209

رحمت زحمت میں تبدیل؟

آج کی تیز رفتار زندگی میں موبائل کے بغیر جینے کاتصور نہیں کیا جا سکتا چہ جائیکہ اس سے مستثنیٰ ہونا،کوئی انکار کی گنجائش نہیں کہ اس ایجاد نے معمول کی زندگی میں نمایاں سہولیات پیدا کیں۔اب یہ ہماری ذہنیت پر دارومداررکھتا ہے کہ ہم اسکا مثبت یا پھر منفی استعمال کریں لیکن جو ہمارے بچے ہیں انہیں اسکے مضر اثرات سے کیسے بچایا جاسکے اسکا عام طور پر والدین اس سے لاپرواہی برتتے ہیں اور اس وقت فکر مند ہوجاتے ہیں جب پانی سر سے اوپر بہنا شروع ہوجا تا ہے۔ضرورت کے سامنے انسان بے بس ہے۔کوئی چیز ضرورت بن جائے تو اس کے بغیر پھر گزارہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔موبائل فون انسان کی بنیادی ضرورت بن گیا ہے۔اس کی ضرورت اور اہمیت کا احساس آج کل بچے بچے کو ہے۔بچہ ہو یا بوڑھا ،مرد ہو یا عورت ہر فرد اس کا قیدی اور گرویدہ نظر آتا ہے۔پورے جہاں پر اس کا راج ہے۔تیز رفتار زندگی کی گاڑی موبائل فون نام کے پہئے کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔تجارت ہو یا تعلیم ،رشتے ہوں یا کاروبار ،تفریح ہو یا کوئی اور کام اس کی اہمیت و ضرورت ہر شعبے میں ہے۔چھوٹے سے موبائل فون میں انسان کے لیے وہ سب کچھ ہے جس سے یہ آباد اور برباد ہو سکتا ہے۔ اس کی گونج مسجد، مدرسہ ، عدالت ،پارلیمنٹ، اسکول ،کالج ہر جگہ سنائی دیتی ہے۔کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اس کا استعمال نہیں کیا جاتا، یہاں تک کہ بیت الخلاءمیں بھی لوگ اس کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔ہر نئی ایجاد کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں۔فون کے بھی ہیں۔اس نے لوگوں کے لیے آسائشیں اور سہولیات و آسانیاں لائی ہیں۔اس کا صحیح ڈھنگ سے استعمال کیا جائے تو یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔موبائل فون کے سبب برسوں کا کام مہینوں اور مہینوں کا کام ہفتوں میں کیا جاتا ہے۔اس نے زماں ومکاں کی مسافتوں کو محدود کیا اور پوری دنیا کو ایک آنگن میں تبدیل کر دیا ہے۔موبائل وہ دریچہ بن گیا ہے جس سے پوری دنیا دکھائی دیتی ہے۔ موبائل فون کی ایجاد نے بھی نت نئے مسائل کو جنم دیا ہے۔جہاں یہ رحمت ہے وہاں یہ زحمت بھی بن گیا ہے۔اس نے نیند ،چین ،سکون ، شرم وحیا ، عزت و وقار ، عصمت ،شرافت، اخلاقیات اور تہذیب کا جنازہ اٹھایا ہے۔اس نے وقت کی بے قدری کی،مساجد کے تقدس کو پامال کیا اور نماز میں خشوع و خضوع کو ملیامیٹ کیا ہے۔اس کی بدولت بے پردگی کو عروج حاصل ہوا ہے۔شادی بیاہ کے موقع پر اس سے ویڈیو بنا کر ان کی تشہیر کی جاتی ہے جن کو لاکھوں غیر محرم دیکھتے ہیں۔پردے کے تمام احکامات کا خاتمہ اس کی بدولت ہوا ہے۔نئی نسل کو اس نے وقت سے پہلے بالغ کیا، ننگے پن کو عام کیا، سستی اور کاہلی کو رواج دیا اور زنا کاری اور بدکاری کے راستے اس نے آسان کر دئیے ہیں۔اس نے ہر فرد کو اپنا عادی بنایا ہے۔یہ برائیوں کی جڑ بن گیا ہے۔اس نے گھر سنسان اور دل ویران کئے ہیں۔گھر کے چار افرادنے چار الگ الگ کمروں میں بیٹھ کر اپنی الگ الگ دنیائیں بسا رکھی ہیں۔نمازی ،نماز کے فوراً بعد اس کا دیدار کرتے ہیں۔صبح تب تک نہیں ہوتی جب تک اس کا دیدار نہ کیا جائے اور رات کو نیند کی پری تب تک قریب ہی نہیں آتی جب تک دو چار گھنٹے اس کے ساتھ مصروف نہ رہا جائے۔اس کے ذریعے زنا عام اور آسان ہوگیا ہے۔اس کے سحر میں پھنس کر پتا ہی نہیں چلتا کہ انسان سڑک پر چل رہا ہے یا ہوا میں اڑ رہا ہے، سمندر میں کود گیا ہے یا کنارے پر ہے۔اس نے انسان کی روح، نفس ، ذہن ، جسم اور دل کو متاثر کیا ہے۔اس کی وجہ سے انسان عجیب اور حیران کن ذہنی و جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو گیا ہے۔اس کی بدولت انسان چڑچڑاہٹ اور تناو¿ کا شکار ہوگیا ہے۔اس نے ہزاروں گھر اور لاکھوں افراد کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ موبائل فون نے جو سب سے بڑا ظلم کیا وہ انسانیت کا قتل ہے۔اس نے بے ضمیر اور انسانیت سے عاری لوگوں کی ایک بڑی کھیپ تیار کی ہے جو وقت ضرورت مدد نہیں کرتے بلکہ اپنا موبائل نکال کر ویڈیو بناتے اور فوٹو اٹھاتے ہیں۔پہلے کوئی حادثہ ہوتا تھا تو زخمی کی مدد کی جاتی تھی،اس کی ڈھارس باندھی جاتی تھی،اسے تسلی دی جاتی تھی اور اس کی ہر ممکن مدد کی جاتی تھی۔معالج کے پاس لے جاکر اس کا علاج کیا جاتا تھا۔اب ویسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔اب موبائل رکھنے والے ویڈیو بنا کر فیس بک ،یوٹیوف اور دیگر سوشل سائٹس پر ڈال دیتے ہیں۔زندہ انسانوں کو ہی طنز و تمسخر کا نشانہ نہیں بنایا جاتا بلکہ جسم مردہ اور لاشوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔میت کی کفن دفن کے موقع پر بھی ویڈیو بنائی جاتی ہے۔اسکی تباہ کاریوں میں وہ سب بھی شامل ہے جو مختلف وقتوں میں ہمارے سامنے برہنہ ویڈیو ،ننگی تصوویروں اور دیگر صورتوں میں آیا ہے۔عزت اچھالنے اور برہنہ کرنے میں اس نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود بھی اس کا مثبت استعمال سیکھیں اور نونہالوں کی رہبری میں بھی رول ادا کریں ورنہ ہم بہت کچھ نہیں سب کچھ کھونے والے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں