140

اقصیٰ کے آنسو

مفتی ابوالبابہ شاہ منصور

قسط: (01)

لعلِ زرّیں کے نام!


کتابیں عام طور پر سیاہی سے لکھی جاتی ہیں، لیکن آپ یقین کریں کہ کاغذات کا جو پلندہ آپ کے ہاتھ میں ہے یہ کتاب تو ضرور ہے، لیکن اس میں جو کچھ ہے وہ قلم کی سیاہی کو تر کرکے نہیں، خون جگر میں انگلیاں ڈبو کر لکھا گیا ہے۔
القدس ہمارا وہ عظیم ورثہ ہے جس کے محافظ و خادم کا منصب خالق کائنات نے ہمیں بخشا ہے، یہود ونصاریٰ نے جب اس مقدس عبادت گاہ کی حرمت کا تحفظ نہ کیا، اس کی پاکیزہ فضاؤں کو اپنے زہریلے گناہوں سے آلودہ کیا اور بار بار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے تو اللہ رب العزت نے انہیں مقام "اجتبائیت” سے معزول کرکے امت محمدیہ کو یہ عظیم منصب سونپ دیا۔

اس دن سے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نصرت خداوندی سے القدس فتح کیا، یہ بار امانت ہماری غیرت کا امتحان ہے، ہمارے ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہے، اس کے تحفظ میں ہماری ترقی و بقا کا راز مضمر ہے اور اس کے تقدس پر حرف آیا تو ہم سے "اجتبائیت” کا منصب چھن جانے کا خطرہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی شان! ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جب یہود بے بہبود کے قدم اس کی دہلیز تک آپہنچے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ عنقریب حق و باطل کا جو عظیم ترین معرکہ بپا ہوگا، ہم اس میں اہل حق کے دست و بازو بن کر اس اجر عظیم کو حاصل کرسکتے ہیں جو نیک بختی اور خوش قسمتی کی بہت بڑی علامت ہے اور جو ہماری نجات کا ضامن اور مغفرت کی ضمانت بن سکتا ہے۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہم میں کوئی ایوبی نہیں جس کی قیادت میں معرکہ لڑا جائے، جبکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم میں ایوبی بہت ہیں، لیکن زنگی نہیں،
(1) جو صلاح الدین کو سلطان صلاح الدین ایوبی بنائے، ہم میں قدیر خان بہت ہیں، لیکن انہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان بنانے والے نہیں، البتہ گدڑی کا کوئی لعل اپنی ذاتی کوششوں سے چمکتا ہوا ستارہ بن جائے تو اس کی حوصلہ شکنی اور ناقدری کا رواج عام ہے، یہ برباد کُن روش ترک کرکے ہمیں جوہرِ قابل کی حوصلہ افزائی کی روایت آگے بڑھانی چاہئے کہ:
”ذرانم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی”
دجال اکبر اس کائنات کا عظیم ترین فتنہ ہے، اس فتنے کا مرکز و محور بھی القدس کی سرزمین ہوگی اور اس کا خاتمہ و بربادی بھی یہیں ہوگی، اس فتنے کا آغاز تو کھلی آنکھوں سے نظر آرہا ہے اور جو لوگ تقویٰ اور جھاد پر کاربند رہے وہ اس کا انجام بھی دیکھ لیں گے، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس فتنۂ اکبر کے خلاف برسرپیکار عظیم انسانوں کے ہمسفر و ہمدم ہوں گے، یہ چند آنسوں انہی عظیم ہستیوں کے نام ہیں۔
کوشش کی گئی ہے کہ یہ عاجزی و بےبسی کے آنسو نا ہو، یہ قہرمان اور قہرخیز بارودی فلیتے ہوں، ان میں موت کی ٹھنڈک نا ہو، آتش فشاں کی حرارت ہو۔
آنسوؤں کے ان دو قطروں میں سے ایک مسجد اقصیٰ کے ہال کے نام ہے جو قدسی صفت ہستیوں کی سجدہ گاہ ہے اور دوسرا گنبد صخرہ نامی اس لعل زریں کے نام جس کے گرد مقدس روحیں حصار باندھ کر دجالی فوجوں کی یلغار کے مقابلے میں قربانی کی لازوال داستانیں رقم کریں گی۔ اللھم اجعلنا منھم
(1)سلطان صلاح الدین ایوبی کے مربی و پیشرو سلطان نورالدین زنگی مراد ہیں، جنہوں نے ایوبی میں پوشیدہ جوہر قابل کو جانچ کر اسے اپنا جانشین بنایا تھا اور بے مثال خوبصورتی کا حامل ایک منبر بناکر خواہش ظاہر کی تھی کہ اسے مسجد اقصیٰ کی فتح کے بعد اس میں نصب کیا جائے۔

( جاری )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں