178

افسانہ : قربانی کے جانور

معراج زرگر

میں آفس سے گھر آرہا تھا۔ چلچلاتی دھوپ اور فضا میں شدید نمی کی وجہ سے ہر ذی روح تڑپ رہا تھا۔ میری گاڑی میں اے۔سی لگا ہوا تھا اس لئے مجھے محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ میں کسی عجیب خیال سے گتھم گتھا ہو رہا تھا کہ اچانک ایک جوان عورت نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے رُکنے کو کہا۔ میں خیالوں کی چھل کپٹ سے نکل کر پوری طرح جوان عورت کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ لگ بھگ پچیس برس کی ایک عورت تھی اور اس کی گود میں ایک دو سال کا بچہ تھا جو سورج کی تپش اور ہوا میں حبس کی وجہ سے ماں کی گود میں تڑپ رہا تھا اور وہ اسے سنبھال رہی تھی۔ ایک چھوٹی چھ یا سات سال کی بچی بھی پسینے میں شرابور اس عورت کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔ وہ عورت بے بسی اور لاچارگی کی ایک تصویر تھی۔ عورت کے پاس ایک بیگ بھی تھا جو ٹھیک ٹھاک وزنی لگ رہا تھا۔
میں عورتوں کو لفٹ دینے میں انتہائی محتاط ہوں مگر اس بے بس عورت کو دیکھ کر ترحم اور ترس نے میرے سارے وجود کو گھیرا۔ میں نے گاڑی روکی اور اس عورت سے پوچھا کہ کہاں جانا ہے۔ اس نے اپنے گاو¿ں کا نام لیا جو میرے ہی راستے میں پڑتا تھا۔ میں نے پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور وہ خود کو سمیٹتے ہوئے اور دو بچوں کو سنبھالتے ہوئے پچھلی سیٹ پر بیٹھی اور اپنے دوپٹے سے پہلے اپنے بچوں کا پسینہ صاف کیا اور پھر اپنا۔ میں نے سامنے کے آئینے سے دیکھا تو مجھے اس ماں کی حالت پہ رحم آیا۔ وہ درد اور کرب, ہمت اور شکست, بے بسی اور لاچارگی کی ایک عجیب تصویر تھی۔ میرے سامنے کی سیٹ پہ پانی کی بوتل تھی اور میں نے وہ بوتل اس کو پیش کی۔ اس کی بیٹی نے اپنی ماں سے بوتل چھینی اور گٹ گٹ آدھی بوتل پی گئی۔ پھر باقی اپنی ماں کی طرف بڑھائی۔ اس عورت نے چند گھونٹ اپنی گود میں اپنے دوسرے بچے کو پلائے اور پھر باقی سارا پانی خود پی گئی۔
میں نے چند دفعہ سامنے کے شیشے میں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پہ عجیب حال تھا۔ مجھے ایسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی آتش فشاں ہو جو بس ایک لمحے کا منتظر ہے کہ کب اذن ہو اور وہ پھٹ پڑے۔ میرا دل بھی بے چین سا ہونے لگا۔ میں نے ہمت کرکے پوچھا کہ بیٹا کہاں سے آ رہے ہو تو اس نے کہا کہ یہ دونوں بچے بیمار ہیں اور ڈاکٹر کو دکھانے ہسپتال گئی تھی۔ میں نے پھر سے ہمت جوڑ کر پوچھا کہ کیا گھر میں کوئی مرد نہیں۔ تو اس نے ایک آہ بھر کے کہا کہ ہاں ہیں، مگر ان کو بھی کام ہوتا ہے۔ اس کی آواز میں زمانے بھر کی تھکن اور دکھ تھا جو وہ بات کرتے ہوئے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ چھپ نہیں رہا تھا۔
گاڑی میں لگے اے۔سی کی ٹھنڈک سے عورت کے بچوں کو سکون سا آیا۔ اور عورت بھی قدرے پر سکون ہوئی۔ مگر جس قدر سفر طئے ہو رہا تھا، میں اس قدر بے چین ہو رہا تھا۔ میں بیج بیچ میں آئینے میں سے اس کو دیکھ رہا تھا اور وہ شیشے سے باہر نظریں جمائے کسی گہری سوچ میں تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے کسی دشت و بیابان میں اکیلا کوئی مسافر اپنا جنازہ خود پڑھ رہا ہو۔
ہم جب اس کے گاو¿ں کے قریب پہنچے تو اس نے مجھے مخاطب ہوکر کہا کہ انکل جی۔۔۔۔ "وہ سرخ رنگ کے گیٹ والا مکان ہمارا ہے۔ وہیں پہ ہمیں چھوڑیے”۔ میں نے جب گاڑی گیٹ کے پاس روکی تو بغیر کسی توقف کے نیچے اتر کر عورت کا وزنی بیگ اٹھایا اور اس کے پیچھے چل دیا۔ اس نے لاکھ منع کیا لیکن میں بھی نہ مانا اور اس کے پیچھے پیچھے اندر داخل ہوا۔ جونہی میں داخل ہوا تو صاف و شفاف سفید قمیض شلوار، سر پہ ایک نفیس ٹوپی سجائے حاجی رشید صاحب کو آنگن میں دیکھا جو دو فربہ بھیڑوں کو چارہ کھلا رہے تھے۔
میں نے سلام کیا اور وہ مجھے دیکھ کر حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔ اس نے
مجھے گلے لگا کر پوچھا کہ جناب آپ یہاں کیسے۔ میں نے مختصراً بتایا کہ اس بیٹی نے راستے میں گاڑی میں جگہ مانگی تو میں نے اٹھایا۔ حاجی صاحب نے عجیب نظروں سے اس عورت کی طرف دیکھا اور اپنی جھینپ مٹا کر بولے کہ یہ ہماری بہو ہے۔ وہ عورت اندر چلی گئی اور میں نے دیکھا کہ برآمدے میں بیٹھی معمر خاتون جو اس کی شاید ساس تھی، نے بھی اسے عجیب انداز سے دیکھا۔ حاجی صاحب نے مجھے اندر آنے اور چائے یا پانی کے لئے پوچھا مگر میں نے منع کیا۔ اس دوران حاجی صاحب نے اپنی بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری زوجہ ہیں اور ان کے بغل میں بیٹھا جوان میرا لڑکا ہے، جو ایک ٹانگ پہ دوسری ٹانگ رکھے چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔
حاجی صاحب نے مجھے مرعوب کرتے ہوئے بولا کہ یہ دو بھیڑیں میں نے قربانی کے لئے لے رکھی ہیں اور میرا یہ بیٹا دن بھر ان ہی کے ساتھ تھا۔ حاجی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ چاہے کچھ بھی ہو، وہ قربانی کسی صورت بھی ترک نہیں کرتے، وغیرہ وغیرہ۔
میں نے اجازت مانگی اور باہر آکر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ میرا سارا وجود ہل رہا تھا۔ مجھے اس جوان عورت کا خیال بار بار آرہا تھا جو اپنے دو بیمار بچوں کو لے کر اندر چلی گئی اور اس کے خاوند، سسر یا ساس نے ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا۔ یہاں تک کہ اپنے بیمار بچوں کا حال بھی نہ پوچھا۔
دہکتا ہوا آگ کا گولہ آسمان میں ڈوب رہا تھا۔ اور قربانی کے جانور یاد کرکے میرا دل ڈوب رہا تھا۔ دو بھیڑیں جن کو حاجی صاحب چارہ کھلا رہے تھے اور تین جانور جو ہسپتال سے آکر سیدھے ذبح خانے میں داخل ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں