89

کشمیر کی یونیورسٹیوں میں نشستیں خالی کیوں!

ڈاکٹر محی الدین زورؔکشمیری

We must accept finite disappointment but never lose infinite hop – (Martin Luther King)
آجکل کشمیر میں یہ خبر عام ہے کہ یہاں کی یونیورسٹیوں میں نشستیں خالی رہ جاتی ہیں کیونکہ اب یہاںکے طلبہ داخلہ ہی نہیں لے رہیں ہیں، اس پر طرح طرح کے لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور کئی سرخیوں میں یہ بھی کہا گیا کہ گورنر کو اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لینا چاہئے۔!
مجھے ہنسی آجاتی ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے ہمارا اپنا مسئلہ ہے جب ہم ایسے مسائل کا کوئی حل ڈھونڈلیں گے، تب جاکر اعلا حکام تک بات پہنچائی جا سکتی ہے۔ دوم یہ بات بھی اہم ہے کہ اس مسئلے پر بات کون کرتا ہے اور کس کو کر لینی چاہئے۔ مجھے یاد آگیا کہ کالج کے ایک عربک پروفیسر صاحب نے درس و تدریس کی طرف توجہ کم دے کر مولوی گی اور وعظ خوانی کے پیشے کے ساتھ کچھ زیادہ ہی ناطہ جوڑ لیا۔ اس کے ہم کار درس و تدریس کے ساتھ ساتھ امتحانی پرچوں کی جانچ وغیرہ بھی کرتے تھے جوکہ ان کا فرض منصبی ہوتا ہے۔ تو موصوف پروفیسر صاحب اکثر وعظ شریف میں فرماتے تھے کہ اب تو ہمارے مدرس پیسے کےپیچھے کچھ زیادہ پڑے ہیں۔!
تو میں نے جناب سے کہا گستاخی معاف حضور امتحانی پرچوں کی جانچ اگر ایک مدرس نہیں کرے گا، تو امتحانی ادارے کو ان کی جانچ کے لئے میونسپلٹی کے لوگوں کو لانا پڑے گا۔ میرے کہنے کا یہاں یہ مقصد ہے کہ اگر محولہ بالا تشویشناک مسئلے پر تعلیم والے غور نہیں کریں گے، تو اور کون کر سکتا ہے۔ اب جو غیر تدریسی لوگ بات کر رہے ہیں، ظاہر سی بات ہے اس سے کوئی ٹھوس حل مسئلے کا سامنے نہیں آسکتا ہے، بلکہ طلبہ اور ان کے والدین گمراہ ہو سکتے ہیں۔
تعلیم کا مقصد اندھیرے سے نکل کر روشنی کی جانب قدم بڑھانا، زندگی کی مجموعی طور پر نشونما، کوئی ہنر یا تربیت وغیرہ بھی لیا جا سکتا ہے، لیکن جُوں جُوں ہم تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتے جاتے ہیں اس کے معنی اور مفہوم میں بھی وسعت پیدا ہو سکتی ہے یا دوسرے معنوں میں ہم کہیں گے کہ اعلا تعلیم پڑھنے کا مقصد ایک طرف دریافت، کوئی نئی ایجاد کرنا یانئے نئے خیالات کاجنم دینا ہوتا ہے۔ اور جب ہم طلبہ/اسکالرس کی اعلا تعلیم کی بات کرتے ہیں وہاں سب سے پہلے ان کے روزگار کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے اور جب ایک انسان کو اچھا خاصا روزگار مہیا ہوتا ہے تب جاکر وہ دوسروں کے لئے کچھ کنٹربیوٹ کرپاتا ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ جتنا انسان اعلا تعلیم حاصل کر لیتا ہے اتنا ہی وہ بہت سارے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے معزور بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے گا، تو پچھلے کئی برسوں سے یہاں اعلا عہدوں کی نوکریاں آٹے میں نمک کے برابر نکالی جاتی ہیں۔ یوں تو ہمارے پاس تین سرکاری محکموں میں نوکریاں ملنے کے زیادہ مواقعے ملتے تھے (1) فورس (2) صحت کا شعبہ (3) تعلیم کا محکمہ۔
فورس میں اعلا تعلیم کی کم بلکہ جسمانی صحت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور صحت کا شعبہ اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو کسی نہ کسی صورت میں لگا ہی لیتا ہے۔ اب جہاں تک کہ شعبہ تعلیم کا تعلق ہے۔ اس میں رہبر تعلیم اسکیم کے بعد سرکاری اسکول بند ہونے کی اسکیم چلی اور ہائر اسکنڈریوں میں اسکولوں میں اضافی اسٹاف سے کام چلایا گیا۔ پھر جس قدر ہمارے یہاں نئے نئے کالجز کھولے گئے ٹھیک اسی قدر نئے نئے پوسٹس createنہیں کئے گئے، بلکہ زیادہ تر کام contractپر ہی چلایا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کاروبار پہلے سے ہی زوال کا شکار ہے اور نئے نئے کارخانے لگنے کے چانسز بھی یہاں نہیں ہیں کیونکہ یہاں کے جغرافیائی حالات کچھ اور ہیں۔ ادھر کشمیر کے اکثر لوگ ماں کے لاڈلے ہوتے ہیں، جو اس ماں دھرتی کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ان وجوہات کی بنا پر ان کی سیدھی نظر اعلا تعلیم پر ہوتی ہے تاکہ وہ اچھی خاصی نوکری حاصل کر لیں گے، جو بےچاروں کوآج کے دور میں ملتی نہیں کیونکہ ڈگری یا فتہ لوگوں اور نکلنے والی اسامیوں کے تناسب میں بہت فرق ہوتا ہے۔
الغرض اب ہمارے طلبہ یہ جان گئے ہیں کہ یونیورسٹی جائیں تو کس کےلئے۔ اگر ڈگری ہی لینی ہے تو وہ بہ آسانی اگنو کارسپانڈنس سے مل جاتی ہے۔ یہاں کے بہت سارے طلبہ باہر کی یونیورسٹیوں اور پروفیشنل اداروں میں پڑھتے ہیں۔ وہ کیوں۔ یہاں کی یونیورسٹیوں اور پروفیشنل کالجوں میں نشستوں کی کمی کی وجہ سے۔ یہاں کے نامساعدحالات اور ڈگریوں میں تاخیر کی وجہ سے۔ یہاں کے لوکل ماحول میں ایک اعلا تعلیم یافتہ اسکالر کی شخصیت میں کچھ زیادہ نکھار نہیں آجاتا ہے۔ دوسرے معنوں میں ہم کہیں گے یہاں ایکسپوژر کی کمی رہتی ہے۔ یہاں کے تعلیمی ادارے بہت کم نمبرات دیتے ہیں۔کشمیر سے باہر کھلے عام تھیسز لکھوانے کے مراکز موجود ہوتے ہیں اور وائیوا فکسنگ بھی پیشہ وارانہ طریقے سے کروائی جاتی ہے۔ جبکہ کشمیر میں یہ تمام سہولیات خواص کوہی دی جاتی ہیں! واہ میرے ڈاکٹرو! جبکہ دو تین یونیورسٹی کو چھوڑ کر باہر دل کھول کر نمبرات دئے جاتے ہیں یعنی اخروٹ بادام زعفران شال وغیرہ تحفہ دینے کے حساب سے بھی وہاں نمبرات حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح اگنو میں صفحات کی بھرتی کے مطابق نمبرات دئے جاتے ہیں اور مانو والے بغیر پیپر دیکھے بھی اچھے خاصے نمبرات دیتےہیں تاکہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؔ شرمندہ ہو جائے گا۔ تو اس طرح ہم کہہ سکتےہیں کہ جب یہی بھاری بھرکم نمبرات والے امیدوار یہاں کسی بھی نوکری کے لئے فارم بھرتے ہیں۔ پھر اس کی میرٹ لسٹ بنتی ہے تو کشمیر کی یونیورسٹیوں یا تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ پہلے ہی گرائے جاتے ہیں کیونکہ یہاں کے پچاس ساٹھ فیصد نمبرات حاصل کرنے والے باہر کے نوے پچانوے فیصد والے نمبرات کی لسٹ میں کیسے آسکتے ہیں؟۔ اس کے علاوہ جہاں تک کہ میں نے ایکسپوژر کی بات کی ہے۔ باہر پڑھنے سے واقعی بول چال اٹھنے بیٹھنے۔۔۔ اور بھی بہت ساری چیزوں کی جانکاری حاصل ہو جاتی ہے اور یہاں پانچ ہی بچے شام اور اندھیرا ہو جاتا ہے۔ ہم خفت پڑتے ہیں۔اگلے دن برف باری۔۔۔ پہلے ہڑتال اور ہم کُم کرن کی نیند سوتے تھے۔!
یہ بات بھی صحیح ہے کہ یہاں جب انٹرویو کے لئے ایکسپرٹس باہر سے بلائے جاتے اور وہ لوگ اُمیدواروں سے سانٹھ گھانٹھ کرکے رکھتے ہیں۔۔۔ باقی خدا جانتا ہے۔ ! پچھلے کئی برسوں سے جے کے پی ایس سی نے لیکچرار شپ اور اسسٹنٹ پروفیسر اسکریننگ ٹیسٹ کے لئے ایسے پیپرس سیٹ کروائے جو یو جی لیول کے ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک پی ایچ ڈی وغیرہ کا کوئی value نہیں ہے۔ اس چیز نے ہمارے اسکالرس کو کچل دیا۔
کشمیر کے اعلا تعلیمی اداروں میں طلبہ سے فیس بہت زیادہ لیا جا رہا ہے اور اس حساب سے سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ کہیں سہولیات ہے ہی نہیں اور اب اگر کہیں ہیں، تو وہاں انہیں قارون کے خزانے کی طرح چھپایا جا رہا ہے۔ جیسے IUST میں ایم اے عربک کے لئے لاکھوں روپیہ فیس لیا جا رہا ہے۔ سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں گاڑی کا کرایہ حد سے زیادہ ہے۔کشمیر یونیورسٹی میں طلبہ/اسکالرس اسکالرشپ ہڈپ لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس باہر کی بیشتر یونیورسٹیوں میں کوئی نہ کوئی اسکالر شپ دی جاتی ہے۔ حد یہ ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں برسوں سے JRF امیدداروں کو بھگایا جاتا ہے اور پھر وہ لوگ باہر کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کا پیسہ مرکز سے آتا ہے نہ کہ کسی پروفیسر کے جیب سے نکلتا ہے۔ چاچا بھتیجا کا رشتہ ہر یونیورسٹی اور ہر خود مختار ادارے میں ہوتا ہے اور اس ضمن میں کشمیر کی یونیورسٹیاں یہاں کے سیاسی اور جغرافیائی حالات کا کچھ زیادہ ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی لئے سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کو کشمیر یونیورسٹی کا Extension کہا گیا۔ یہاں ہر کسی کے لئے دروازے کھلے نہیں ہیں۔ مفتی سعید نے اپنی سیاست چلاکر IUST میں اپنی مخلوق کی شروعاتی بھرتی خوب کی اور عمر عبداللہ نے سنٹرل یونیورسٹی کی بنیاد ہی اپنے سیاسی فائدے کے لئے ڈالی، حالانکہ انہیں خود کو وہاں سے بیروہ بھاگ کے آنا پڑا اور چونکہ اس کی لوکیشن دلدل زمین میں ہے جہاں عمارتیں دھنس جاتی ہیں اور وہ کشمیر کی مرکزی جگہ نہیں، نہ وہاں ہوسٹل سہولیات ہیں۔ اس لئے طلبہ وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔ چونکہ کشمیر میں جتنی یونیورسٹیاں ہیں وہاں مجموعی طور پر ایک ہی کلچر پنپ رہا ہے۔ حالانکہ ہم سنٹرل یونیورسٹی سے امید کرتے تھے کہ وہاں کچھ نیا سامنے آجائے گا، مگر ہماری بدقسمتی سے کچھ بھی نیا نہیں آسکا۔ خاص کر یہاں کے پروفیسر صاحبان اپنے طلبہ/اسکالرس سے بہت بدسلوکی کرتے ہیں۔ وہ لوگ اپنی پروفیسری کا کچھ زیادہ ہی دم بھرتے ہیں اور اسکالرس کے مستقبل کو بنانے سنوارنے کے بجائے انہیں بگاڑنے کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں۔ ایک وہ دور بھی تھا جب کشمیر یونیورسٹی میں پیمنٹ بنیادوں پر ایڈمشن کروایا جاتا تھا ۔
اس سارے کے باوجود بھی ہم ایک کشمیری محاورہ کہیں گے "اگر اپنا قتل بھی کرے گا، تب بھی وہ ہمیں چھاؤں میں ہی دفنا دے گا”۔ اس لئے کشمیر کے تمام تعلیمی اداروں اور یہاں کے طلبہ اسکالرس کے لئے ہم اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں