243

کشمیر میں تعلیمی شعبے کو مستحکم بنانے کے لئے بنیادی لائحہ عمل

ڈاکٹر محی الدین زورکشمیری

The direction in which education starts a man will determine his future life (Plato, The Republic)
کشمیر میں الیکشن کا سیزن بہت گرم تھا۔ سرکاری مشینری اس کام میں لگی ہوئی تھی کہ کیسے مرکز کا دیا ہوا یہ مال غنیمت ہضم کیا جائے اور ایجوکیشن کے ملازموں کو کیسے اسکولوں، کالجوں سے نکال کر انہیں مہینے پہلے ٹریننگ اور میٹنگیں کرواکے دربہ در کیا جائے اور ان کے معصوم چہروںپر کیسے اپنا رعب داب جمالیا جائے گا۔ اس ڈراما سے کچھ نہیں ہوتاہے۔ البتہ طلبہ کی پڑھائی کا نقصان اور خود اساتذہ کرام اپنے پیشے سے تھوڑا بہت بد دل ہوجاتے ہیں!۔ چونکہ گاندھی جی نے کہا ہے کہ ایک ٹیچر صرف ٹیچر ہی ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی کلاس کو کیوں نہ بڑھائیں۔ میں مہاتما جی کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ایک طالب علم صرف ایک طالب علم ہی ہوتا ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو یا پھر inservice بی ایڈ طالب علم یا پھر ریسرچ اسکالر!۔
خیر ہم الیکشن سیزن کی بات کر رہے تھے اور ایک ماسٹر ہونے کے ناطے مجھے بھی اس ڈیوٹی پر لگایا گیا۔ چونکہ میرا گریڈ کچھ بڑا ہی ہے، اس لئے مجھے انل کپور کی طرح ایک د ن کا سی ایم بنایا گیا۔ یعنی (میں ڈرتا ہوں اس نام سے) مجھے کچھ مجسٹریٹ بنایا گیا۔ خدانخواست یہ وہ مجسٹریٹ نہیں ہے، جس کے دائیں بائیںآگے پیچھے سائرن بجانے والی گاڑیاں اور بندوق والے محافظ ۔۔۔ لاحول ولا قوت الا بااللہ۔۔۔
ہمیں پہلے ایک تنگ کمرے میں بٹھایا گیا اور بہت دیر تک انتظار کرواکے اونچی کرسی والے صاحب آگئے اور ہمیں اس قدر ہدایت دینے لگے، جیسے ہم لوگ کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ دوم ہمیں کہا گیا کہ آپ کا جو علاقہ ہے، وہاں جتنے پولنگ اسٹیشنز ہیں، ان کا معائنہ کرکے ان کی رپورٹ یہاں الیکشن آفس میں جمع کرنا ہے۔
چونکہ یہ اسکولز ہیں اور ہر پولنگ اسٹیشن میں کم از کم اس لسٹ کے مطابق سہولیات ہونی چاہئے۔ تو میں نے سوال جواب کرنا چاہا، مگر صاحب جن کا گریڈ مجھ سے بہت پست تھا، آگ بگولہ ہوگئے، کیونکہ ایسے صاحب کچھ سُننا نہیں چاہتے ہیں، بلکہ زیادہ فرمانا ہی پسند کرتے ہیں اور انہیں دوسروں کے منہ سے بڑی عاجزی سے پہلے جناب، حضور والا، سرکار، حاکم اور اب سر جی کہنا بہت پسند آتا ہے۔ خیر میرے سبھی ہمہ پیشہ ساتھی دو زانوں بیٹھے تھے اور بڑی انہماکی سے ان کا بھاشن سُن رہے تھے۔ شاید ہی انہوںنے اپنی زندگی میں اپنے اساتذہ یا مسجد کے خطیب سے اس طرح سنجیدگی سے کبھی کوئی گفتگو سُن لی ہوگی۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ چلو اس الیکشن کے بہانے اپنے اپنے اداروں سے کچھ دیر چھٹی ملی اور یاردوستوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ورنہ کہاں آج کل کے دور میں دوسرو ں سے ملنے کا وقت مل جاتا ہے۔
اگلے روز سے ہم اپنے اپنے علاقوں کے دورے پر نکلے۔ ہم نے وہاں کیا کچھ دیکھا، اس کی رپورٹ حسب حکم دفتر ہذا میں جمع کرلی۔ تو وہاں سے فرمان جاری ہوا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ وہاں کسی چیز کی کمی ہے ، تو اس کو ٹھیک کروالو۔ ہم نے پوچھا ہم کون ہوتے ہیں ایک اسکول کا پانی، سڑک، بجلی، ریمپ، باتھ روم، وغیرہ ٹھیک کروانے یا بنوانے کے۔ تو وہاں سے بے ترتیب باتوں کی بوچھاڑ ہم پر ہونے لگی۔ آراینڈ بی، پی ڈی ڈی، ہیڈماسٹر، پرنسپل، لوکل کمیٹی ۔۔۔وغیر وغیرہ سے یہ کرالو۔ یہ ماسٹری نہیں ہے، یہ انتظامیہ ہے، پتہ ہے کہAdministration کیا ہوتا ہے! الیکشن تک یہ سارا معاملہ clear ہو جانا چاہئے
ورنہ آپ کو پتہ ہے۔۔۔ یہ الیکشن کمشنر کا آدیش ہے۔ ایک سرکاری ملازم سسپنڈ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔
اب ہم بھی تاڑ گئے کہ جو لوگ چائے کی پیالی نہیں پلا سکتے ہیں وہ لوگ یہ سارا کیسے ٹھیک کروائیں گے۔ یہ لوگ بس ہم جیسے ماسٹروں کو engage کرکے رکھنا چاہتے ہیں اور ان میٹنگوں کے نام پر کتنا بِل بنتا ہوگا۔ یہ لوگ اچھے پروٹوکال میں گھومیں گے، عیش کریں گے اور الیکشن والے ملازم اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بغیر کھڑکیوں، بغیر بجلی، بغیر باتھ روم وغیرہ کمروں میں رات گزاریں گے۔ اگر انہیں پولنگ اسٹیشنوں کو ٹھیک کروانا ہوتا، تو وہ لوگ خود یہ کرتے یا متعلقہ محکمے کو الیکشن کا پیسہ دے کر اس کو ٹھیک کرواتے، یا اسکول کے پرنسپل، ہیڈ ماسٹر کو ہی پیسہ دے دیتے یا پھر محلے کی کمیٹی کو۔ ہمارا اس میں کیا رول ہے؟
المختصر آخر کار ہوا بھی ایسا، جیسا کہ ہم نے سوچا تھا۔ کسی ایک دیوار پر کوئی نئی کیل بھی نہیں لگوائی گئی؟۔ لیکن میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے والا شخص نہیں ہوں۔ اس دوران میں نے مختلف اسکولوں کے دورے کرکے بہت ساری باتوں کا جائزہ لے لیا اور سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی کے بنیادی اسباب کو جاننے کی ہر ممکن کوشش کی۔ میرا یہ سروے میر ی تعلیمی زندگی کا ایک عملی تجربہ بن گیا۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کسی بھی Establishment کے لئے بنیادی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ خواجہ غلام السّدین کے دور میں یہاں جو بھی سرکاری اسکولز بنے اور جس زمین پر یہ بنائے گئے، اگرچہ بیشتر اسکولوں کا درجہ بھی بڑھایا گیا، مگر جو جہاں ہے، وہ وہیں پہ ہے۔ مطلب کہ اسکول کی زمین میں کوئی وسعت پیدا نہیں کی گئی۔ سرکار نے نئے نئے کالجز بنوائے، یونیورسٹیاں بھی قائم کی گئی، چونکہ ہم یہاں بات کر رہے ہیں ابتدائی یا پھر ثانوی سطح کے اسکولوں کی۔ اگر یہاں سب کچھ بدلا، ہمارا سرکاری اسکول کیوں اسی جگہ پر ابھی بھی واقع ہے، جہاں یہ پچاس ساٹھ سال پہلے بنایا گیا تھا اور وہی پُرانی خستہ حال عمارت ، اس کے ساتھ دو تین کمرے بدنما صورت میں بنائے گئے، ٹوٹا پھوٹا باتھ روم۔جہاں شالی کوٹنے والی مشین، لکڑی چیرنے والی ٹرالی اور چھوٹا یا بڑا بس اسٹینڈ اور بازار کا شور شرابا!
اگر سرکار دیگر کاموں میں اتنا روپیہ خرچ کرتی ہے، کیوں نہ نئے اسکول کے لئے بھی دوسری جگہ زمین خریدی جائے۔ یا اگر کہیں سرکاری اراضی موجود ہے، تو محکمہ مال سے مسئلہ اُٹھاکر اس زمین کو سرکاری مدرسوں کے لئے استعمال میں لایا جائے۔ سرکار نے اس بات کی طرف کبھی توجہ ہی نہیں دی کہ پہلے ہر اسکول کو اس قابل بنایا جائے جہاں کافی تعداد میں بچے ایڈجسٹ ہوجائیںگے۔ اور انہیں کم از کم تمام تر بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ صرف کاغذ کے گھوڑے دوڑانے سے یا پھر بیان بازی سے یا پھر اساتذہ کو مورِد الزام ٹھہرانے سے کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ کل تک سرکاری زمین سے جبری قبضہ ہٹانے سے سرکار خاص کر سیاست کار اس لئے ڈرتے تھے کیونکہ اس میں وہ خود یا ان کے پارٹی والے انوالو ہوتے تھے، اب جبکہ بانس ہی نہیں رہا ہے تو بانسری کیسے بجے گی! دوسری اہم بات سرکاری اسکولوں کے حوالے سے یہ کہی جا سکتی ہے کہ یہاں ٹرانسفرکا مسئلہ بہت ہی اہم ہے۔ سرکاری اسکولوںمیں خاص کر شہر میں یا اس کے ملحقہ علاقوں میں طلبہ کا رول کہیں نہ ہونے کے برابر ہے اور کہیں بہت کم ہے۔ اس رول کو کیسے بڑھایا جائے یا پھر سرکاری اسکولوں کا رزلٹ بہت کمزور کیوں آتا ہے۔ وہ تو الگ ایک مسئلہ ہے۔ توہم یہاں اساتذہ کی پوسٹنگ کی بات کر رہے ہیں۔ شہر اور ملحقہ علاقہ جات یا پھر قصبوں میں واقع سرکاری اسکولوں میں جہاں پانچ بچے enrolled ہیں وہاں دس اساتذہ ان کی پڑھائی پر معمور کئے گئے، جبکہ دور دراز علاقوں کے اسکولوں میں ٹیچر ہی نہیں ہے۔ رہبر تعلیم ٹیچر یا 3rd ٹیچر اسکیم سے جتنے توقعات ہمیں تھے وہ پورے نہیں ہو پائے!۔ کیا یہ ضروری ہے کہ امیروں، رئیسوں اور سرکاری افسروں کی بیویوں کو ان اسکولوں میں رکھا جائے، جو یا تو ان کے گھر کے قریب ہیں یا جہاں بچے ہے ہی نہیں ہیں۔ کیا ٹیوشن مافیا گینگ کی پوسٹنگ اُس طریقے سے کی جائے، جس سے ان کا کام بھی چلے اور محکمے کے اہلکاروں کو اس کا حصہ بھی ملے۔کیا بغیر پڑھائی کے چند مخصوص افراد کو لیڈری اور اپنے اعلیٰ افسروں کی جے جے کار اور واہ واہ کے لئے مخصوص جگہوں پر رکھا جائے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے سرکاری اسکولوں کا انفراسٹرکچر مضبوط بنایا جائے، اس کے بعد اسٹاف کو Rationalize کیا جائے ۔ اس کے بعد اور بھی سو طرح کے مسائل حل کئے جائیں۔ باقی یہ جو کچھ برسوں سے سرکاری
اسکولوں کا رزلٹ اچھا دکھائی دیا جاتا ہے یا میٹرک اور بارہویں جماعت میں سو فیصد نمبرات کا معاملہ ہے، یہ سارا ڈھونگ ہے ، طلبہ پرائیویٹ اسکول میں پڑھتے ہیں اور سرکاری اسکولوں میں رجسٹر ہیں۔ ہیڈماسٹر کا Increment بند کیا گیا تو اس نے چال چلائی۔ نقل کی وبا، بورڈ کی بددیانتی، ممتحنوں کی غیر سنجیدگی یا بڑے لوگوں کا Evaluation کے دوران ۔۔۔وغیرہ ایسے بہت سارے عوامل ہیں، جن سے عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔!
عوام جب اندھیرے میں ہیں، تو وہ حقیقت سے نا واقف ہوتے ہیں۔ وہ یا تو بھروسہ کرتے ہیں یا پھر انہیں متعلقہ افراد یا سرکار پر بھروسہ ہی اُٹھ جاتا ہے اور وہ اس چوراہے پر کھڑا ہو جاتے ہیں، جہاں انہیں صحیح راستے کا کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا، وہ یا تو آنکھ بند کرکے کوئی راہ چُن لیتے ہیں، جو ان کے لئے صحیح بھی ثابت ہو جاتی ہے ، یا وہ کبھی بہک بھی جاتے ہیں۔ کبھی وہ کسی جعل ساز کے چنگل میں بھی پھنس جاتے ہیں۔!
اس لئے تعلیم سے (i) وابستہ افراد (ii) عوام اور (III) سرکار کوتعلیم کے ڈھانچے کو مل جل کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اگر اس میںابھی کچھ سانس باقی ہے تو، ورنہ دیگر شعبوں کی طرح بھی اس کو سرے سے ہی نجی ہاتھوں میں دینا ہوگا تاکہ ہم تعلیم کے میدان میں آگے اور زیادہ مایوس نہ ہوجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں