اتنے خراب ہوگئے کہ کہیں کسی گوشہ میں سکون نظر نہیں تھا۔ مہارانی اور کئی سارے جنگل چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے لومڑیوں نے بھیڑیوں سے ہاتھ ملا لیا اور بھیڑیوں کی راز جوئی کرنی شروع کر دی۔۔ بھیڑیوں کے سردار کے خواب یہی تک محدود نہیں تھے اس نے ظالم کی حکومت میں رہ کر کوتاہیاں سمنجھنا شروع کر دی۔ چند سال گزرنے کے بعد جب بادشاہ کے الیکشن کی باری آئی تو بھیڑیوں کے سردار نے کہا بادشاہ تو میں ہی بنوں گا ۔۔۔ ظالم نے کہا کیسے ۔۔۔سردار نے کہا الیکشن کرا لو۔۔۔ بھیڑیوں کے سردار نے اپنے خیر خواہوں سے کہا جنگل کہ گوشہ گوشہ میں پھل جاؤں سب کو ووٹنگ کے لیے خرید لو۔ جو مانتا ہے ٹھیک، جو سرشتکی کرے اسے سبق سکھاؤ ۔۔۔
الیکشن میں آخر کار بھیڑیوں کی جیت ہو گئی۔۔ ظالم…. بادشاہ کو بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔ جنگل پر بھیڑیوں کا مکمل راج ہو گیا۔۔۔ سب کچھ ان کے چنگل میں آچکا تھا ۔۔۔بھیڑیوں نے شیروں اور ہاتھوں کا بھی شکار شروع کر دیا۔۔۔۔بھیڑیوں کے بادشاہ نے ایسے قانون نافذ کیا کہ جو یہاں رہنا چاہتا ہےٹھیک ورنہ چلا جائے۔۔ بےروزگاری عام ہو گئی نوجوانوں در در کی ٹھوکرے کھا رہے تھے۔۔۔ مہارانی جنگل چھوڑ کر چلی گی۔۔۔شیروں اور ہاتھوں نے بھیڑیوں کی غلامی شروع کر دی ۔۔۔۔۔جنگل کے وہ سرسبز باغ، جہاں چوہراہوں پر چہل پہل، کھیل کود، درند کا گرجنا، چرند کی وہ درد بھری آوازیں، پرند کی چہچہاہٹ شام کے وقت کی وہ محفلیں سب ویرانی کا منظر رو رو کے پیش وپس کر رہی تھیں۔ سچے اور ایماندار جنگل چھوڑ کر چلے گئے تھے۔۔۔.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں