298

تنخواہ سے محروم کشمیر کے اساتذہ اور خودکشی!

ڈاکٹر محی الدین زورؔ کشمیری

The man who, in a fit of melancholy, kills himself today, would have wished to live had he waited a week. (Voltaire Philosophical Dictionary, cato”.

یہ خبر سنتے ہی ہمارا دل بہت دکھی ہوا کہ دمہ ہال ہانجی پورہ، کولگام کشمیر کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ طالب علم شعیب احمد میر ولد بشیر احمد میر نے خود کشی کرلی اور زہر کھالینے سے پہلے انہوں نے اپنے ویڈیو میں اپنی خودکشی کے وجوہات بھی بیان کئے!۔
ان کا والد ایک سرکاری ٹیچر ہے اور پچھلے کوئی تین برسوں سے وہ تنخواہ سے محروم رکھے گئے۔ جس کی وجہ سے ان کے جیسے ہزاروں تنخواہ سے محروم مختلف نوعیت کے سرکاری ملازموں کو طرح طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور یہی دشواریاں کبھی کبھار خودکشی، چوری، فاقہ کشی، ذہنی مرض، قرض، بے عزتی وغیرہ کا باعث بھی بنتی ہیں۔ ان حالات میں اپنے آپ کو روک پانا بظاہر آسان بات ہے، مگر جب کسی شخص پر کوئی مصیبت آجاتی ہے تو وہی شخص اس درد کو سمجھ سکتا ہے جس کو وہ سہنا پڑے گا۔
مختلف لوگ اس مسئلے پر طرح طرح سے سوچیں گے۔ اگر یہاں کے سیاست کاروں اور ان کے چیلے چمچوں کا صفایا مرکزی سرکار نہیں کرپاتی، تو اپوزیشن والے ضرور ان کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہا لیتے ، اور حریت والے باہر کی سازش چلاتے رہتے۔ مولویوں اور مذہبی پیشے سے تعلق رکھنے والوں میں یہاں ابھی بھی کچھ دم باقی ہے، اس لئے اس مسئلے پر وہ کچھ فتویٰ وغیرہ جاری کر سکتے ہیں۔!
میں یہاں پہلے اس مسئلے سے کچھ Related ایک اور آنکھوں دیکھی بیان کرتا ہوں۔ کچھ برس پہلے میں اپنے گھر سے ماگام سومو گاڑی میں سوار ہوکے ڈیوٹی پر جارہا تھا۔ ان دنوں یہاں الیکشن کا بازار گرم تھا۔ اس سلسلے میں ایک گاو¿ں میں سیاسی جلسے کی تیاری ہو رہی تھی۔ لوگوں کی بھیڑ کے پیش نظر وہاں کچھ دیر کے لئے گاڑی کو آہستہ آہستہ چلنا پڑا۔ میرے ساتھ سیٹ پر سوار ایک ہیڈ ماسٹر صاحب کشمیر میں الیکشن اور اس گاو¿ں میں چہل پہل کو موضوع بناکر ایک لمبا چوڑا لیکچر جھاڑنے لگے۔۔۔:
”بڑی افسوس کی بات ہے کہ اس گاو¿ں میں کتنے لوگ شہید ہوگئے اور آج یہ لوگ یہاں رنگ رلیاں مناتے ہیں۔۔۔“ لوگ ان کی باتوں کی تائید کرتے جاتے ہیں اور ماسٹر جی رُکنے کا نام ہی نہیں لیتے ہیں۔!
چونکہ میں اس ماسٹر جی کو برسوں سے اچھی طرح سے جانتا تھا اور مجھے اس بات کی بھی خبر ہے کہ طرح طرح کی سیاست کے ساتھ ان کے کتنے گہرے روابط ہیں اور ان کے گھر میں اور رشتے میں کتنے لوگ پچھلے برسوں سے بیک ڈور میں سرکاری ملازم لگ گئے، اس لئے بے ہمت ہونے کے باوجود بھی میں لب کشائی کرنے کے لئے مجبور ہو گیا اور ماسٹر جی سے پوچھنے لگا:
اچھا ماسٹر جی اس گاو¿ں میں لوگ جلسے میں شرکت کرکے گناہ کبیر کر رہے ہیں، کیونکہ یہاں اتنے شہیدوں کی بیوائیں ہوں گی، ان کے یتیم بچے ہوں گے۔۔۔ ضعیف اور لاغر والدین ہوں گے۔۔۔ مگر مجھے آپ یہ بتایئے کہ نیک ہمسایہ ہونے نے ناطے کیا آپ نے کبھی ان لوگوں کی کچھ مدد کی یا نہیں۔ ویسے آپ کا اچھا خاصا اثر و رسوخ ہے، سرکاری دفتروں میں بھی اور عوامی سطح پر بھی۔۔۔۔“
میری یہ تلخ باتیں سن کر ماسٹر جی ہوں ہاں کرنے لگے اور پھر اخبار پڑھنے لگے، جس پر لکھا تھا ’کل سے دو دنوں کے لئے پوری وادی میں ہڑتا ل رہے گی، کیونکہ مرکزی سرکار کا ایک پارلیمانی وفد وادی کا دورہ کرنے کے لئے آرہا ہے۔!‘
غرض یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے ہمارا یہاں کا لوکل سرکاری نظام چلا رہے ہیں اور ایسے ہی دورُخی لوگ ہماری سیاست میں ہیں، ہماری سرکاری انتظامیہ میں ہیں اور عوامی سطح پر بھی مختلف ایوانوں میں وہ ہم پر راج کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک حساس انسان کا جینا انہوں نے حرام کر رکھا ہے، چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا کوئی کاروباری۔ ہر کوئی سیدھا سادھا اور نیک راہوں پر چلنے والا یہاں جہنم کی زندگی بسر کر رہاہے۔
اب جہاں تک ہمارے ماسٹروں یا محکمہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افراد کا تعلق ہے انہیں جس قدر بدنام اور بے عزت کیا جا تا ہے، وہ اب ناقابل برداشت ہے اور یہی نتیجہ ہے کہ ماسٹروں کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والے بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ گھٹ گھٹ کر مرنے سے بہتر ہے ایک ہی بار مریں یا ذلّت سے بہتر موت ہی ہے۔
خیر کشمیر میں جہاں طرح طرح کے مسائل deeply rooted ہیں وہاں چھوٹے چھوٹے سرکاری ملازموں کے ایسے مسائل ہیں کہ جنہیں برسوں سے لٹکا کے رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایسے ملازموں اور ان کے پورے گھرانے کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ اس کے مختلف وجوہات ہو سکتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑے وجہ اس کے پیچھے یہی ہے کہ ہمارے یہاں کے سیاسی لیڈروں نے اپنے اپنے ماتحت محکموں یا اپنے اپنے علاقوں میں کچھ casual ملازموں کو لگایا، یہ لوگ یا تو ان کے پارٹی ورکرس تھے یا پھر انہوں نے ان سے رشوت لے لی۔ چونکہ متعلقہ محکموں میں نہ اتنی اسامیاں موجود تھی اور نہ ریاست (اب UT) کا اتنا بجٹ تھا۔ پھر ان ملازموں کو یا تو برسوں تک تنخواہ سے محروم رہنا پڑتا ہے، یا پھر ان کو اتنی قلیل تنخواہ دے دی جاتی ہے کہ جس سے ان کا گھر کا گذارہ نہیں چلتا ہے۔ سرکار نے کبھی ان کے متعلق کوئی پالیسی بنانے کا پروگرام ہی نہیں بنایا ہے اور ان کی مستقل نوکری بھی ایک خواب ہے۔ ادھر وہ نام کے سرکاری ملازم ہیں اور مزدوری یا کوئی اور کام کرنے کے لائق بھی نہیں رہے اور نہ انہیں کوئی دوسرا کام کرنے کی فرصت مل سکتی ہے۔ وقت بیتا جا رہا ہے او ر ایسے ملازموں کی زندگی طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہوتی جاتی ہے۔!
جو بھی نیا نیا آفیسر یہاں آجاتا ہے یا کوئی مقامی آفیسر ترقی پاتا ہے وہ ان کم تنخواہ پانے والے ملازموں کے بارے میں کبھی سوچتا ہی نہیں۔ ہو سکے تو حکومت کو اپنی وفاداری اس طرح دکھاتا ہے کہ وہ طرح طرح سے ان بے کسوں کو تنگ کرتا جاتا ہے۔ دوسری طرف یہاں کی کرپشن کو کیا کہنے۔ کشمیر کرپشن کا ہَب ہے اور یہاں ہر کسی کو نہ جانے کیوں ایک عجیب قسم کا craze ہوتا ہے۔ مان لیا حکومت کو ملازم نہیں لگانے ہیں یا اپنا خرچہ کم کرنا ہے، تو اس کے لئے دو عام فارمولاز ہیں یا تو سب کچھ (ماسوائے فوج، پولیس، عدلیہ۔۔۔) نجی ہاتھوں کے حوالے کردو، یا کچھ موذوں اُجرت دیکر contract پر ملازموں کو لگا دو۔ جو آنا چاہے تو وہ سرکار کے ساتھ باضابطہ طور پر شرائط کے ساتھ contract کرے گا۔
جموں و کشمیر میں پچھلے کئی برسوں سے جو سرکاری ملازم لگ گئے، ان میں بہت سارے لوگوں کے اُوپر طرح طرح کے سوالات اُٹھ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سرکار کے ہاتھ کھلے ہیں۔ انہیں وقت مقرر پر verification کر لینی چاہئے۔ اگر کسی میں ایسی کوئی پرابلم ہے کہ وہ سرکاری نظام کے لئے خطرہ بن سکتا ہے، تو اسے وقت پر ہی ملازمت سے الگ کر دینا چاہئے تاکہ وہ وقت پر اپنا کوئی اور کام سنبھال سکے گا۔ کسی امیدوار کو پہلے ملازم لگایا جاتا ہے ، اسے کام لیا جاتا ہے۔ جانچ و دیگر دفتری کاروائیوں کے نام پر اس کی تنخواہ برسوں تک روک لی جاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرکاری کارندے ہر کام میں شفافیت چاہتے ہیں، بلکہ یہ رشوت ستانی کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ اب اگر بشیر احمد میر ٹیچر کے مسئلے کے حوالے سے ہی بات کی جائے گی، تو کشمیر میں 17000 سرکاری ملازموں کا ایسا ہی کچھ مسئلہ تھاتو لئے دئے اس میں کل ملاکر انہیں 234 اساتذہ ہی کیوں نظر آئے۔ یا تو انہوں نے رشوت نہیں دے دی ہوگی یا پھر ان کا تعلق کسی سیاسی یا نام نہاد گھرانوں سے نہیں ہوگا، جن کے اقارب ان کی کوئی سفارش نہیں کر سکتے ہیں۔ سرکار کسی بھی معطل شدہ ملازم کی تنخواہ چھ مہینے سے زیادہ دیر تک نہیں روک سکتی ہے۔ اب اگر کسی کا کوئی سنگین کورٹ کیس بھی ہوگا، تب بھی اس کو نصف تنخواہ دینے کا قانون سرکار کے پاس موجود ہے، لیکن کشمیر کے سرکاری کارندے بغیر سفارش کے لوگوں کے لئے ایسے قوانین بالائے طاق رکھتے ہیں اور اپنی من مانی سے کام چلاکر کچھ بھی کر سکتے ہیں!
بدقسمتی یہ ہے کہ ایک طرف اساتذہ پر عوام کا دباو¿ ہے کیونکہ لوگوں کو اب تعلیم سے کوئی غرض نہیں ہے انہیں بچے کی سرٹیفیکیٹ/ڈگری چاہئے اور پھر وہ لوگ اس کی نوکری یا اس کے کسی بھی جاب کا انتظام خود کرلیں گے۔ مانا کہ ایک ٹیچر بھی اپنی بے عزتی کا کسی حد تک خود بھی ذمہ دار ہے، مگر کیوں نہ عوام، سرکار اور خود ایک ٹیچر آپس میں مل کر اس بدحالی کو دور کریں گے۔ بڑی تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ جس ذلت کا سامنا ہمارے اساتذہ کوCEO آفس یا پھر Direction Office میں کلرکوں اور دیگر سرکاری کارندوں کے ہاتھوں کرنا پڑتا ہے وہ سارا کچھ بیان سے باہر ہے ۔۔۔؟
کشمیری سماج اور یہاں کی انتظامیہ میں ایک روایت یہ ہے کہ یہاں پہلے بہو بیٹا خودکشی کر لیتے ہیں یا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، تب انہیں اپنا الگ گھر بسانے کی اجازت بزرگوں سے مل جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی پل خستہ ہو جاتا ہے تو اس پر جب تک دو تین حادثے پیش نہ آجائیں گے تب تک اس کو سرکار مرمت نہیں کرتی ہے۔ ٹھیک یہی حال ہمارے ان اساتذہ کا بھی ہوا، اگر ان کی تنخواہ وقت پر واگذار کی جاتی تو نہ ان بے چاروں کے گھر مختلف تکالیف میں مبتلا ہو جاتے اور نہ شعیب اپنی انمول زندگی کا خاتمہ کر جاتا۔۔۔!
اس لئے ہمارے سماج اور ہماری انتظامیہ میں تبدیلی اور نتھار بہت ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں