166

٥ ستمبر — یوم اساتذہ  کے موقع  پر… یادیں  باتیں

 درسگاہ : شخصیت سازی کا اہم  مرکز ؟

  

رئیس  صدیقی

میرے لئے یہ جذباتی  اور سنہرا موقع ہےکہ میں آج اپنے ان دنوں کو یاد کر رہا ہوں جب میں نے لکھنؤ یونیورسٹی  سے  بی  اے  اور کانپور یونیورسٹی سے بی  ایڈ  کرنے کے  بعد، ١٩٨٠ میں دھلی  کا رخ کیا تھا -اس دور میں بھی روزی روٹی  حاصل کرنا بہت دشوار تھا- آج کی  طرح روزگار کے  مواقع  نہیں تھے کیونکہ  اس وقت  کارپوریٹ کی دنیا آج کی طرح  وسیع  و عریض  نہیں تھی – تعلیم یافتہ  نوجوانوں کو زیادہ تر سرکاری ملازمتوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا  اور سرکاری ملازمتیں ہی تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے معراج   تھیں  –           دلّی  آکر میں نے بھی نوکری تلاش  کرنے کی جد  وجہد    شرو ع   کی – ابتدا  میں دلّی  کے شاہدرہ  علاقہ میں ایک  کوچنگ  سینٹر  میں انگریزی  پڑھانا   شرو ع  

 کیا  لیکن اس سے اتنی آمدنی نہیں تھی کی کمرہ کا  کرایہ   اور کھانے -پینے کا معقول بندوبست ہو سکے – لہذا روزگار دفتر میں  TGT اور LT  ٹیچر کے عہدہ  کے لئے رجسٹریشن  کرایا – ١٩٨٣ میں دھلی   ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ  سے  انٹرویو لیٹر  ملا  اور ٢٤ اگست ١٩٨٣  کو تقررنامہ   لیکر جب میں راشٹرپتی بھون سے ملحق  پریذیڈنٹ  اسٹیٹ میں  واقع پریذیڈنٹ  اسٹیٹ اسکول 

 (President’s Estate School, Government Co Ed Sr.Sec.School)   پہنچا تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا     کیونکہ  یہ اسکول  کئی ایکڑ  زمین میں پھیلا ہوا  تھا – برا بھرا، بڑا سا کھیل- کود  کے لئے میدان ، ایک منزلہ عمارت  میں بہت سے کمرے ، ہر کلاسس روم میں اسپیکر اور دیگر سہولیات سے مزین  کسی بھی آج کے  بڑے پبلک اسکول سے ہمارا اسکول کم نہیں تھا –

         درحقیقت یہ اسکول، پریذیڈنٹ اسکول / پریذیڈنٹ  اسٹیٹ اسکول / راشٹرپتی  بھون اسکول کے نام سے مشہور تھا  اور اس اسکول  میں راشٹرپتی بھون میں کام کرنے والے  ملازمین اور  افسران کے  بچوں کے علاوہ ، وزیر ، ایم پی  ، ایم ایل اے  و  پارشد اور بہت  بڑے بڑے  افسروں کے    بچے پڑھتے تھے – یہاں داخلہ ملنا مشکل ترین  کام تھا  کیونکہ  یہ  کےجی  ، پرائمری ، مڈل ، سیکنڈری  اور سینئر  سیکنڈری   کو- ایڈ  اسکول  ہے     – 

     اب اس اسکول کا نام ڈاکٹر راجندر پرساد  سروودے  اسکول ہے –

     اس اسکول کو میں کبھی نہیں بھول سکتا ہوں کیونکہ  اس اسکول نے مجھے بے  شمار یادگار مواقع  فراہم کئے  ہیں اور  میری شخصیت کی تعمیر میں  نا  قابل  فراموش کردار ادا کیا ہے –

       ٹیچر  بننے  سے پہلے ، میں آل انڈیا ریڈیو میں عارضی  اردو / ہندی نیوز ریڈر ،  آنااونسر ، ڈرامہ وائس آرٹسٹ ، کہانی ، ڈرامہ  اور ٹاک  رائیٹر کی حیثیت سے جاتا رہتا تھا-  شاید  اس لئے پرنسپل نے مجھے چار  Houses کا چیف  ہاؤس ماسٹر اورڈسپلین  انچارج بنا دیا – اس  اضافی عہدہ  سے مجھے خود کو منظّم  و مثالی اور  طلبہ و طالبات کو ڈسپلن  میں رکھنے اور مختلف ثقافتی  سرگرمیوں کی جانب انہیں  راغب کرنے کی مجھے  بلواسطہ تربیت ملی – 

       میں  بچوں کو آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن کے مختلف پروگراموں میں شرکت کے لئے لیجاتا تھا جسکی  وجہہ  سے میرے اور طالب عالموں کے مابین مزید  پر خلوص رشتہ  قایم ہوا – آج بھی بہت سے طالب علم مجھے سوشل میڈیا  کے  ذریعہ  یاد کرتے رہتے ہیں-

میں  اس اسکول میں مڈل کلاس میں اردو اور نویں و دسویں کلاس  کو انگریزی پڑھا تا تھا- سال ١٩٨٥-٨٦  میں دسویں کلاسس کا سو فی صد   ( % 100 )  نتیجہ   دیا تھا  – اس محنت کا فایدہ یہ ہوا کی   ١١ ویں اور ١٢ ویں کے خالی پیریڈ میں مجھے انگیزی پڑھانے   کا موقع ملا جسکا مثبت نتیجہ یہ نکلا  کی مجھے دوردرشن میں  اسکول  ٹی- وی  کے انگریزی پروگراموں میں  بطور ایکٹر کئی  بار  کام کرنے کا موقع ملا – 

مزید براں ، چیف ہاؤس ماسٹر ہونے کے  ناطے ،   میں  ٩ویں  و ١١ ویں کے طالب علموں کو لیکر  Trekking  کے لئے  تروندرم سے کنیا کماری ، کولھائی   گلاشیر  کشمیر،  مصوری اور راک  کلائمبنگ Rock Climbing  کے لئے نوح  ہریانہ جانے کا موقع ملا – 

       طلبہ کے ساتھ  طالبات کا  ساتھ  ساتھ ہونا، میرے لئے بہت نازک اور اہم  زممیداری ہوتی ، میں خود بھی جوان تھا ، ایسی حالت میں سبھی لڑکے لڑکیوں کو جو ہر طرح   سے بالغ تھے ،  ڈسپلن  میں رکھنے کا  نظم و نسق سیکھا- اس زممیداری سے میرے اندر نفس پر قابو پانا، قوت برداشت ، صبر ، تحممل، نظم و ضبط اور تناؤ پر غالب رہنے  نیز  میرے اندر  تدبیرانہ  صلاحیت  کا اضافہ ہوا- 

      یونیسکو  اور گاندھی درشن پر مبنی معلومات عامّ   کے امتحانات کا بندوبست کیا  جس سے انتظامی صلاحیت  کو جلا ملی  – ریاستی اور قومی پیمانہ پر مختلف ثقافتی پروگراموں ،  اسٹیج ڈرامے   اور کھیل کود  میں  طالب علموں  کے ساتھ شرکت کی – میری ٹیم اور بذات خود  کی زمروں میں بہت  سے    انعامات جیتے- ان سرگرمیوںنے      میری شخصیت کو خود پر یقین ، اعتماد واعتبار او بھروسہ کو  بخشہ  کیا- شخصیت سازی کا یہ عمل میرے لئے آگے چل کر، اانڈین براڈکاسٹنگ سروس ،

 ( Indian  Broadcasting Service , AIR / DD ) یعنی آکاشوانی دلی کا شعبہ اردو مجلس ، آل انڈیا ریڈیو کی بیرونی نشریات ،انگریزی سروس ، ہندی  سروس و اردو سروس  اور  دوردرشن کا ڈی ڈی اردو و دوردرشن نیوز اور آکاشوانی بھوپال کے سربراہ کی حیثیت سے پرخارملازمت کے دوران میرے لئے  بہت کارآمد ثابت  ہوا – 

  بہ طور استاد ،  یہ  میرا پہلا اور آخری اسکول، تعلیمی درسگاہ  مجھے  ہمیشہ یاد رہے گا  کیونکہ  یہ میرا اسکول میرے لئے ٢٤-٨-١٩٨٣- سے ١٣-١٢-١٩٩١ تک ، نہ صرف میرا  زریعہ معاش  تھا   بلکہ  میری شخصیت کو مختلف  سماجی  اور انتظامی اوصاف سے مزین کرنے کے لئے میرا گرو ، میرا استاد بھی تھا اور استاد کو نہ کبھی بھلایا جا سکتا ہے اور نہ کبھی اسکا احسان  ااتاراجا سکتا ہے!!! 

  (رئیس  صدیقی آکاشوانی / دوردرشن دھلی / بھوپال  کے سابق  آیی بی ایس  افسر اور ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ و دلی اردو  اکادمی ایوارڈ سے سرفراز پندرہ کتابوں کے مصنف ،مولف ، مترجم ،افسانہ نگار ، شاعر و ادیب  اطفال ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں