332

ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین سے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر خصوصی مکالمہ

غازی سہیل خان

رابطہ: (9906664012)

تعارف: ڈاکٹر شیخ شولت حُسین کا تعلق وادی ِکشمیر کے شہر سرینگر سے ہے ۔ڈاکڑ صاحب کشمیر کے ایک سیاسی تجزیہ کار اور انسانی حقوق و بین الاقوامی قانون کے ممتاز ماہرین میں شمار ہوتے ہیں ۔آپ قومی و بین الاقوامی سطح کے حالات و واقعات کا بے لاگ تجزیہ کرنے کے ماہر بھی ہیں ۔موصوف نے مسئلہ کشمیر پر کئی کتابیں تصنیف ضبط تحریر میں لائی ہیں ۔گذشتہ دنوں افغانستان میں امریکہ کی ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کے قبضے کے بعد وہاں کی صورتحال کے حوالے سے غازی سہیل خان نے محترم موصوف سے ایک خصوی مکالمے کا اہتمام کیا جس کو حالات کی اہمیت اور تقاضے کے مطابق محترم قارئین کی نذر کرتے ہیں ۔
سوال:۔امریکہ انٹیلی جنس نے بھی کہا تھا کہ طالبان کم ازکم 90دنوں میں کابل کو فتح کر لیں گے ؟یہ سب اس مختصر وقت میں طالبان کے لیے کیسے ممکن ہو ا؟
جواب©:۔اس کی بُنیادی وجہ یہ تھی کہ جو امریکہ نے وہاں افغانی فوج کھڑی کی تھی وہ دل سے اُس فوج میں شامل نہیں ہوئے تھے ،بلکہ محض نوکری کر رہے تھے اور اُن سے تنخواہ وصول کر رہے تھے وقت آنے پر وہ طالبان کی مخالفت میں کھڑے نہیں ہوئے۔ اور جب امریکی فوجیں وہاں سے چلی گئیں توافغانی افوج نے طالبان کے ساتھ لڑنے سے گُریز کیا بلکہ طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئے اور اُن کو موقعہ فراہم کیاکہ بغیر کسی مزاحمت کے کابل پر قبضہ کر لیں ۔یہی وجہ اور حالات بنے کہ اتنے کم وقت میں طالبان نے ملک پر قبضہ بغیر کسی کشت و خون کے کر لیا۔
سوال:۔طالبان نے عام معافی کا اعلان کر دیا لیکن اس کے باوجود لوگوں کو وہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا کیا وجہ ہے ؟
جواب:۔یہ جو لوگ بھاگ رہے ہیں یہ کسی نہ کسی طرح سے طالبان مخالف سرگرمیوں کا حصہ رہے ہیں اور اب اُن کو احساس جُرم ستا رہا ہے کہ کیا خبرطالبان کی عام معافی کے اعلان باوجود وہ معاف کریں گے یا نہیں کریں گے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں کشمیر میں چونکہ اس کا رجحان کم ہے لیکن کشمیر سے باہر بہت ساری جگہوں پر لوگوں میں یہ امریکہ اور یورپ جانے کا جنون ہے ۔اور اُن لوگوں کی اکثریت پاکستان ،افغانستان اور ہندوستان سے ہوتی ہے یہ وہی جنون ہے کہ افغانی لوگوںکو معلوم ہو ا ہوگا کہ امریکی اس وقت چاہتے ہیں کہ آج جو بھی یہاں سے بھاگنا چاہے اس کو ہم پناہ کے ساتھ ساتھ امریکی گرین کارڈ بھی فراہم کریںگے،اسی گرین کارڈ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بھاگ رہے ہیں ااور یہ جنون بہت سارے ملکوں میں ہے جیسے میکسیکو ،کیوبا ،ہندوستان اور پاکستان میں بڑے پیمانے پر ہے گرین کارڈ حاصل کرنے کے لیے بہت سارے لوگ اپنی جان داو¿ پر لگانے کو تیار ہوتے ہیں۔یہاں تک لوگ اپنے آپ کو ہوائی جہاز کے سامان میں بندھوا دیتے ہیں ،بہت سارے اپنے آپ کوبطور سماجی کارکن پیش کرتے ہیں کہ ہماری جانوں کو خطرہ ہے ہمیں پناہ دی جائے۔ مجموعی طور پر کچھ لوگ ہیں جو ڈر رہے ہیں لیکن زیادہ تعداد اُن لوگوں کی ہے جو گرین کارڈ کے جنون میں افغانستان سے نکل رہے ہیں ۔
سوال:۔ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ،فوجیوں کو بھی معاف کر دیا جائے گا، خواتین کو حقوق، شریعت کے مطابق دئے جائیں گے، لڑکیوں کی تعلیم پہ کوئی پابندی نہیں ہوگی ،میڈیا آزاد ہوگا وغیرہ۔اس تبدیلی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟
جواب:۔اصل میں یہ تبدیلی نہیں بلکہ طالبان یہ سیکھ گئے ہیں کہ دنیا والوں سے بات کس زبان میں کی جاتی ہے ،چونکہ اُن کے خلاف یہ پروپگنڈ ہ کیا جاتا ہے،اسی پروپگنڈے کے اثر کو زائل کرنے کے لیے اُنہوں نے یہ چیزیں لوگوں کو بتا دیں ۔ پہلے پہل جب بھی وہاں عاشورہ کا جلوس نکلتا تھا تو وہاں بم دھماکے اور فائرنگ ہوتی تھی لیکن اس محرم میں وہاں طالبان کو عاشورہ کے جلوس کی حفاظت کر تے ہوئے دیکھا گیا۔چونکہ ماضی میں طالبان کو بہت زیادہ بدنام کیا جاتا رہا ہے جس کے جواب میں آج طالبان نے یہ وضاحت کر دی ہے کہ ہم اصل میں کیا چاہتے ہیں ۔اور آج تک ہمارے خلاف جو بھی بولا گیا وہ غلط تھا۔
سوال:۔ امراللہ صالح اور احمد مسعود وادی ِ پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے جا رہے ہیںاس حوالے سے طالبان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؟
جواب:۔ ماضی میں پنجشیر یا شمالی اتحاد اس وجہ سے کسی حد تک ضروری تھا کہ اُن کو کچھ علاقائی ممالک کی حمایت حاصل تھی مثال کے طور پر ایران پچھلے زمانے میں سمجھتا تھا کہ طالبان جو ہے یہ امریکہ کی پیداوار ہے اس لیے اُن کے مقابلے میں انہوں نے اسماعیل خان اور ہزارا قبائل لوگوں کی حمایت کی۔ اسی طرح روس چونکہ افغانیوں کا ڈھنسا ہوا تھا اُنہوں نے بھی پنجشیر کے علاقے میں شمالی اتحاد کے لوگوں کی حمایت کی ۔
اس وقت ایران ترکی اور روس، طالبان کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رشید دوستم جو ترک النسل ہیں یا پنجشیر کے علاقے میں جو لوگ رہتے ہیں اُن کو تاجکستان کی اور سے حمایت نہیں مل رہی ہے ،اشرف غنی بھی تاجکستان گئے تھے لیکن انہوں نے پناہ نہیں دی اس کے بعد ازبیکستان چلے گئے انہوں نے بھی پناہ دینے سے انکار کر دیا پھر لے دے کے قطر چلے گئے اور قطر میں بھی وہ امریکیوں کے مہمان ہی ہوں گے ۔اور علاقائی جو طاقتیں ہیں ایران، ترکی، روس، پاکستان ان سے شاید کسی سطح پر طالبان کی سمجھ ہے اس وجہ سے ہمیں فرقہ وارانہ مزاحمت کا امکان کم لگتا ہے کیوں کہ ان گروہوں کو باہری مدد کے امکانات بہت کم دکھائی دے رہے ہیں آگے کیا ہوگا وہ ابھی ہم بتا نہیں سکتے ہیں ۔
سوال:۔آ پ کے خیال میں کیا طالبان کشمیر کے مسئلہ میں بالواسطہ یا بلا واسطہ مداخلت کرے گا؟
جواب:۔مجھے نہیں لگتا کہ براہ راست کوئی مداخلت ہوگی اُس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ کشمیر کی کوئی سرحد ملتی نہیں ہے وسط میں پاکستان زیر انتظام کشمیر کا کچھ حصہ ہے اس لحاظ سے مجھے نہیں لگتا کہ براہ راست وہ کچھ کریں گے ۔البتہ ماضی کاایک واقعہ اس تشویش کا بنیادی وجہ ہے۔جب ہندوستان کا ہوائی جہاز ہائی جیک ہوا تو اُس کو قندھار کے ہوائی اڈے پہ اُتارا گیا تھا تو بھارت کو وہی تلخ صورتحال دماغ میں گردش کر رہی ہیں ۔اور یہاں کشمیر میں بھی بُنیادی طور پر یہ چیز آخر کارلوگوں کو سوچنے پہ مجبور کرے گی کہ وہ کس حد تک موجودہ صورتحال پر اطمنان کا اظہار کرتے ہیں ۔جب تک مقامی طور پر عوام ایک نظام سے نالاں نہ ہوں تب تک کوئی ملک یا کوئی طاقت وہاں کے حالات کو متاثر نہیں کر پاتا ہے ۔بُنیادی چیز یہ ہے کہ آپ اپنے گھر کے معاملات دیکھ لیں کہ کشمیر ی عوام کوبھارت کس حد تک اطمعنان میں رکھ سکتے ہیں یہی چیز آگے کے حالات کو بدلے گی۔میں سمجھتا ہوں ابھی کچھ حتمی طور نہیں بتایا جا سکتا اُس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں ابھی حالات پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوئے ۔
سوال:۔اس وقت دنیا کی نظریں افغانستان پر مرکوز ہیں، اور ہر کوئی مضطرب دکھائی دے رہا ہے ۔اس سلسلے میں اب کوئی اور طاقت طالبان کو روکنے کے لیے براہ راست میدان میں آسکتی ہے ؟
جواب:۔مجھے نہیں لگتا ہے ۔کیوں کہ اب دنیا کی جو سب سے بڑی طاقتیں تھیں وہ تو افغانستان میں جا کے اپنے لئے پسپائی اور ذلت کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پائےںہیں خواہ وہ سویت یونین ہو یا امریکہ ۔اب دنیا میں اور کون سی طاقت ہے جو ذلیل ہونے کے لیے افغانستان چلی جائے گی۔ بُنیادی طور سے باہر سے کوئی خطرہ نہ افغانستان کو ہے نہ کسی اور ملک کو جب تک وہاں کا نظم نسق صحیح ڈھنگ سے چلتا رہے اور اگر افغانی ہی آپس میں لڑ پڑے تو پھر باہر کے لوگوں کو موقعہ مل سکتا ہے لیکن آج کی تاریخ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اب کسی میں اتنی ہمت ہے یا کوئی ایسی بے وقوفی کرے گا کہ وہ پھر ہزیمت و ذلت حاصل کرنے کے لیے افغانستان چلا جائے۔ امریکہ پٹ چُکا روس پٹ چُکا،امریکہ نے ہندوستان کو بھی بڑی گزارش کی تھی کہ افغانستان کے جنگ میں شامل ہو جائے لیکن ہندوستان نے بھی احتیاط سے کام لیا۔ لوگ افغانستان جانا بھگت چُکے ہیں اس لئے اُمید نہیں ہے کہ کوئی باہر سے وہاں جانے کی ہمت کرے گا۔ پہلے تو لوگ افغانیوں کے قصے سُنتے تھے لیکن لوگوں نے اب افغانیوں سے لڑتے بھڑتے اپنی پوری طاقت لگا کے دیکھ لی کہ کوئی اُن سے نہ آج تک جیتا ہے اور نہ آنے والے وقت میں جیتے گا ۔تاہم ایک اور چیز ہمیں دماغ میں رکھنی چاہے کہ افغانی مزاج کچھ اس ڈھنگ کا ہے کہ وہ توڑنے میں بہت ماہر ہیں،جنگ میں بھی بہت ماہر ہیں لیکن افہام و تفہیم کے ساتھ حکومت کرنے میں اُن کوپریشانی رہی ہے ۔ ماضی میں افغانستان نے بھی بہت سارے علاقے فتح کیے ہیں، مثال کے طور پر ہندوستان میں ابدالی تھے ،غزنوی تھے یا دنیا کے دیگر حصوں پر بھی افغانیوں نے حملے کئے بلکہ تبت اور سینکیانگ تک انہوں نے ماضی میں حملے کیے ہیں لیکن استحکام کرنے میں اُن میں کوتاہی رہی ہے اور جس انداز میں ترکوں میں استحکام کا مزاج ہے افغانیوں میں اس معاملے میں کمی پائی جاتی ہے۔بھارت میں بُنیادی طور پر جو فتوحات تھیں وہ افغانیوں کو ہی حاصل ہوئی تھیں ۔لیکن جس طرح سے مغلوں نے ہندوستان میں ایک نظم و نسق، ایک سسٹم قائم کر کے دیا افغانی ویسا نظم و نسق قائم نہیں کر پائے ۔افغانیوں کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ وہ گرانے میں ماہر ہیں لیکن انقلاب کو استحکام بخشنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں ۔
سوال:۔طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد آپ کے خیال میں کیا بھارت اور پاکستان کے درمیاں بات چیت کا کوئی امکان ہے ؟
جواب©:۔بات چیت ان کو کرنی چاہے اُس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان ابھی تک دونوں ملکوں کی یعنی افغانستان اور ہندوستان کی سرحدوں پر ایک طرح سے پھنسا ہوا تھا ۔یعنی ہندوستان کی اور سے بھی سرحد پر اُس کو لڑنا پڑتا تھااور افغانستان کی اور سے جو پریشانیاں تھیں اُن سے بھی مقابلہ کرنا پڑتا تھااب چوں کہ وہاں سے امریکی فوجیں روانہ ہو گئی اور اب طالبان طاقت میں آ گیا جن سے پاکستان کے تعلقات کچھ بہتر لگ رہے ہیں اس لیے قدرتی طور پر پاکستان کی ایک مغربی سرحد کی جانب سے اُن پر پریشر کم ہو جائے گا اور اب زیادہ توجہ ہندوستانی سرحد پر دینا چاہیں گے ۔ا س سلسلے میں دونوں ممالک کے لیے بہتریہی ہے کہ بات کریں اور مسائل کا حل نکالیں اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو شاید حالات خراب بھی ہو سکتے ہیں ۔
سوال:۔ افغانستان میں الگ الگ گروہ اور جماعتیں الگ الگ علاقوں میں ہیں ۔کیا طالبان ان سب کوانگیج کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں یا کس حد تک ان کو انگیج کرنا ضروری ہے ؟
جواب:۔اصل میں بُنیادی بات یہ ہے کہ جو لوگ ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے سماجی سطح پر بجز حکمت یار کے باقی لوگوں کی اب عوام کے سامنے وہ ساخت نہیں رہی اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ وہ اب زیادہ اثر افغانستان کی سیاست پر ڈال سکتے ہیں ۔البتہ طالبان اچھا کر رہیں کہ کہ وہ ان سب کو انگیج کر رہے ہیں اُن کی بات سُنتے ہیں پہلے کی طرح وہ ان کی بات کو مسترد نہیں کرتے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف گروہوں کو اپنے ساتھ لے کے چلیں ،تو اس حد تک تو یہ صحیح ہے لیکن ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ طالبان اب فاتح ہے اور دنیا کی ایک بڑی سُپر پاور کو شکست دے کے عظیم فتح حاصل کی ہے ۔اب اُن کا لین دین اُسی تناسب سے بڑھ جائے گا۔ پہلے اُن کی مجبوری تھی کسی سے بات کرنااب شاید دوسروں کی مجبوری ہے کہ اُن سے بات کریں ۔اور آخر کار اسی بات پر ہر چیز کا انحصار ہوگا کہ جو سسٹم اُنہوں نے اُکھاڑ دیا ہے اور اب دوسرا نظام لانے کا دعویٰ کیا ہے وہ نظام کس حد تک اچھے ڈھنگ سے چلانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں یہ دیکھنے والی بات ہو گی ۔اگر وہ ناکام ہو گئے خدا نخواستہ خود اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے تو دوسروں کو موقعہ ملے گا طالبان کے خلاف مزاحمت بڑھ سکتی ہے ۔
سوال:۔افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد وہاں کی جیلوں سے داعش ،القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے جنگجو فرار ہو گئے جس سے دنیا میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً ایک تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ پاکستان کے حالات کو کس حد تک جنگجوﺅں کا وہاں سے فرار ہونا متاثر کر سکتا ہے ؟
جواب:۔خالی حوصلے کچھ نہیں کر تے جب تک نہ ان کو کسی کی پشت پر کسی کی حمایت نہ ہو۔چونکہ افغانستان پر آج تک حکومت ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو امریکی حمایت یافتہ تھے اورپاکستان سے ایک مخاصمت کرتے تھے تو وہ ہی ٹی ٹی پی کی مدد کر رہے تھے ۔اب اس بات پر منحصر ہوگی کہ افغانستان میں حکومت کیسی آتی ہے اگر حکومت ویسی ہی آگئی جیسے آج اُن کا رخ و انداز ہے تو مجھے نہیں لگتا کوئی زیادہ بڑے پیمانے پر یہ جنگجو منظم ہو پائیں گے ۔البتہ اگر افغانی پھر آپس میں لڑتے بھڑتے رہے اور مرکزی حکومت کا کنٹرو ل سبھی علاقوں پر نہیں رہا تو کچھ علاقوں میں اُن کو پناہ مل سکتی ہے اور مسائل کھڑے کر سکتے ہیں جو اپنے ہمسایہ ممالک ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے کے لئے مشکل پیش آ سکتی ہے ۔لیکن اس وقت ہمیں اس بات کی توقع نہیں کہ یہ جو لوگ جیلوں سے نکل گئے ہیں کوئی بڑی مزاحمت کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں ۔
سوال :۔طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد آپ کے خیال میں دنیا کے منظر نامے پہ کون سی بڑی تبدیلی آنی متوقع ہے ؟
جواب :۔ایک اہم ترین تبدیلی جو ہو گئی وہ یہ ہوگی کہ جو یہ امریکہ کی ہوا بہت سارے ممالک پر بنی ہوئی تھی وہ ہوا اب اُکھڑ چُکی ہے۔اور جو لوگ امریکہ کو سپریم پاور سمجھ کے اُس کی ’جی حضوری‘ میں لگے ہوئے تھے یا تو وہ خود سے اپنے اُس رویے پر سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے یا انہیں بھی وہی پسپائی دنیا کے مختلف محازوں پر اُٹھانی پڑے گی جو امریکہ نے اُٹھائی ہے کیوں کہ کچھ ممالک میں اتنا زور نہیں تھا لیکن امریکہ کے حواری بن کے وہ دوسروں پر زور جتا رہے تھے تو جب امریکہ ہی پٹ گیا تو حواریوں کا حشر کیا ہوگا آپ خود انداز کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بہت سارے ممالک کے تیور اب بدل رہے ہیں۔ سعودی ،ہوں یا دیگر ممالک ہوں جو امریکہ کے حاشیہ بردار بنے ہوئے تھے وہ بھی اب سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ان کا رویہ صحیح تھا یا نہیں۔ دوسرا جو اُن کے اعصاب پر یہ بیٹھا ہوا تھا کہ اگر امریکہ اُن کی حفاطت کر سکتا ہے وہ چیز بھی اُن کے اعصاب سے اُتر جائے گی ۔اور ان ممالک پر امریک کا اثر ختم ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں